خواتین

خواتین میں چرس پینے کا رجحان

SMOKERS-WOMEN1

منصور مہدی

……آج کے دور میں خواتین کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ معاشرے کا اہم ترین حصہ ہے۔ خاتون کوئی بھی ہو، چاہے وہ خاتونِِ خانہ ہو یا ورکنگ ویمن، اس کا بہت اہم کردارہوتا ہے۔معاشرے کی بنیادی اکائی گھر ہوتا ہے اور اس گھر میں وہ ماں، بہن، بیوی، بہو اور بھابھی کا رول ادا کررہی ہوتی ہے۔ جتنا اچھا ایک خاتون گھر کوچلا سکتی ہے اتنا مردنہیں کرسکتا۔ یہ ایک خداداد صلاحیت ہے جو عورت کو رب العزت کی طرف سے ملتی ہے۔ جب عورت معاشرے کی بنیادی اکائی (گھر) کو ہر طرح کے نامساعد حالات میں بھی بخوبی چلا لیتی ہے اور گھر کو بکھرنے نہیں دیتی تو پھر وہ معاشرے میں (جو کہ اس کا بڑا گھر ہے) یہ کردار کیوں ادا نہیں کرسکتی؟
یقیناً خواتین معاشرے کی تشکیلِ نو کے لیے مثبت و فعال کردار ادا کرسکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے کچھ باتوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جیسے اگر عورت تعلیم یافتہ ہوگی تو اسے شعور اور ادراک ھاصل ہوگا، وہ اپنے بچوں کو بھی تعلیم کی طرف راغب کرے گی۔ ایسے ہی دیگر چیزیں بہت ضروری ہیں، یہ اگر خواتین میں ہوں تو یقینا معاشرے کا روپ ہی مختلف ہوجائے گا۔اسی طرح خواتین کے لیے سب سے اہم چیز صحت ہے۔ خواتین کی اچھی صحت ایک اچھے معاشرے کی ضامن ہوتی ہے۔اگر عورت کی صحت نہیں ، وہ تندرست نہیں اور بیمار رہتی ہے ، تو یقینا ایک بیمار معاشرہ ہی تشکیل پائے گا۔
عورت کی صحت کو آج کے دور میں جو بیماری گھن کی طرح کھائے جا رہی ہے، ان میں نشہ سب سے بڑی بیماری ہے۔جو مغربی معاشرے کی نقالی میں اب ہمارے معاشرے میں پھیلتی جا رہی ہے۔نشہ کی اس بیماری میں سب سے زیادہ رول نشہ ااور ادویات ادا کر رہی ہیں۔ جب خواتین بیمار ہوتی ہیں تو علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں، جو درد یا تکلیف کی شدت سے بچانے کے لیے انھیںدافع درد یا مسکن ادویات تجویز کر دیتے ہیں،اگرچہ وہ کچھ عرصے یا وقت کے لیے استعمال کرنا ہوتی ہیں مگر چونکہ اس سے مریض کو سکون محسوس ہوتا ہے تو وہ اسے لگاتار استعمال کرتی رہتی ہیں اور پھر ان کی عادی ہو جاتی ہیں۔ پھر چونکہ اس قسم کی ادویات کی خریداری پر کوئی پابندی بھی نہیں ہے اور یہ ہر میڈیکل سٹور سے بآسانی مل بھی جاتی ہیں۔چنانچہ خواتین کو اس چیز کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ منشیات استعمال کر رہی ہیں اور وہ ان کی عادی ہو چکی ہے۔
خواتین میں نشے کے استعمال کی اور بھی وجوہات ہیں۔ اس حوالے سے ماہر نفسیات ڈاکٹر سدرا کاظمی کا کہنا ہے کہ اگرچہ خواتین میں منشیات کے استعمال سے متعلق معلومات کم دستیاب ہیں لیکن نوجوان لڑکیوں اور خواتین میں منشیات کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ بالخصوص مراعت یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیاں، منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کے علاج کے لئے جن چیزوں پر قابو پانا ضروری ہے ان میں تشدد ،جنسی زیادتی، معاشی مسائل اوربے روزگاری بہت ضروری ہے ، جبکہ جنسی کرداروں کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تصورات بھی منشیات میں اضافے کا ایک اہم سبب ہے۔والدین کی طرف سے بچوں کی دیکھ بھال کا فقدان بھی بہت اہم ہے۔لہذایہ تمام عوامل ناامیدی کا سبب بنتے ہیں جن کے باعث خواتین میں منشیات کے استعمال کا رجحان زور پکڑتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد، بچپن کے ناخوشگوار واقعات اور منشیات کے استعمال کا بھی آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔بیشتر خواتین جسمانی، ذہنی اور مالی بدسلوکی سے تنگ آکر منشیات میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں۔
ڈاکٹر سدرا کاظمی کا کہنا ہے کہ ان وجوہات کے علاوہ اب نشے کا استعمال بطور فیشن یا ایڈوینچر کے بھی کیا جا رہا ہے۔ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سگریٹ پینا اور منشیات استعمال کرنے کو برا نہیں سمجھتی تھیں، بلکہ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ چرس پینے سے ایک تو سکون بہت ملتا ہے ، ذہنی تناو¿ اور بوریت دور ہوجاتی ہے، مزاج بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی میں اضافہ ہوجاتا ہے، دوسرا وہ موٹاپے اور جسم پر چربی چڑھنے سے بچاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم لوگ جسمانی طور پر فٹ رہتے ہیں۔
ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑتک پہنچ چکی ہے جس میں بیس فیصد خواتین بھی شامل ہیں، بیس فیصد کا مطلب 20لاکھ خواتین منشیات کا استعمال کرتی ہیں۔ جبکہ ملک میں منشیات استعمال کرنے والے لوگوں میں سالانہ چار سے چھ لاکھ کا اضافہ ہورہا ہے جو انتظامیہ کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ وزارت انسداد منشیات کے پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف شہروں میں کئے گئے سروے سے پتا چلتا ہے کہ منشیات کا سب سے زیادہ استعمال تعلیم یافتہ خواتین میں ہو رہا ہے۔ منشیات کی عادی 47 فیصد خواتین کالج یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ، 21 فیصد خواتین کی تعلیم میٹرک یا پرائمری جبکہ 47 فیصد خواتین شادی شدہ ہیں۔ 43 فیصد خواتین کو منشیات ان کے دوست جبکہ 15.6 فیصد کو منشیات ہمسائیوں کے ذریعے مہیا کی جاتی ہیں۔
ایک دیگر رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منشیات کا استعمال کرنے والی خواتین میں سے 25 فیصد کا کہنا ہے کہ انھوں نے زندگی میں ناکامی کی وجہ سے منشیات کا استعمال شروع کیا جبکہ ساڑھے بائیس فیصد نے بری صحبت اور ساڑھے سات فیصد نے خود کو پر سکون رکھنے ، گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے نشے کا استعمال کیاجبکہ اڑھائی فیصدخواتین نے منشیات کو فیشن قرار دیا۔
پھرخواتین خصوصاً نوجوان طالبات کا منشیات کی طرف راغب ہونے کا ایک اہم سبب بڑے شہروں میں قائم ہونے والے شیشہ کیفے بھی ہیں۔ شیشہ کیفے کا پرتکلف اور رومانوی ماحول نوجوانوں کے لیے بڑا پ±رکشش ہوتاہے۔ ان شیشہ کیفوں میں لڑکے اور لڑکیاں نہ صرف فلیورز کے ساتھ تمباکو پیتے ہیں بلکہ چرس، افیون اور کوکین بھی استعمال کرتے ہیں۔ کوکین کا نشہ مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جان لیوا بھی ہے۔ جب اس کی لت پڑ جاتی ہے تو جان چھڑانا مشکل ہو جاتی ہے۔
منشیات کے خاتمے کے لیے ہماری حکومتوں کا رویہ بہت مایوس کن رہا ہے۔ بلکہ انفراری طور پر کئی ایسے انتظامیہ کے افراد موجود ہیں کہ جو منشیات کو بڑھاوئے کے لیئے کردار ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان میں ایسے قوانین کی کمی نہیں ہے کہ جن کی رو سے نہ صرف منشیات کی خرید و فروخت بلکہ ان کی تیاری، ان کو ذخیرہ رکھنا، ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے پر بھی سخت سزائیں ہیں اور یہ سزائیں عمر قید کے ساتھ ساتھ موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان میں نشہ کی لعنت روز بروز بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے دیے ہوئے میلینیم ڈویلپمنٹ گولز کے مطابق 2015ءتک پاکستان کو منشیات سے پاک کیے جانے کا ٹارگٹ بھی ملا ہوا ہے مگر اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ یہ 2015تک پاکستان کی حکومت کسی ایک گاﺅں کو بھی منشیات سے پاک کر لے، حالانکہ پنجاب حکومت نے بھی چند سال پہلے لاہور کو ” ڈرگ فری سٹی” بنانے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے کروڑوں روپے مختص کیے گئے مگر کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ پاکستانی حکومت کا اس حوالے سے کردار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ 31مئی2012کو پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ پاکستان منشیات کاگیٹ وے ہے اور اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف کے2008 سے لے کر 2012کی رپورٹس کے مطابق 80 سے90 فیصد منشیات افغانستان سے ساری دنیا کو منتقل ہوتی ہے جبکہ یہ منشیات افغانستان سے پاکستان کے راستہ سے سمگل ہوتی ہے۔ یہ ریمارکس انہوں نے خواتین پروبیشن اینڈ پروکلیمیشن آفیسرکی جانب سے دائررٹ درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔
تاہم منشیات کے خاتمے خصوصاً لڑکیوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے اہم کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی عادات جیسے بچوں میںغصیلہ پن کا پیدا ہونا، امتحانات میں فیل ہونا،سکول کالج سے غیر حاضر رہنا،جسمانی ساخت میں تبدیلی آجانا،سونے کی عادات میں تبدیلی آجانا،رقم کی طلب یا معمول سے زیا دہ رقم کا پاس ہونا،پر ضرور توجہ دیں اور چھان بین کریں۔ جبکہ سنجیدہ طبقوں کا کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف حکومت بلکہ تمام طبقات بالخصوص میڈیا اور منبر ومحراب منشیات کے استعمال کے رجحانات کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اس سلسلے میں اہل علم اور اہل قلم اپنی تحریروں ،تقریروں ،خطبات میں اس موضوع کو زیر بحث بنائیں، تاکہ اس لعنت سے نجات مل سکے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s