خواتین

عورت اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

Beautiful-Woman-beautiful-iمنصور مہدی
بقول شخصے “آپ عورت کو انگور کی نازک بےل کی طرح کہےں ےا اسے اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا قرار دےں ےا پھر اسے پےاز کے چھلکوں کی تہہ در تہہ پر توں کی طرح ناقابل فہم سمجھےں۔ اپنے متعلق آپ کے تجربات پر وہ من ہی من مےں خوش ہو گی اور اسے تعرےف سمجھے گی ، لےکن اگر آپ نے اس کے حسن ، چاہے وہ حقےقی ہو ےا مصنوعی ، کو تنقےد کا نشانہ بناےا ےا اس کے چہرے کو اےک عام چہرہ کہا تو وہ بپھر کر آکاش بےل بن جائے گی۔ چاروں طرف سے گھےر کر اپنی آہنی گرفت مےں ےو ں بے بس کر دے گی کہ آپ کو اس کی خوبی و صلاحےت کا اقرار کرتے ہی بن پڑے گی”۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی ہر عورت کی ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ وہ حسین عورت کہلائے۔ ہر عورت اپنے حسن و جمال کو چار چاند لگانے کی فکر میں رہتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ طرح طرح کے پاپڑ بیلتی ہے ، بیوٹی پارلرز میں مہنگے مہنگے علاج کرواتی ہے، گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتی ہے اور جب کسی تقریب میں کوئی اس کے روپ کی تعریف کرتا ہے تو وہ انتہائی بے نےازی سے کہتی ہے کہ یہ تو میرا قدرتی حسن ہے۔ مےں نے تو آج تک بےوٹی پارلر ہی نہیں گئی ہوں۔یا پھر یہ کہے گی کہ یہ تو آپ کی ذرہ نوازی ہے ورنہ حقیقت میں تو خوبصورتی چہرے میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔
ایسی خواتین کو یہ سن کر یقینا مایوسی ہو گی کہ یہی بات اصل میں درست ہے کہ خوبصورتی دیکھنے والی کی آنکھ میں ہی ہوتی ہے۔ ایک خوبصورت عورت اگر خود کو آئینے میں دیکھے تو وہ یقینا خود کو تو خوبصورت نظر آئے گی مگر ضروری نہیں کہ وہ دیکھنے والے دوسرے افراد کو بھی خوبصورت ہی نظر آئے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ہر چہرہ کسی کا محبوب ہوتا ہے۔ یعنی عاشق کی نظر میں ہی محبوب خوبصورت لگتا ہے۔ یعنی ہمیں جو خوبصورت لگے وہی خوبصورت ہوتا ہے۔ دیکھنے والے کی آنکھ ہی خوبصورتی کا درست فیصلہ کر سکتی ہے۔
اگرچہ ہر دور اور ہر معاشرے میں خوبصورتی کاایک خاص معیار ہوتاہے اور اسی پیمانے پر انسان یہ فیصلہ کرتاہے کہ کون خوبصورت ہے اور کون خوبصورت نہیں۔جیسے افریقی معاشرے ، مغربی اور مشرقی معاشرے میں خوبصورتی کے مختلف معیار ہیں۔ دینی اور غیر دینی معاشرے میں بھی خوبصورتی کے معیار جدا جدا ہیں۔ چنانچہ کون واقعی خوبصورت ہے یا کسے خوبصورت نہیں سمجھا جانا چاہیے تو اس کا فیصلہ ہر معاشرے میں مختلف انداز میں کیا جائے گا۔
جیسے کہےں گوری رنگت بے کشش اور پھےکی سی محسوس ہو تی ہے تو اسے سانولاکر نے کے لئے ”سن باتھ“ لےا جاتا ہے تو کہےں سانولی سلونی رنگت کی تازگی، دل کشی بر قرار رکھنے کے لئے” سن بلاک“ استعمال کےا جاتا ہے۔ مغربی خواتےن جلد کی گندمی رنگت مےں کشش محسوس کر تی ہےں تو اےشےائی ، جلد کی گوری رنگت کے لئے پرےشان رہتی ہےں۔ حتی الامکان کو شش کر تی ہےں کہ جلد کو داغ ، دھبوں اور دھوپ کے مضر اثرات سے بچا سکےں۔
تاہم عاشق کی آنکھ اپنے محبوب کو کیوں خوبصورت دیکھتی ہے تو سائنسدان اس حوالے سے کہتے ہیں کہ کسی چیز کے بارے میں دل کے ساتھ دماغ بھی اگر خوبصورتی کا اقرار کرے تو وہ خوبصورت کہلائے گی۔ تاہم دماغ کا عمل اس فرد کے معاشرے کے اصولوں کے تابع ہوگا اور دل کا عمل اس کی چاہت کی گہرائی کے تابع ہوگا۔
خوبصورتی کا دیکھنے والے کی آنکھ اور دماغ سے کیا تعلق ہے ؟ اس حوالے سے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سائنس دانوں کی ریسرچ کی ہے ۔ جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ خوبصورتی واقعی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے اور یہ کہ مرد اور عورتیں خوبصورتی کو مختلف انداز سے پرکھتے ہیں۔ آرٹ یا خوبصورتی کو سراہتے ہوئے مردوں اور عورتوں کے دماغ مختلف طرح کے ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔
اس تحقیق سے سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ دماغ کا وہ حصہ جو پیرائٹل لوب کہلاتا ہے اور اس کا تعلق گردو پیش کی آگاہی سے ہوتاہے۔ پیرائٹل لوب حواسِ خمسہ سے حسیات اکٹھا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندسوں اور ان کے آپس کے تعلق کے بارے میں معلومات بھی یہیں محفوظ ہوتی ہیں۔
سائینسدانوں کے مطابق مردوں اور عورتوں،دونوں کے دماغوں میں یہ حصہ اس وقت فعال ہوجاتا ہے جب وہ کسی خوبصورت چہرے، تصویر یا فوٹو کو دیکھتے ہیں۔ عورتوں میں دماغ کے دونوں حصے، یعنی دائیں اور بائیں حصوں کے اعصاب بھی متحرک ہوجاتے ہیں جب کہ مردوں کے صرف دائیں جانب کے اعصاب فعال ہوتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ اس فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مرد اور خواتین چیزوں کی خوبصورتی کے بارے میں مختلف انداز سے فیصلے کرتے ہیں۔دماغ کا بایاں نصف حصہ زیادہ تر چیزوں کی قطعی سمت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ جیسے کوئی چیز کہاں پر ہے؟ اونچائی پر ہے یا کہیں نیچے ہے۔دائیں جانب ہے یا بائیں جانب ہے۔جب کہ دایاں حصہ چیزوں کا زیادہ پیچیدہ خاکہ بناتا ہے اور کسی بھی چیز کو دیکھتے ہوئے اسے پورے ماحول کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں دماغ کا یہ حصہ کسی چیز کو خوبصورت قرار دینے کے لیے اس معاشرے یا زمانے کے اصول و ضوابط کا بھی خیال رکھتا ہے کہ جس سے دیکھنے والے فرد کا تعلق ہو۔
یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سائنس دانوں کی ٹیم نے جس کی قیادت ڈاکٹر فرانسسکو ایالا کر رہی تھیں نے پنی تحقیق کے دوران دس مردود اور دس عورتوں کو مختلف فن کاروں کی ایسی پینٹنگز اورقدرتی اور شہری مناظر پر مبنی ایسے فوٹودکھائے جو انہوں نے اس سے پہلے نہیں دیکھے تھے۔تحقیق میں شامل شرکا سے کہا گیا کہ ان تصویروں کے بارے میں اپنے تاثرات دیں اور یہ بتائیں کہ آیا وہ انہیں خوبصورت لگتی ہیں یا نہیں؟۔ اس دوران ماہرین تجربے میں شامل افراد کے دماغوں کا جدید آلات سے مطالعہ کرتے رہے اور تصویروں کو دیکھتے ہوئے ان افراد کی دماغ میں ہونے والی تبدیلیوںکو جانچتے رہے۔
سائینسدانوں نے دیکھا کہ کسی خوبصورت تصویر کے بارے میں دیکھنے والے کا ردعمل تین سو سے لے کر نوسوملی سیکنڈ کے انتہائی قلیل وقت میں اپنی انتہائی سطح پر پہنچ گیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ دماغ کے پیرائٹل حصے کی سرگرمی کاتعلق فوری ادارک کی بجائے چیزکے بارے میں فیصلہ دینے سے تھا۔پہلے تین سو ملی سیکنڈمیں مردوں اور عورتوں کے دماغ کے ردعمل میں کوئی فرق نہیں آیا لیکن اس کے بعد ان میں ایک نمایاں فرق ظاہر ہوا۔ مردوں کے دماغ کی سرگرمی صرف دماغ کے دائیں حصے تک محدود رہ گئی اور عورتوں کے دماغ کی سرگرمی بائیں حصے میں جاری رہی۔
آخر عورت اور مرد کے دماغ کی سرگرمی ایک ہی چیز کے تعین(خوبصورتی کا تعین) کے لیے مختلف کیوں ہے؟ اس کے جواب میں سائینسدان کہتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے دماغ میں یہ فرق غالباً اس وقت سے ہے جب ابتدائی دور کا جدید انسان ارتقا کے اپنے ابتدائی مرحلے میں تھا۔ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ فرق غالباً قدیم دور میں جب انسان کا گذر بسر شکار پرتھا، مردوں اور عورتوں کے لیے مخصوص مختلف معاشرتی کرداروں کی وجہ سے پیدا ہوا۔
روایتی طورپر مرد شکار کیا کرتے تھے اور انہیں بھاگتے ہوئے جانوروں کا پیچھا کرنے کے لیے ایسی صلاحیت کی ضرورت تھی جو شکار کو ماحول سے مربوط کر کے دیکھنے میں مدد دے، جب کہ عورتیں پھل اور پودوں اور کاشت کاری اور گھر کے کام کرتی تھی ، اس لیے انہیں ایسی دماغی صلاحیت درکارتھی جس کا تعلق چیز کی صرف سمت کو سمجھنے سے ہو۔سائنس دانوں کا یہ بھی کہناہے کہ خواتین میں مردوں کی نسبت یہ رجحان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد کی چیزوں سے آگاہ رہیں جن میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں جو بظاہر موجودہ کام کے لیے غیر متعلقہ ہوں۔ جب کہ مرد صرف ان چیزوں پر توجہ دیتے ہیں جو ان کے لیے متعلقہ ہوں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عورت اور مرد وں کے دماغوں میں یہی فرق خوبصورتی کے بارے میں ان کے ادراک میں فرق پیدا کرتا ہے۔
تاہم سائنسدان کچھ بھی کہیں لیکن ہم ےہ جانتے ہےں کہ حسن قدرتی ہو ےا ماہر ہاتھوں کا کمال ، جس طرح ہےرا اپنی قدرتی حالت مےں نہ تو حسےن ہو تا ہے اور نہ آنکھوں کو خےرہ کردےنے والی چمک رکھتا ہے ، اسے مہارت سے تراشا اور سنوارا جائے تو تب ہی وہ قےمتی چےز بنتا ہے ۔ یا پھر ہیرا ناترشیدہ ہی کیوں نہ ہوں مگر ہاتھ کسی قابل جوہری کے ہونے چاہیے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ عاشق کی آنکھ اصل میں قابل جوہری کا ہی کام کرتی ہے جو کالے رنگ، گورے رنگ سے بے نیاز ہو کر محبوب کو دنیا بھر سے خوبصورت قرار دیتا ہے۔

beautiful_women

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s