خواتین

شوہر بیماری کی جڑ ہیں؟

7d02b7284f7f2526_battered_women

منصور مہدی
…..یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ شادی شدہ خواتین اپنے شوہروں کی عادتوں سے بہت زیادہ پریشان ہوتی ہیں،جس وجہ سے اکثر گھروں میں خواتین جھنجھلاہٹ اور ذہنی تناو¿ کا شکار نظر آتی ہیں۔ایک حالیہ تحقیق میں بیویوں نے خواتین کی اس کیفیت کا ذمہ دار خاوند کو ٹھہرایا ہے۔ایک امریکی رسالے’ ٹوڈے مام ‘ نے ایک جائزے میں بیویوں سے ایک سوال پوچھا کہ ان کے ڈپریشن کی وجہ ان کے بچے ہیں یا خاوند؟اس سوال کا جواب7 ہزار سے زائد بیویوں نے دیا۔
ان میں سے 46 فیصد بیویوں نے کہا کہ انکے خاوند بچوں سے کہیں زیادہ ان کے لیے ذہنی تناو¿ کا باعث بنتے ہیں۔خواتین کا گلہ تھا کہ ان کے خاوند نہ تو بچوں کی دیکھ بھال میں ان کی مدد کرتے ہیں بلکہ خود بھی کسی بچے کی طرح فرمائشیں کرتے ہیں۔ایک پرائیویٹ دفتر میں کام کرنے والی ایک خاتون نے کہا کہ گذشتہ بیس برسوں سے وہ اپنے گھریلو اور بچوں سے متعلق ہر چھوٹے بڑے فیصلے خود ہی کرتی آرہی ہیں۔ ان کے خاوند بچوں کے مستقبل کے حوالے سے اگرچہ فکرمندی کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن جس قسم کے چھوٹے موٹے معاملات خواتین کو سلجھانے پڑتے ہیں ان کے خاوندوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔
تین تہائی بیویوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر کی ساری ذمہ داریاں خود ہی نبھاتی ہیں جبکہ ہر 5 میں سے 1 بیوی میں ڈپریشن اور جھنجھلاہٹ کا سبب خاوندوں سے گھریلو ا±مور میں تعاون نہ ملناہے۔چونکہ خواتین اپنے شوہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے غصے کا اظہار نہیں کر پاتی ہیں اس لیے ان میں غصے اور جھنجھلاہٹ کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے۔بیویوں کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کے خاوند اس ذمہ داری کی ادائیگی میں ان کی مدد کریں۔
اس جائزے کی سربراہ ڈینا فلاینو کا کہنا تھا کہ”ایک سات برس کی عمر کا بچہ سات برس جیسی ہی حرکتیں کرتا ہے لیکن جب ایک 40/45 برس کا شخص 7 برس کا بچہ بن جائے تو پریشانی بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ وہ سمجھدار ہوتا ہے۔”اس جائزے میں کچھ بیویوں نے بڑے دلچسپ جوابات بھی دیے ہیں۔ایک بیوی کا کہنا تھا کہ اسے ایسا لگتا ہے کہ ان کے گھر میں صرف وہ ہی ایک ہی بالغ انسان ہے، جبکہ سب بچے ہیں۔ ایک بیوی نے جواب میں لکھا کہ ‘مجھے اپنے خاوند کا خیال بچوں کی طرح ہی رکھنا پڑتا ہے مثلا انھیں کیا پہننا ہے ان کا موبائل فون، چابیاں، موزے حتیٰ کہ ان کے دفتری معاملات بھی انھیں یاد دلانے پڑتے ہیں۔ ایک بیوی نے کہا کہ اپنے خاوند کے گھر واپس آنے پرمجھ پر ذہنی دباو¿ بڑھ جاتا ہے یوں لگتا ہے کہ پھر سے ایک ڈیوٹی شروع ہو گئی ہے۔
اس جائزے میں اکثر بیویوں کا کہنا تھا کہ شوہروں کی عجیب و غریب عادتیں ڈپریشن کا باعث بنتی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مغرب ہو یا مشرق ، یورپ ہو یا افریقہ ہر جگہ خاوند ہی کو برتری حاصل ہے اور موجودہ ہر معاشرے میں بیویوں کو اپنے شوہروں سے گلا ہے کہ ان کی عادتیں بیویوں کے لیے باعث تکلیف بنتی ہیں، یہی عادتیں بسا اوقات تلخ کلامی سے شروعات ہو کر لڑائی مار کٹائی بلکہ طلاق اور علیحدگی تک معاملہ کو پہنچا دیتی ہیں۔
ایک بات جو مردوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے وہ اپنی برتری کی وجہ سے اپنی بری عادتوں کو بھی برا نہیں سمجھتے بلکہ وہ بیویوں سے ہی توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کی عادتوں کی عادی ہوجائیں، بیشتر کواتین کو جلد ہی شوہر کی عادتوں کو اپنا لیتی ہیں اور سمجھ جاتی ہیں کہ یہ عادتیں در اصل علتیں ہیں جو اب اس عمر میں تبدیل نہیں ہو سکتیں، چنانچہ اچھی خواتین خود ان کا عادی بنا لیتی ہیں، لیکن جو خواتین کوشش کرتی ہیں کہ وہ شوہر کی عادتوں کی عادی ہو جائیں مگر وہ خود کو کسی وجہ سے عادی نہیں بنا پاتی ، ان کی زندگی بہت کٹھن اور دشواری میں پڑ جاتی ہے۔
امریکہ کی مشہور ماہر نفسیات خاتون ڈاکٹر لزووڈ ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ میاں بیوی کے معاملات میں دراصل دشواری یہ ہے کہ خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر گرے، اصل نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے، اسی طرح گھریلو معاملات میں بھی عورت جتنا ہی زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے مگر اس کی قبولیت یا ناقبولیت کا انحصار مردوں پر ہی ہوتا ہے۔ عورتوں کو اپنا گھر بسانے کے لیے زیادہ قربانی دینی پڑتی ہے ، لیکن اگر اسے پھر بھی پزیرائی نہ ملے تو پھر یہ دکھ اور تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔
ڈاکٹر لزووڈ کہتی ہیں کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو اپنی مشکلات‘ مسائل‘ الجھنوں‘ خوشیوں‘ کامیابیوں اور ناکامیوں کے بارے میں اعتماد میں لیں اور مطلع رکھیں، ایک دوسرے کی عادتوں کو اپنے اندر جذب کر لیں اور دوسرے کو احساس نہ ہونے دیں کہ ان کی اس عادت سے اسے کتنی تکلیف پہنچی ہے۔ ڈاکٹر لزووڈ کا کہنا ہے کہ 30فیصد کیسز میں یہ دیکھنے میں آیا کہ جب مرد یا عورت نے اپنے بیوی یا شوہر کی نا پسندیدہ عادتوں کو نظر انداز کرنا شروع کیا تو اس گھر کی روز روز کی جھک جھک ختم یا کم پڑ گئی۔ ڈاکٹر لزووڈ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب آپ نظر انداز کرنے کی عادت کو اپنا لو گے تو دوسرا شخص خود بخود اپنے اندر شرمندگی کا احساس محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا شروع کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر لزووڈ کا کہنا ہے کہ ہر معاملے میں ایک دوسرے سے مشورہ کرنے سے بھی ذہنی ہم آہنگی آتی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر لزووڈ اپنے مشوروں کو اس ترتیب سے بیان کرتی ہیں ، بچوں کی نگہداشت میں خصوصی تعاون ‘ گھریلو کاموں اور مسائل میں تعاون‘ کتابوں کے مطالعے میں تبادلہ خیال اور ٹیلی ویڑن پروگراموں میں پسند وغیرہ کو حتی الامکان یکساں بنانے کی کوشش‘ ایک دوسرے کی خوشی‘ دکھ‘ الجھن‘ اور جذبات میں گہری شمولیت دونوں فریقین کے لیے ضروری ہے۔
ڈاکٹر لزووڈ کا کہنا ہے کہ چھوٹی چھوٹی الجھنوں کو باہمی طور پر حل کرکے ا±ن بڑی الجھنوں سے بچا جاسکتا ہے جو بعد میں پیش آسکتی ہیں۔ مردوں کیلئے ملازمت گھر کی اقتصادی بہبود کیلئے ناگزیر ہے اس لیے وہ زیادہ وقت اسی تگ و دو میں صرف کرنے پر مجبور ہیں۔ اسے دور کرنے میں انہیں کئی طرح کی الجھنوں‘ تلخیوں‘ کامیابیوں یا ناکامیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کے تمام احساسات میں بیویاں شوہروں کو مشورہ دے سکتی ہیں یا کم سے کم ہمدردانہ باتوں سے ان کا ذہنی بوجھ ہلکا کرسکتی ہیں۔ اس میں شوہروں کو بھی بیویوں کی رائے اور ہمدردانہ جذبات کی قدر کرنی چاہیے اور انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ ان کی رائے اور ہمدردی بہت اہم ہے۔ ڈاکٹر لزووڈ کا کہنا ہے کہ ان کے مشوروں پر عمل کرکے کئی گھر‘ ماحول کو حیرت انگیز طور پر خوشگوار بناچکے ہیں۔ مثلاً اگر شوہر کسی بک کا مطالعہ کررہا ہے تو بیوی بور ہو کر چڑچڑا پن نہیں کرتی اور جب بیوی سلائی یا کڑھائی میں لگی ہوتی ہے تو شوہر گھر کے چھوٹے موٹے کام کرکے اس کی مدد کرتا ہے بلکہ اب تو کئی گھروں میں ان مشوروں سے ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیوی شوہر کے بک کے مطالعہ کے اوقات میں اسے کافی یا کیک بنا کر کھلاتی ہے اور جب بیوی کپڑے دھوتی ہے یا کڑھائی بنائی کرتی ہے تو شوہر بچوں کو پڑھاتا ہے۔ ڈاکٹر لزووڈ کا کہنا اس طرح مل جل کر ہی گھر آباد ہوتے ہیں جب دونوں فریق ایک دوسرے کے لیے کچھ نہ چکھ قربانی نہیں دیں گے گھر آباد نہیں رہ سکیں گے۔
ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ ساتھی کی کمزور یوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنی چاہیے کیونکہ آئیڈیل اور بے عیب مرد اس عالم ہستی میں کہیں نہیں مل سکتے۔ برطانوی ماہر نفسیات سارا کا کہنا ہے کہ زندگی کی خو شحا لی اور شیر ینی، میاں بیو ی کی با ہمی شر اکت و تعا و ن ، عقلمند ی اور ایک دوسر ے کے حقوق با احسن ادا کر نے کی مرہونِ منت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشتر ک از دواجی زند گی جو ایک مقد س عہد و پیما ن سے شر و ع ہو تی ہے ہم انسانوں کے لیے خد ا و ند عا لم کی عظیم الشان نعمتو ں میں سے ایک نعمت ہے لیکن سا تھ ہی یہ بہت سی آفتوں میں بھی گھری ہوئی ہے۔انھوں نے کہا میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ دونوں ایک دو سر ے کی عادتوں کو یا تو نظر انداز کر دیں یا پھر انھیں اپنا لیں اور خود بھی ویسا ہی ہوجائیں جیسا ساتھی چاہتا ہے۔تاہم شوہروں کو چاہیے کہ وہ نامحرم خو اتین کے ساتھ معاشرت اور نشت و برخاست یا ایسا کوئی کام اور بات نہ کریں کہ جس کی وجہ سے آپ کی بیویاں آپ سے حسد کر نے لگیں۔ اس طر ح بیویوں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی کوئی ایسا کام نہ کرے کہ جس سے ان کے شوہر کے دل میں حسد یا غیرت کا جذبہ پیدا ہو۔ کیونکہ یہ حسد انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا اور محبت کی بنیادو ں کو کمزور کرکے اسے جڑ سے ختم کردیتا ہے۔
سارا کا کہنا ہے کہ شادی کرتے وقت پسند اور نا پسند کا ضرور خیال کرنا چاہیے مگر جب شادی ہوجائے تو پھر شوہر کیسا بھی ہو بہرحال اپنی بیوی کی تکیہ گاہ ہوتاہے اور بیوی کو اسی پر تکیہ اور بھروسہ کرنا چاہیے۔یہ بیوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ایسی حفاظت کرے کہ اس پر تکیہ کرسکے۔ اگر آپ نے اس طرح اپنے گھر کو بسایا تو جان لیے کہ آپ نے اپنی خوش بختی کے ایک بنیادی رکن کی حفاظت کرلی ہے۔ڈاکٹر سارا کا کہنا ہے کہ شا دی میں کوئی بھی آئیڈیل نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی انسا ن اپنے آئیڈیل کو ڈھونڈسکتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ مل جل کر زندگی کی تعمیر کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ شادی کے ابتد امیں جب میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو انہیں سامنے سب کچھ اچھا اور خوبصورت ہی نظر آتا ہے،کچھ مدت بعد وہ کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے،مناسب ہے،اس کے بعد نقائص،کمی و کوتاہی اور کمزوریاں آہستہ آہستہ دونوں میں نظر آنے لگتی ہیں۔لیکن ان تمام باتوں کو میاں بیوی کے لیے سرد مہری اور دل کی تنگی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ بلکہ انہی کوتاہیوں اور کمزور یوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنی چاہیے کیونکہ آئیڈیل اور بے عیب مرد اور عورت اس عالم ہستی میں کہیں بھی نہیں مل سکتے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s