سچی کہانیاں

کل بھی بھٹو زندہ تھا ، آج بھی بھٹو زندہ ہے

منصور مہدی
zulfiqar aliمیرے بچپن کی بات ہے ، جو مجھے اب بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میں جس شہر یا گاﺅں بھی گیا تو مجھے وہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی کو چاہنے والے ملے۔ ان میں ہر طرح کے لوگ ہوتے تھے جبکہ ان میںمزدور ، ہاری، تانگے والے اور غریب لوگوں کی اکثریت تھی۔اس کی وجہ اس پارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو شہید تھے۔ جن کی کرشماتی شخصیت اور جادوئی باتوں نے عوام کو اپنے سحر میں لے رکھا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ’اسلام ہمارا مذہب، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہے‘ کا منشور لے کر30 نومبر1967 ء کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور ‘روٹی کپڑا اور مکان’ کا نعرہ لگایا ۔جو جلد ہی ایک ا نقلابی عوامی جماعت کا روپ دھار گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی اب 45برس کی ہو گئی ہے۔ اس عرصے میں اس نے چار فوجی آمر دیکھے ہیں۔جن میں سے دو فوجی آمروں یعنی جنرل ایوب خان اور جنرل ضیا الحق کی شدید مخالفت کی اور اس باعث شدید تکلیفیں برداشت کی ۔ حتیٰ کہ اپنے بانی کو پھانسی پر چڑھتے ہوئے بھی دیکھا۔جبکہ دو آمروں یعنی جنرل یحیٰی خان اورجنرل پرویز مشرف کے لیے اس پارٹی نے نرم گوشہ اختیار کیا۔چار مرتبہیہ جماعت برسر اقتدار آئی اور تقریباً30برس تک حزب مخالف کا کردار ادا کیا ہے۔
ذولفقار علی بھٹو کی باتوں نے پاکستان کی پسی ہوئی اکثریت کو ایک نیا حوصلہ دیا تھا۔ اُس دور میں کسی غریب اور چھوٹے کام کرنے والے سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تھی کہ ان کی وابستگی کس سیاسی جماعت سے ہے اور نہ ہی یہ پوچھنے کی کہ ان کا لیڈر کون ہے؟ کیونکہ سب کو پتا تھا کہ کون سی جماعت ہے اور کون لیڈر ہے۔ چنانچہ جونہی یہ جماعت انقلابی تحریک میں تبدیل ہوئی توحکمران طبقات اور سامراجی آقاو¿ں نے اس انقلابی تحریک کا زور توڑنے اور اسے زائل کرنے کے لیے انتخابات کی جانب اس کا رخ موڑنا چاہا۔
1970ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان اور شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان مین اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور انتخابی سیاست پر چھائے ہوئے روایتی سرمایہ داروں ، جاگیر داروں اور اشرافیہ کا تختہ الٹ دیا۔ مگر اشرافیہ نے اکثریتی پارٹیوں کو اقتدار دینے سے انکار کر دیا۔ اس انقلاب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جنگ اور پاکستان کی تقسیم کا سہارا لیا گیا۔جس کا نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شکل میں نکلا۔ اس مشکل صورت حال میں پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالی اور ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی۔بھٹو نے حکومت سنبھالتے ہی فوری طور پر صحت، تعلیم، لیبر، زمین اور معیشت اور سماج کے دیگر کئی شعبوں میں انتہائی ریڈیکل اصلاحات کیں۔
تاہم جوں جوں یہ جماعت جوان ہوتی گئی ، اسی طرح بدلتی بھی رہی ۔ 45سالوں میں یہ مختلف نظریاتی راستوں سے ہوتی ہوئی کارپوریٹ دنیا میں داخل ہوچکی ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا کوئی بھی جماعت ہو۔وقت ہر ایک کو بدل دیتا ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی کانگریس پارٹی کے لیے آج نہرو کا سوشلزم اتنا ہی اجنبی ہے جتنا کہ نہرو کے دور میں آج کی سرمایہ دار دنیا اجنبی تھی۔ہمارے دوسرے ہمسایہ ملک چین کی کیمونسٹ پارٹی کل کیا تھی اور آج کیا ہے؟۔
1988ءکے انتخابات، 1993ءاور2008ءکے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ پیپلز پارٹی میں ابھی بھی یہ کشش پائی جاتی ہے کہ جو بھی اس سے وابستگی اختیار کر تاہے ،تو یہ اس کے دل میں جا بستی ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی عام معنوں میں کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ یہ ایک خاندان کے عشق میں مبتلا ہجوم کا نام ہے۔ وہ خاندان کہ جس کے نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں نے بھی اس ملک اور جمہوریت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ آج بھی وہ قوتیں اس جماعت کے درپے ہیں کہ جنہوں نے ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا ، تو ایک بیٹے کو دیار غیر میں مروا یا، دوسرے کو سرعام گولی مار دی اور بیٹی کو بم سے اڑا دیا۔
جب میں ان قوتوں کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تعاقب میں دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے۔ کہ اب بابا اب اس میں کیا رکھا ہے، جو اس کا پیچھا کیے جا رہے ہوں۔ پہلے تو ڈاکٹر مبشر حسن ، غلام مصطفیٰ جتوئی، ممتاز بھٹو، غلام مصطفیٰ کھر، شیخ رشید، ڈاکٹر غلام حسین، عبدالحفیظ پیرزادہ جیسے قد آور لوگ تھے ، اب تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے ہی ہیں ، جیسے ہر پارٹی میں۔آج کی پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بانی کے نظریات پر اتنی ہی عمل پیرا ہے کہ جتنا آج کی مسلم لیگ کاتحریک پاکستان کے ورثے سے تعلق ہے؟،یا عوامی نیشنل پارٹی کا باچا خان کی سوچ یا جماعت اسلامی کا مولانا مودودی کے افکاروں سے ناطہ ہے؟
پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے اور پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کی تائید اب بھی حاصل ہے۔اس کا عرصہ اقتدار اگرچہ بہت کم اور مشکلات سے بھرا پڑا ہے مگر اس دوران اس نے بڑی بڑی اور دوررس کامیابیاں حاصل کی ہےں۔
٭    عام لوگوں کو سیاسی شعور اور جینے کا ڈھنگ دیا۔
٭    ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک متفقہ آئین بنایا گیا اور نافذ کیا گیا۔
٭     پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کیا گیا۔
٭    سٹیل مل کراچی، ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا شروع کیں۔
٭     مزدوروں کے حقوق کے لیے قانون سازی سمیت متعدد ترقیاتی کام کیے گئے۔
٭    اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد کی۔
٭    1971ء کی جنگ کے بعد بھارت کی قید سے 90 ہزار فوجیوں کو رہا کروایا۔اور ہزاروں کلومیٹر رقبہ سے بھارت کا قبضہ ختم کروایا۔
٭    نئے ادراروں کی بنیاد رکھی۔
٭    جدید دفاعی میزائیل ٹیکنالوجی کا آغاز کیا۔
٭     اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دو، دو مارشل لاﺅں کے زیر عتاب آئے ہوئے ائین پاکستان کو اپنی اصل شکل میں بحال کیا اور آمروں کے حاصل کردہ اختیارات کو واپس جمہوریت کے حوالے کیا۔
٭     این ایف سی ایوارڈ پر عملدرامد اور صوبائی خود مختاری دی گئی۔
٭    سنگا پور کی بے عمل کمپنی سے گوادر بندرگاہ کو واپس لیکر ہمسایہ اور آزمودہ دوست ملک چین کے حوالے کیا۔
٭    پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع کی۔
٭    ملکی تاریخ میں یہ اعزاز بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو ہی ملا ہے کہ جس نے اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے ایسے کام بھی کیے جن کی وجہ سے یہ تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔
٭    سوشلزم کا نفاذ صنعتوں پر سوچے سمجھے بغیر کیا گیا۔
٭    جاگیر داروں کو پارٹی میں لایا گیا۔
٭    سیاسی مخالفتوں کو دشمنی سمجھ لیا گیا۔
٭    جنرل ضیاالحق کو فوج کا سربراہ تعینات کیا گیا، پیپلز پارٹی کی یہ غلطی ویسی ہی تھی کہ جیسی غلطی مسلم لیگ ن نے فوجی قیادت کو از خود تبدیل کر کے کی تھی۔
٭    حماعت کو موروثی جائداد کے طور پر چلایا گیا اور جماعت کے اندر انتخابات سے رہنما چننے کا جمہوری طریقہ نہیں اپنایا گیا۔
٭     دورِ اقتدار ہی میں بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا، نیپ کی حکومتیں ختم ہوئیں، مفتی محمود اور خان عبدالولی خان سمیت بھٹو کے کئی مخالفین کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
٭     پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت گورننس، مہنگائی، کرپشن، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل پر قابو نہیں پاسکی اور عوامی توقعات پر پوری نہیں اتری۔
اب پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذولفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو نہیں رہے۔اب یہ بھٹو خاندان سے نکل کر زرداری خاندان میں چلی گئی ہے۔جب 27دسمبر2007ءکو بے نظیر بھٹو کو ایک خود کش حملے میں شہید کر دیا گیا تو
ایسے میں پارٹی کی قیادت ان کے شوہر آصف علی زرداری نے سنبھالی۔اگرچہ ان سے کئی لوگ ناراض ہوئے۔ ابتدا میں تو مخدوم امین فہیم بھی ناخوش تھے لیکن بعد میں انہوں نے وزارت لے لی۔ میاں رضا ربانی سینیٹ چیئرمین نہ بنانے پر ناراض ہوئے لیکن آئین میں ترمیم، پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کی سربراہی سمیت اہم ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے۔ ججوں کی بحالی کے سوال پر اعتزاز احسن پارٹی قیادت سے دور ہوگئے لیکن بعد میں حکومت اور عدلیہ میں پل کا کردار بھی ادا کرتے رہے۔
لیکن آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اور اپنی سیاسی بصیرت سے نہ صرف پاکستان میں جمہوری عمل کو جاری رکھا بلکہ تمام مخالف سیاسی چالوں کو ناکام بنایا اور یہ ثابت کر دیا کہ "ایک زرداری سب پر بھاری”
پاکستان پیپلز پارٹی اب اقتدار سے باہر آچکی ہے اور اس نے چند روز قبل ہی اپنا انتخابی منشور بھی جاری کیا ہے۔یہ منشور محترمہ بے نظیر بھٹو کے تیار کردہ سال 2008ءکا ایک متاثر کن دستاویز ہے۔ اگرچہ منشور سے انتخابات نہیں جیتے جاتے اور نہ ہی عام ووٹرز انھیں پڑھتے ہیں۔ اس کے باوجود بھی وہ سب اس سارے عمل کا ناگزیر حصہ بنے ہوتے ہیں کہ جسے اقبال جمہوری تماشہ کہا کرتا تھا۔اس منشور میں پاکستان کی آئندہ نسل کے روشن اور محفوظ مستقبل کے لیے غیر مشروط ضمانت دی گئی ہے۔ اگر پاکستان پیپلز پارٹی اقتدارمیں پھر ایک بار واپس آجاتی ہے تو اس کے پاس واضح انتخاب موجود ہے۔ یہ انتخاب ہے قائداعظم کے پاکستان اور مذہبی شدت پسندوں اور مرکز گریز قوتوں کے درمیان، “ایک متحرک، متحمل اور مضبوط وفاق”اس منشور کودوام بخشنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس دو انمول اثاثے بھی ہیں ۔ جن میں ایک بھٹو کا ورثہ اوردوسرے جماعت کا یہ پہلو کہ یہ واحد اور حقیقی معنوں میں ایک قومی پارٹی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے کہ جو مجموعی طور پر ہر انتخابات میں دیگر جماعتوں سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے۔ آج بھی یہ جماعت ملک کی تمام اکائیوں میں ایک ایسی زنجیر ہے کہ جس میںپنجاب، سندھ ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی عوام آپس میں جڑی ہوئی ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہو گی کہ پاکستان پیپلز پارٹی 2013ءکے عام انتخابات میں بھی اکثریت حاصل کر لیں۔
اگر2008ءکے عام انتخابات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ انتخاب ملک کی تین بڑی جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان مسلم لیگ ق کے درمیان تھا۔ قومی اسمبلی کی 342سیٹوں میں سے126سیٹیں پاکستان پیپلز پارٹی، 91پاکستان مسلم لیگ ن اور 53سیٹیں پاکستان مسلم لیگ ق نے حاصل کیں۔ جبکہ تقریبا تمام حلقہ انتخاب میں یہی تینوں جماعتوں کے امیدوار پہلی، دوسری اور تیسی پوزیشن پر آئے۔تینوں پوزیشنوں پر فرق بیشتر حلقوں میں صرف چند ہزار کا رہا تھا۔ ایسے میں اب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ق مل کر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور ایک چوتھی جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی میدان میں اتر چکی ہے تو ایسے میں اب پاکستان مسلم لیگ ن کی کامیابی بہت محدود رہ جاتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے ٹاپ 10لیڈر

1۔    آصف علی زرداری
آصف علی زرداری اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے نمبر ون رہنما ہیں۔یہ جولائی 1954 میں پیدا ہوئے۔انکے والد کا اندرونِ سندھ زمینداری کے ساتھ کراچی میں بھی کاروبار کرتے تھے اور ذولفقار علی بھٹو کے دوست تھے۔1987میںان کا بے نظیر بھٹو کے ساتھ رشتہ طے ہوا۔جب 1988میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو آصف زرداری کی سیاسی زندگی کاآغاز ہوا۔1990ءکے انتخابات میں یہ رکنِ قومی اسمبلی بنے۔1993ءمیں نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنے پھر بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔1997 میں یہ سینٹ کے رکن بنے۔غلام اسحاق خان سے لے کر نواز شریف اور پرویز مشرف تک کی حکومتوں میںمختلف الزامات کے تحت یہ تقریباً11برس جیل میں رہے۔ دورانِ قید ان پر جسمانی تشدد بھی ہوا۔2008ءکے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد یہ ستمبر2008ءمیں یہ صدر پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔

2۔    بلاول بھٹو زرداری
بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ 21 ستمبر، 1988ءکو پیدا ہوئے۔ بلاول بھٹو سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو اور موجودہ صدر پاکستان اور شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین آصف علی زرداری کے اولاد میں سے سب سے بڑے ہیں۔ اس طرح وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔انہوں نے کراچی گرائمر اسکول، کراچی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔بعد میں جب وہ دبئی منتقل ہوئے تو انہوں نے اپنی تعلیم راشد پبلک سکول، دبئی میں جاری رکھی۔ جہاں وہ اسٹوڈنٹ کونسل کے نائب چیئرمین تھے۔ وہ تائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ بھی رکھتے ہیں۔ آکسفورڈ میں بھی زیر تعلیم رہے ہیں کہ جہاں سے ان کے نانا اور والدہ نے تعلیم حاصل کی تھی۔بلاول، اپنی والدہ کے قتل کے بعد 30 دسمبر، 2007ءکو پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ نامزد ہوئے۔

3۔    مخدوم امین فہیم
مخدوم امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر ہیں۔وہ سینئر وفاقی وزیر برائے تجارت و کامرس رہے ہیں۔4اگست 1939کو سندھ میں پیدا ہوئے۔یہ اپنے علاقے روحانی پیشوا بھی ہیں۔ان کے والد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنماﺅں میں شمار ہوتے تھے۔1970میں وہ پہلی بار ممبر قومی اسمبلی بنے جبکہ 1977،1988،1990،1993،1997،2002اور2008میں کے تمام انتخابات میں کامیاب ہوئے اور اس طرح مسلسل جیت کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔ان کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے اہم رہنماﺅں میں ہوتا ہے۔

4۔    فریال تالپور
پاکستان پیپلز پارٹی خواتین کی صدر، صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور قومی اسمبلی کی منتخب رکن ہیں۔ دو مرتبہ یعنی 9 سال تک ضلع نواب شاہ کی ناظمہ رہیں۔ بے نظیر بھٹو اور زرداری کے بچوں کی قانونی نگران ہیں۔ پیپلزپارٹی کے طاقتور ترین لوگوں میں شامل ہیں ۔

5۔    فاروق اےچ نائیک
فاروق حمید نائیک بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے رہنماﺅں میں شمار ہوتے ہیں۔یہ وفاقی وزیر قانون رہے اور چیئرمین سینٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ عملی زندگی کا آغاز 1970میں بطور وکیل شروع کیا۔جبکہ 1971میں اسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر مقرر ہوئے۔۔اس کے بعد 1971سے 1975تک سول جج اور مجسٹریٹ درجہ اول رہے۔1985سے 1990تک کراچی بار ایسو سی ایشن کے سیکرٹری جنرل رہے۔ 1994سے1996تک اٹارنی جنرل آف پاکستان رہے۔یہ 1970سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سرگرم رکن چلے آ رہے ہیں۔

6۔     میاںرضا ربانی
رضا ربانی پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماﺅں میں شمار ہوتے ہیں۔ سینٹ کے ممبر اور سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے نیشنل سیکیورٹی اینڈ کانسٹی ٹیوشنل ریفارمز کے چیئرمین ہیں۔ یہ پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔انھوں نے قومی سیاست میں 1988سے آغاز کیا۔1993میں وفاقی وزیر انصاف رہے ۔ 18ویں آئینی ترمیم میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔یہ 23جولائی1953کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے پارٹی میں دیگر اہم عہدوں پر بھی کام کیا ہے۔

7۔     اعتزاز احسن
پاکستان کے نامور وکیل اور سیاستدان بیرسٹر ان لاءچودھری اعتزاز احسن 27 ستمبر 1945ءکو مری ، ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے ایچی سن کالج لاہور اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی اور بعد میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ چلے گئے۔ واپسی پر اعتزاز احسن نے سی ایس ایس کے امتحان میں شرکت کی۔ انہوں نے اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کی حکومت کے خلاف شدید تنقید کی۔ پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلے اور واحد طالب علم تھے جنہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے باوجود فوجی حکومت میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے سیاسی کیریئر کا آغاز 70 کی دہائی میں کیا۔ 1975میں صوبائی اسمبلی کے ممبر بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ صوبائی کابینہ میں اطلاعات اور منصوبہ بندی کے وزیر رہے۔
1988 میں اعتزاز احسن لاہور سے پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1990ء میں وہ ایک بار پھر قومی اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم 1993 کے انتخابات میں انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ وہ سابق پاکستانی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں مختلف اوقات میں داخلہ ، قانون و انصاف ، نارکوٹکس کنٹرول ، تعلیم کے وزیر رہے۔ 1994 میں وہ پاکستانی سینٹ کے رکن بنے۔ انہیں قائد ایوان منتخب کیا گیا۔ 1996 سے 1997 تک وہ قائد حزب اختلاف کے منصب پر فائز رہے۔ 2002ء کے انتخابات میں پیپلز کے ٹکٹ پر لاہور اور بہاولنگر میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں سے جیت گئے۔وہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں انہوں نے دو سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے مقدمات لڑے۔ جمہوریت کے لیے خدمات کی بنیاد پر انہیں پاکستان کے تمام جمہوریت پسند طبقات میں غیر معمولی قدر و منزلت حاصل ہے۔ 9 مارچ 2007 کو پرویز مشرف کی صورت میں پاکستان کی فوجی ڈکٹیٹر شپ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار چودھری کو برطرف کیا تو اعتزاز احسن نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور کامیابی حاصل کی۔اعتزاز احسن مصنف بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”سندھ ساگر اور قیام پاکستان“ پہلے انگریزی اور پھر اردو میں شائع ہوئی۔ اسی طرح وہ ”ڈیوائیڈڈ بائی ڈیموکریسی “ میں لارڈ میگھنڈ ڈیسائی کے ساتھ شریک مصنف بھی ہیں۔ یہ پیپلز پارٹی کے اہم رہنماﺅں میں شمار ہوتے ہیں۔

8۔    حنا ربانی کھر
حنا ربّانی کھر 1977میں ملتان میں جنم لینے والی پاکستان کی پہلی خاتون رکن قومی اسمبلی ہیں جنہوں نے2009-10 میںقومی بجٹ پیش کیا۔ حنا ربانی رشتہ میں غلام مصطفے کھر کی بھانجی ہے۔انھوں نے 1999 میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے معاشیات میں گریجویشن کیا اور 2001 میں ے ایم بی اے کی سند حاصل کی۔ وہ 2002 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر حصہ لے کر رکن پارلیمان منتخب ہوئیں۔ 2008 کے انتخابات میں آپ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر مظفّر گڑھ کی قومی اسمبلی کی نشت پر کامیابی حاصل کی۔شاہ محمود قریشی کے فروری 2011ءمیں استعفی کے چھ ماہ بعد جولائی 2011ء میں وزیر خارجہ مقرر ہوئی۔

9۔    قمر الزماں کائرہ
قمر الزماں کائرہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات ہیں اور پارٹی کے ایک اہم رہنما ہے۔ یہ مرکزی وزیر اطلاعات بھی رہے ہیں۔یہ 5جنوری1960کو لالہ موسےٰ میں پیدا ہوائے۔کالج سے ہی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا اور گورنمنٹ کالج کھاریاں کے سٹوڈنٹ یونین کے صدر رہے۔یونین کونسل لالہ موسیٰ کے ناظم رہے اور ڈسٹرکٹ کونسل گجرات میں اپوزیشن لیڈر رہے۔2002میں ممبر قومی اسمبلی بنے اور پبلک اکاﺅنٹ کمیٹی کے ممبر بنے۔2008میں پھر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ ان کا شمار بھی پارٹی کے بااثر رہنماﺅں میں ہوتا ہے۔

10۔    سید یوسف رضا گیلانی
مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون سنہ 1952 کو ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے۔ملتان کی درگاہ حضرت موسی پاک کا گدی نشین ہونے کی بناء پر ان کا خاندان روحانی پیروکاروں کا ایک وسیع حلقہ رکھتا ہے۔۔یوسف رضا گیلانی نے 1970 میں گریجویشن اور 1976ر میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔ یوسف رضا گیلانی فروری 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم رہے۔ 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت اعظمی پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 19 جون 2012ءکو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے وائس چیئرمین ہیں اور ان کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے بڑے رہنماﺅں میں ہوتا ہے۔

11۔    سردار لطیف کھوسہ
سردار لطیف احمد خان کھوسہ25جولائی 1940کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے اور طالب علمی کے دوران ہی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے صدر بنے۔ انہوں نے وکالت کے ساتھ ساتھ وکلا سیاست میں بھرپور حصہ لیا۔سردار لطیف کھوسہ تین مرتبہ ہائی کورٹ بار ملتان بنچ کے صدر منتخب ہوئے اور ملک میں وکلا: کی سب بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان بارکونسل کے تین مرتبہ رکن چنے گئے۔ سردار لطیف کھوسہ پیپلز پارٹی کی وکلا تنظیم پیپلز لائیرز فورم پاکستان کے صدر بھی رہے۔سردار لطیف کھوسہ نے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات میں ان کی پیروی کی اور دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد وہ پیپلز پارٹی کیطرف سے سینیٹر منتخب ہوئے۔سردار لطیف کھوسہ2008میں اٹارنی جنرل مقررہوئے۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s