خواتین

خوبصورت خواتین سیاستدان

منصور مہدی
عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خواتین اپنی نوجوانی کی عمر میں زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔ لیکن روزنامہ نئی بات کے ایک تازہ سروے نے اس تاثر کو ختم کر دیا ہے۔ جس کے مطابق نہ صرف 30سال سے کم عمر بلکہ 30برس سے زائد عمر کی خواتین بھی عوام میں بہت مقبول ہوتی ہیں۔
یہ سروے پاکستانی خواتین سیاستدانوں کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ جس میں مرد سیاستدانوں اور مختلف طبقہ فکر کے افراد سے سوال کیا گیا کہ وہ پاکستانی خواتین سیاستدانوں میں سے کس کو سب سے زیادہ مقبول سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے 50خواتین سیاستدانوں کے نام دیے گئے ۔ جن میں سے10 کا انتخاب کرنا تھا۔
ان سیاست دانوں میں پاکستان کی تقریباً تمام بڑی جماعتوں اور چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والی سیاستدان شامل تھےں۔ان میں ماضی کی خواتین سیاستدانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔جن میں نمایاں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید تھیں۔
اس سروے میں خود اعتمادی، وضع داری، قابلیت وصلاحیت، عمومی رویہ (Behaviour)اور مدلل اور موثر گفتگو کو معیار رکھا گیا۔ اس تحقیق میں 65فیصد مردوں نے خود اعتمادی کو خواتین سیاستدانوں کی مقبولیت قرار دیا۔ 60فیصد مردوں کا خیال تھا کہ قابلیت اور اعلیٰ صلاحیتیں ہی میرٹ ہے۔ جبکہ 40فیصد کے نزدیک خوبصورت چہرہ اور 25فیصد کے خیال میں لباس اہمیت رکھتا ہے۔

اس سروے کے مطابق ان10 خوبصورت خواتین سیاستدانوں کی درجہ بندی کچھ اس طرح ہے۔

hina-rabbani-khar    حنا ربانی کھر
حنا ربانی کھر اس سروے کے مطابق پاکستانی خواتین سیاستدانوں میں پہلے نمبر پر آتی ہیں۔جبکہ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق بھی ان کا پہلا نمبر ہے۔ انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ق کی رکن کی حیثیت سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تھا اور 2002ءکے انتخابا ت میں جنرل سیٹ پر کامیاب ہو کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ 2008ء میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پرمظفّر گڑھ کی قومی اسمبلی کی نشت پر کامیابی حاصل کی اور ممبر منتخب ہوئیں۔یہ نہ صرف پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خزانہ رہی ہیں بلکہ پہلی کم عمر خاتون وزیر خارجہ بھی ہیں۔انھیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ بحیثیت خاتون پہلی مرتبہ ملکی بجٹ بھی پیش کیا۔ رواں برس جنوری میں انھوں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر بھی کی۔ حنا ربانی کھر نت نئے ڈیزائن، فیشن اور ہینڈبیگز کی وجہ سے دنیا بھر منفرد شہرت رکھتی ہی ہیں۔حنا ربّانی کھر 1977ءمیں ملتان میں پیدا ہوئیں۔یہ رشتہ میں غلام مصطفے کھر کی بھانجی ہے۔انھوں نے 1999ءمیں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے معاشیات میں گریجویشن کیا اور 2001ءمیں ے ایم بی اے کی سند حاصل کی۔ 2002ءمیں ان کے سیاست میں آنے کی وجہ ان کے والد کے پاس پی اے کی ڈگری نہ ہونا تھی۔ کیونکہ اس وقت قانون کے مطابق الیکشن لڑنے کے لیے کم از کم بی اے ہونا ضروری تھا چنانچہ انھوں نے اپنے والد کی جگہ الیکشن میں حصہ لیا۔ لیکن اب 2013ءمیں انھوں نے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے بلکہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے خواتین کی مخصوص سیٹوں پر امیدوار ہیں۔

maryam-nawazمریم نواز
مریم نواز اس سروے کے مطابق دوسرے نمبر پر آتی ہیں۔یہ پاکستان مسلم لیگ ن کے راہنما میاں نواز شریف کی بیٹی ہیں۔یہ ابھی حال ہی میں سیاست کے میدان کارزار میں آئی ہیں۔یہ 28اکتوبر 1973کو لاہور میں پیدا ہوئی۔انھوں نے ابتدائی تعلیم کونویٹ آف جیسس اینڈ میری سکول لاہور سے حاصل کی۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔یہ شریف ٹرسٹ کی چیئر پرسن بھی ہیں۔جس کے تحت شریف میڈیکل سٹی اور شریف ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ، شریف انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ اسلامک سنٹر ہیں۔ یہ ٹرسٹ ان کے دادا میاں محمد شریف نے قائم کیا تھا۔انھوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ اپریل 2012ءمیں کیا اور اس حوالے سے نیوز ویک میں ایک آرٹیکل بھی تحریر کیا۔ مریم نواز نے اپنی عملی سیاست کا آغاز تو کر دیا ہے تاہم ابھی انھوں نے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔وہ سماجی نوعیت کی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی شریک ہورہی ہیں۔ لیپ ٹاپ تقسیم اور تعلیمی اداروں کی دیگر تقریبات میں انھوں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر پہلے سے ہی عملی سیاست میں ہیں اور راولپنڈی سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔شریف خاندان کی اگلی نسل سے مریم نواز واحد خاتون ہیں جنہوں نے عملی سیاست کا آغاز کیا ہے۔ ان سے پہلے شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز نے عملی سیاست میں قدم رکھا تھا۔

Kashmala-Tariqکشمالہ طارق
کشمالہ طارق اس سروے کے مطابق تیسرے نمبر پر ہیں۔یہ رکن قومی اسمبلی رہی ہیں۔ جو اپنے نت نئے فیشن اور لباس کی وجہ سے آئے دن خبروں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔جبکہ یہ مختلف متنازعہ معاملات میں بھی شہرت رکھتی ہیں۔یہ پاکستان مسلم لیگ ق کی خواتین کی مخصوص سیٹ پرقومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔انہیں 2007ء میں کامن ویلتھ کی خواتین پارلیمینٹیرین کی چیئرمین بھی منتخب کیا گیا۔ کشمالہ طارق حدود آرڈیننس کے حوالے سے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ اس لیے بعض مذہبی جماعتوں کی جانب سے ان کی کردارکشی کی مہم بھی چلائی گئی۔کشمالہ طارق 24جنوری 1972کو لاہور میں پیدا ہوئی۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور سے ہی حاصل کی۔جبکہ اعلیٰ تعلیم لندن سے حاصل کی۔ ان کی سیاسی زندگی خواتین کے حقوق، ہیومن رائٹس اور جمہوریت کے لیے جدوجہد سے بھرپور ہے۔ انھوں نے اپنی عملی سیاسی زندگی کا آغاز دوران طالب علمی(1993-95) پنجاب یونیورسٹی میں پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے شروع کیا اور پی پی پی یوتھ کی صوبائی صدر منتخبن گئیں۔ 1999میں لندن سکول آف اکنامکس میں سٹوڈنٹ یونین کی صدر منتخب ہوئیں۔لندن میں ہی قومی سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور 2000ءمیں یوکے اور یورپ کے لیے بطور چیف کوآرڈینیٹر کام کیا۔2002ءمیں واپسی پر پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہوگئیں اور ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔جبکہ پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات بھی رہیں۔

Ayla-Malikعائلہ ملک
عائلہ ملک اس سروے میں چوتھے درجے پر آتی ہیں۔ ان کا تعلق ضلع خوشاب سے ہے۔ ان کا تعلق بھی پاکستان کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔یہ نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی پوتی اور ملک اللہ یار خان کی بیٹی ہیں۔ جبکہ ان کے انکل پاکستان کے معروف سیاست دان اور سابق صدر فاروق لغاری ہیں۔ یہ ملک حماد خان کی کزن بھی ہیں۔ ملک حماد صدر زرداری کے وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔ سابقہ ایم این اے سمیرا ملک ان کی بڑی بہن ہیں۔ یہ میانوالی میں پیدا ہوئیں۔انھوں نے ابتدائی تعلیم عسینا فاﺅنڈیشن لاہور سے حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم ماسکو ستیٹ یونیورسٹی روس سے حاصل کی۔انھوں نے عملی سیاست کا آغاز 1998میں ملت پارٹی سے کیا۔2002ءکے انتخابات میں یہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔یہ نہ صرف اپنے علاقے بلکہ دیگر علاقوں میں بھی مقبولیت رکھتی ہیں۔ابھی حال ہی میں انھوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے اور آمدہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر میانوالی سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اب یہ میانوالی کی لیڈر ہیں۔ انہوں نے وزیرستان جاتے ہوئے میانوالی کی طرف سے عمران کا استقبال بھی کیا تھا۔

fahmedamirzaڈاکٹر فہمیدہ مرزا
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پانچویں نمبر پر ہیں۔فہمیدہ مرزا پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر اور زرعی ماہر ہیں۔ ان کا تعلق حیدر آباد سے ہے۔ فہمیدہ مرزا پاکستان میں پہلی خاتون ہیں جو قومی اسمبلی کی سپیکر منتخب ہوئیں۔ ان کو اس عہدہ پر 19 مارچ 2008ءکو منتخب کیا گیا۔ وہ مسلم ممالک میں بھی پہلی خاتون ہیں جو اس عہدہ پر منتخب کی گئیں۔وہ تین بار مسلسل عام انتخابات 1997ء، 2002ء اور 2008ء میں کامیاب ہوئیں اور بدین سندھ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا 20دسمبر 1956کو پیدا ہوئیں۔انھوں نے طب کے شعبے میں اعلٰی تعلیم 1982ءمیں لیاقت میڈیکل کالج، جامشورو سے مکمل کی۔آپ ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ آپ کے دادا قاضی عبدالقیوم، حیدر آباد میونسپلٹی کے پہلے مسلمان صدر تھے۔ آپ کے والد قاضی عبدالمجید عابد صوبہ سندھ میں کئی وزارتوں کے سربراہ منتخب ہوئے اور وفاقی کابینہ میں بھی شامل رہے 1982ءسے 1990ءکے دوران وہ صوبائی وزیر مواصلات، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، وفاقی وزیر زراعت و خوراک، وفاقی وزیر تعلیم اور وفاقی وزیر پانی و بجلی کے عہدوں پر فائز رہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ڈاکٹر زوالفقار علی مرزا پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔جبکہ سندھ اسمبلی کے رکن اور صوبائی وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا قومی اسمبلی کی ان چند خواتین ارکان میں سے ہیں جو خواتین کی مختص نشستوں کی بجائے عام انتخابات کے ذریعے کامیاب قرار پائیں۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پاکستان پیپلز پارٹی اور بعض دوسرے سیاسی حلقوں کے مطابق محترمہ شہید بے نظیر بھٹو سے قدرے مشابہت رکھتی ہیں۔

shaziaشازیہ مری
شازیہ مری اس لسٹ میں چھٹے نمبر پر ہیں۔شازیہ مری انتخابات 2002ءاور 2008ءمیں پی ایس 133سے صوبائی اسمبلی سندھ کے پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین کی مخصوص سیٹوں پر ممبر منتخب ہوئیں۔ یہ صوبائی وزیر اطلاعات کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔ ان کا تعلق بھی سندھ کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد عطا محمد مری 1990ءاور 1993ءکے انتخابات میں سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جبکہ والدہ پروین مری1985-86ءمیں صوبائی اسمبلی کی ممبر تھیں۔ان کے دادا حاجی علی محمد مری 1944-45میں سندھ لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر اور ڈپٹی سپیکر رہ چکے ہیں۔ ان کی والدہ پروین مری بھی سندھ اسمبلی کی ممبر رہ چکی ہیں جبکہ فوزیہ وہاب کی وفات کے بعد ان کی سیٹ سے قومی اسمبلی کی ممبر بن گئیںتھیں۔ ابھی حال ہی میں شازیہ کی والدہ نے پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر پاکستان مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔شازیہ 8اکتوبر1972کو کراچی میںپیدا ہوئیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ اپنے دور وزارت میں انھوں نے سندھ اور خصوصاً اپنے حلقے میں بڑے کام کیے ہیں۔ شازیہ مری سیاستدان ہونے کے علاوہ سماجی کارکن بھی ہیں اور سماجی کاموں اورایسی سرگرمیوں میں بڑے ذوق و شوق سے حصہ لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنے حلقے کی عوام میں بڑی مقبولیت رکھتی ہیں۔

marviماروی میمن
ماروی میمن ساتویں نمبر پر آتی ہیں۔ یہ پنجاب سے پاکستان مسلم لیگ ق کی خواتین کی مخصوص سیتوں پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں ۔مگر انھوں نے قومی اسمبلی کی سیٹ اور پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ 21اگست 1972کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے لندن سکول آف اکنامکس سے انٹر نیشنل ریلیشن میں آنرز کے ساتھ کرایجوایشن کیا اور وکالت کی ڈگری حاصل کی۔انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور بینکر سٹی بنک سے کیا۔ جہاں وہ مارکیٹینگ اور کوالٹی مینجمنٹ کے شعبے سے منسلک ہوئیں۔پھر انھوں نے اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا اور پاکستان میں پہلی مرتبہ سیٹلائٹ ٹریکنگ ٹیکنالوجی متعارف کروائی۔اس کے علاوہ یہ انٹر سروسز پبلک ریلیشن ( آئی ایس پی آر) میں بھی ملازمت کرتی رہی۔جبکہ سابق صد جنرل پرویز مشرف کے سٹاف میں بھی یہ اعلی عہدے پر فائز رہی۔جبکہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور ، 2004ءمیں باقاعدہ سیاست میں آئی۔ اسی دور میں یہ دفاع، اکنامکس اور خارجہ امور میں بھی اہم آسائنمنٹ پر کام کیا۔ پاکستان مسلم لیگ ق سے استعفیٰ کے کے تقریباً سات ماہ بعد ، 4مارچ 2012ءمیں انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی۔انھوں نے خواتین کے حقوق اور ہیومن رائیٹس کے حوالے سے بہت جدوجہد کی۔

shermilaشرمیلا فاروقی
شرمیلا فاروقی اس سروے کے مطابق آٹھویں نمبر پر آتی ہیں۔ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ یہ وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر رہ چکی ہے۔ شرمیلا فاروقی نے ایم بی اے اور قانون میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ یہ تحریر اور تقریر میں بہت مہارت رکھتی ہیں اور عموماً ٹی وی ٹاک شوز میں اپنی پارٹی کا موقف بہت مدلل اور خوبصورت انداز میں پیش کرتی رہی ہیں۔شرمیلا فاروقی بیوروکریٹ اور پاکستان سٹل مل کے سابق چیئرمین عثمان فاروقی کی بیٹی ہیں۔یہ سلمان فاروقی کی بھتیجی ہیں جو صدر پاکستان آصف علی زرداری کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں۔ابھی حال ہی میں شرمیلا فاروقی نے حشام ریاض کو اپنا جیون ساتھی منتخب کیا ہے۔۔اس حوالے سے شرمیلا کہنا ہے کہ سیاست سے صرف اقتدار ہی نہیں جیون ساتھی بھی مل گیا۔چند ماہ بعد وہ اپنے پیا گھر سدھار جائیں گی۔ایک نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں شرمیلا کا کہنا تھا کہ میں پری ہوں اور میں سمجھتی ہوں کہ میں بہت اچھی ہوں۔اسی پروگرام میں شرمیلا کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں اداکاری کا بہت شوق تھا۔ اسکول کے زمانے میں وہ ڈراموں میں بھی کام کرتی رہیں۔جبکہ ٹی وی کے لیے بھی ایک ڈرامے میں کام کیا، جو لوگوں نے بہت پسند کیا تھا۔شرمیلا سیاسی تقریبات کے علاوہ سماجی تقریبات میں بھی بڑی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔

537619-KhushbakhtShujaatخوش بخت شجاعت
خوش بخت شجاعت متحدہ قومی موومنٹ کی خاتون رہنما ہے۔ انھوں نے این اے 250 سے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر جنرل سیٹ سے الیکشن جیتا اور ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔یہ مسلم لیگ(ن) کی تہمینہ دولتانہ، پاکستان مسلم لیگ(ق) کی سمیرا ملک کے بعد تیسری خاتون سیاستدان ہیں کہ جو عام نشستوں پر کامیابی کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی رکن قومی اسمبلی بنی۔یہ یکم نومبر 1948میں پیدا ہوئی۔انھوں نے 1975میں صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور استاد کے شروع کیا جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن سے کمپیئرنگ شروع کی۔ٹی وی میں کمپیئرنگ کے دور میں بھی انھوں نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔ ٹی وی کے اہم پروگراموں میں کوئی بھی پروگرام ان کی کمپیئرنگ کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا تھا۔ یہ تحریر و تقریر میں بڑی مہارت رکھتی ہیں۔یہ اپنے نام کی مانندخوش شکل اور خوش گفتار بھی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ ایم کیو ایم کی کلچرل اور لٹریسی ونگ کی صدر بھی ہیں۔ یہ شہر کی سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف اپنے حلقے بلکہ شہر بھر میں مقبولیت رکھتی ہیں اور خواتین سے متعلق اہم تقریبات کی جان سمجھی جاتی ہیں۔ مگر اس سروے میںیہ نویں نمبر پر آتی ہیں۔

bushra goharبشریٰ گوہر
بشریٰ گوہرکا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔ یہ 2008میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ ان کا شمار پارٹی کے اہم رہنماﺅں میں ہوتا ہے اوریہ پارٹی کی سینیئر وائس پریزیڈنٹ بھی ہیں۔ یہ 5مئی 1961کو پیدا ہوئیں۔ انھوں نے امریکہ سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ ان کی سیاسی زندگی عوامی خدمت سے بھری ہوئی ہے۔ یہ اپنے علاقے کی ایک ہر دلعزیز سماجی شخصیت تصور ہوتی ہے۔ ہیومن رائٹس اور جمہوریت کے لیے ان کی جدوجہد کسی تعارف کی محتاج نہیں۔یہ بہت بولڈ خاتون سیاستدان ہے۔انھوں نے سابق وفاقی وزیر ریلوے اور اے این پی کے سینیئر رہنما حاجی غلام احمد بلور کے توہین آمیز فلم بنانے والے کے سر پر انعام کا اعلان کرنے کے بیان کو ’مجرمانہ‘ قرار دیا تھا اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غلام احمد بلور سے اس بیان کے حوالے سے جواب طلب کریں۔ میمو اسکینڈل کی شفاف تحقیقات کے حوالے سے بھی انھوں نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے استعفے کا مطالبہ کیا تھااور کہا تھاجیسےحسین حقانی مستعفی ہوکر تحقیقات کیلئے پیش ہوئے اسی طرح ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا کو بھی شفاف تحقیقات کیلئے مستعفی ہوجانا چاہیے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s