خواتین

رمضان میں خواتین کی مصروفیت بڑھ جاتی ہے

women-shopping-for-scarfs-during-ramadan

منصور مہدی
……عائشہ ایک مذہبی رجحان رکھنے والی لڑکی تھی اگرچہ وہ ایم اے اردو ادب کی طالبہ تھی۔اس کو پڑھنے سے بہت لگاﺅ تھا اور ہر وقت کوئی نہ کوئی کتاب اس کے زیر معالعہ رہتی۔ اس کی ہم جماعت دوست جمیلہ بھی بہت لائق تھی۔ وہ بھی ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی مگر اس کا مذہب سے اتنا لگاﺅ نہیں تھا۔تاہم جب بھی اسے مذہب کے حوالے سے کوئی بات پوچھنی ہوتی تو وہ عائشہ سے ڈسکس کرتی۔
رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے اگلے روز جب جمیلہ کی ملاقات عائشہ سے ہوئی تو اس نے رمضان المبارک شروع ہونے پر اسے مبارک باد دی اور رمضان کے دنوں میں خواتین کی مصروفیت کے حوالے سے بات شروع کر دی۔کہنے لگی کہ رمضان ا لمبارک کا چاند نظر آتے ہی نہ صرف خواتین کی مصروفیت میں اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ ان کے معمولات زندگی بھی بدل جاتے ہیں۔جبکہ گھریلو خواتین کی مصروفیات تو یکسر تبدل ہو
جاتی ہیں۔ بعض گھرانوں کی خواتین شعبان کے مہینہ سے ہی روزوں اور عید کی تیاری شروع کر دیتی ہیں۔
روزے شروع ہونے سے قبل ہی بازاروں میں گہماگہمی عروج پر پہنچ جاتی ہے،خواتین سٹائل اور فیشن کے مطابق خریداری میں مصروف ہوجاتی ہیں ، اگرچہ اس برس مہنگائی کی شدت نے شاپنگ کو محدود کیا ہوا ہے ، تاہم عید کی تیاری خواتین کے بناﺅ سنگھار کے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ لہذا کوئی اپنے لیے چکن لان پسند کرتی ہیں تو کوئی ریشمی سوٹ خریدتی ہیں۔کسی نے فینسی جوتے خریدے تو کوئی بچوں کے کپڑوں کی خریداری میں مگن ہیں۔گھر والیاں اپنے گھر والے کے لیے بھی خریداری کرتی ہیں کیونکہ انھیں پتا ہوتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تو یہ شاپنگ ہو رہی ہے۔چھوٹی بچیاں بھی اپنی پسند کی چیزیں پسند کر تی ہیں تو لڑکیاں اپنے لیے شوخ اور جاذب نظر ملبوسات پر نظر رکھے ہوتی ہیں۔ گھروں کی صفائیاں شروع کر دی جاتی ہیں۔غرضیکہ ہر کوئی مصروف ہوجاتا ہے۔
عائشہ جو بڑے غور سے جمیلہ کی باتیں سن رہی تھیں ، کہنے لگی کہ رمضان المبارک اورخواتین کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ رمضان میں گھروں کی صفائی ستھرائی‘ لباس کی پاکیزگی سحری اورافطاری کے دوران نت نئے کھانے اورسب سے بڑھ کر گھرکے ماحول کو پاک صاف بنانے میں خواتین کا جو ہاتھ ہے اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ رمضان المبارک کے دوران اگرچہ روزے رکھنے کا انفرادی طور پر ثواب تو ہر اس شخص کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت ملتا ہے جو رمضان المبارک کی روح کے مطابق روزے رکھتا ہے مگر کسی بھی گھرانے میں ان دنوں میں سب سے زیادہ ثواب کی حقدار اس گھر کی خاتون خانہ ہوتی ہے جو صبح سویرے جب سب گھر والے گہری نیند میں سوئے ہوتے ہیں تو خواتین اٹھ کر سحری کے اہتمام میں مصروف ہوتی ہیں اور اسی طرح شام کو جب سب افراد روزے کی تھکن سے نڈھال پڑے ہوتے ہیں اور نظریں گھڑی کی ٹک ٹک پر اٹکی ہوئی ہوتی ہیں تو خواتین افطاری کے اہتمام میں مصروف ہوتی ہیں۔ روزے کی حالت میں روزے داروں کو روزے رکھوانے اور روزے کھلوانے کی مشقت خواتین کا ہی خاصہ ہے۔
عائشہ کہنے لگی کہ اللہ تعالی ٰ نے عورت کو ہر کام میں مردوں کی نسبت بڑا صبر عطا کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالی ہر حال میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جو اس کا اجر عطا کرتے ہیں۔ عائشہ کہنے لگی کہ احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتاہے کہ رمضان کے آغاز سے قبل ہی شعبان کے مہینے کے آخری دنوںمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خصوصی خطبہ خواتین کے لیے ارشادفرمایاکرتے تھے۔ یعنی مردوں کو خطبہ دینے کے بعد عورتوں کے حصے کی طرف جاکر خطبہ ارشاد فرمایاکرتے تھے۔
جمیلہ کو تجسس ہوا تو پوچھنے لگی خواتین کے لیے مخصوص خطبہ؟ تو عائشہ نے کہا کہ ہاں خواتین کے لیے خاص خطبہ ہوتا تھا۔ جس میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزوں کی اہمیت بیان کرتے اور رمضان المبارک کے استقبال کی اہمیت پر روشنی دالتے تھے۔ اس خطبے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کا ماہ شروع ہوتے ہی کیا کرنا چاہیے۔
جمیلہ نے تجسس بھری نظروں سے عائشہ کی طرف دیکھا ۔ عائشہ نے بتلایا کہ احادیث مبارکہ کے مطابق رمضان کا چاند نظر آتے ہی سورہ فتح تین مرتبہ پڑھنے سے سال بھر رزق میں فراوانی آتی ہے۔ رمضان المبارک میں مصلے پر سے دعا مانگ کر اٹھنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ ذکروتسبیحات کا حکم فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے طاقت ہمت اور استطاعت مانگنے کا حکم فرمایا ہے۔ان خطبات میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی ان کی خیرخواہی کا طریقہ اور سلیقہ سمجھاتے تھے۔
ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ رمضان المبارک ایک متبرک اور مبارک مہمان کی طرح ہے۔ لہذا جس طرح مہمان کے استقبال کی تیاری کی جاتی ہے۔ گھرکو سنواراجاتاہے صاف اور ستھرا کیاجاتاہے۔ کھانے کی تیاری بھی پہلے سے کرلی جاتی ہے تاکہ مہمان کے ساتھ گفتگوکا زیادہ موقع مل سکے اور مہمان کے سامنے بلا ضرورت باورچی خانے میں جانا نہ پڑے اسی طرح رمضان کے لیے بھی جس حدتک کام پہلے سے کیے جاسکتے ہوں کرکے رکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لمحات رمضان کی برکتیں حاصل کرکے گزرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آدمی کا ہرعمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتاہے۔ ایک نیکی دس سے سات سوگنا تک پھیلتی ہے مگراللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ روزہ اس سے مستثنیٰ ہے وہ خاص میرے لیے ہے اور میں اس کا جتنا چاہتاہوں بدلہ دیتاہے۔
عائشہ نے کہا کہ رمضان المبارک کے روزوں میں خواتین کا جو کردار ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ، لہذا رمضان المبارک کا زیادہ ثواب بھی انھیں کو ملتا ہے۔کیونکہ ایک حدیث کے مطابق نیکی کے بڑھنے اور پھیلنے پھولنے کی کیفیت جس طرح رمضان میں ہوتی ہے۔ اس کی کوئی انتہاءنہیں ، اس ماہ میںخیروبرکت کی نشوونما ہوتی ہے۔روزے داروں کو روزے رکھوانا اور کھلوانے سے بڑھ کر کیا اور بیکی ہو گی جو خواتین انجام دیتی ہیں۔
عائشہ نے بتلایا کہ بیشتراحادیث میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کی تیاری کے لیے جنت کو سال بھرسجایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی بھرپورتیاری کے ساتھ رمضان المبارک کا استقبال کرنا چاہیے۔ اس ماہ کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس ماہ میں صرف قرآن پاک ہی نہیں بلکہ تمام الہامی کتابیں، تورات، زبور اور انجیل بھی اتاری گئیں۔ قرآن کی نعمت کے شکرانے کے لیے روزے فرض کیے گئے۔ لہٰذا رمضان کی تیاری میں جس چیزکو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ وہ قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں”لوگوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کے لیے شفاءہے۔ اور جو اسے قبول کرلیں اس کے لیے اس میں رہنمائی اور رحمت ہے۔ ایک جگہ پر اللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہوکہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی۔ اس پرلوگوں کو خوشی منانا چاہیے “
جمیلہ کہنے لگی کہ میں یہی بات تو کر رہی تھی کہ خواتین سحری، افطار، تلاوت، نماز کی مصروفیت کے باوجود گھر کے تمام افراد کے لئے نئے کپڑے، گھر کی تفصیلی صفائی اور شاپنگ میں مصروف ہوتی ہیں۔ اگرچہ کچھ خواتین رمضان المبارک سے پہلے ہی بہت سی اشیا تیار کرکے فریز کر لیتی ہیں ، لیکن بیشتر انہی دنوں نت نئے کھانے بھی پکاتی ہیں اور ایسی ایسی ڈشیں تیار کرتی ہیں کہ جو عموماً سارا سال نہیں بناتی ۔
عائشہ نے کہا کہ یہ سب کچھ بھی ٹھیک ہے لیکن اس ماہ میں خواتین کے لیے اس بات کا خیال بھی زیادہ رکھنا ضروری ہے کہ رمضان کے دن اور رات کا ایک ایک لمحہ اتنا قیمتی ہے کہ اسکا کوئی نعم البدل نہیں ۔جہاں خواتین سحر و افطار میں بچوں کی غذا کی ضروریات کے لئے حساس ہوتی ہیںوہاں رمضان کو اپنے بچوں کی تربیت کا مہینہ بھی بنایا جائے۔ انکے سامنے ایک مسلمان روزہ دار ماں کا آئیڈیل نمونہ پیش کریں جو کسی کی غیبت نہیں کرتی، جو کسی سے چیخ کر بات نہیں کرتی، گھر میں کام کرنے والی ملازمہ پر غصہ نہیں کرتی، بچوں پر عام دنوں سے زیادہ شفقت اور مہربانی کرتی ہے کیونکہ ہمارا رویہ ہی بچوں کو رمضان کی عظمت کا احساس دلائے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s