خواتین

چوری کیسی؟ اپنا شوہر، اپنے پیسے

steal-money-8751862

منصور مہدی

…..بیوی نے گھبرائی ہوئی آواز میں شوہر سے کہا کہ شادی کی رات جو سونے کی انگوٹھی آپ نے مجھے تحفے میں دی تھی ، وہ آج کہیں گم ہو گئی ہے۔ تو شوہر نے کہا “اچھا” ، یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج میرے کوٹ کی جیب میں سے بھی ایک ہزار کا نوٹ غائب ہے ۔۔۔۔ مگر مجھے ہزار کا نوٹ گم ہونے کا اتنا غم نہیںہے۔ کیوں ؟ بیوی نے چونک کر پوچھا۔اس لیے کہ تمہاری کھوئی ہوئی انگوٹھی مل گئی ہے، شوہر نے جواب دیا۔ کیا سچ؟ بیوی نے خوشی سے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ کہاں پڑی ہے؟ میرے کوٹ کی جیب میں تھی کہ جس میں سے ہزار روپے غائب ہوئے تھے۔
یہ تو خیر ایک لطیفہ تھا ۔ مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایسی بہت سے بیویاں ہیں کہ جو اپنے شوہروں کی جیب پر ہاتھ صاف کرتی رہتی ہیں۔ زیادہ کماﺅ شوہر ہو تو جیب سے پیسے غائب ہونے کا شوہر کو اتنا زیادہ پتا نہیں چلتا اور اگر اندازہ ہو بھی جائے تو شوہر کوئی نوٹس نہیں لیتا ۔ ہاں اگر شوہر کوئی ملازمت پیشہ ہو یا کم آمدن ہو اور بیوی ایسی مل جائے تو بس پھر اس بیوی کی خیر نہیں، آئے دن لڑائی جھگڑے اس گھر کا مقدر بن جاتا ہے۔ بسا اوقات یہ لڑائی جھگڑے بڑھتے بڑھتے علیحدگی تک پہنچ جاتے ہےں۔
بیویاں ایسا کیوں کرتی ہیں ؟ جب اس سوال پر غور کیا اور دیگر افراد سے پوچھا تو اس کی کئی وجوہات سامنے آئیں۔جیسے ہمسائے کی کسی عورت کا کوئی عمدہ پہناوا دیکھا یا کسی عزیزہ کے گھر میں کوئی نئی چیز دیکھی تو وہ عورت بھی ویسا ہی پہناوا خریدنے یا ویسی ہی چیز خریدنے کے لیے یا شوہر کی جیب سے پیسے نکال کر ضرورت پوری کر تی ہیں۔ لیکن اس کی سب سے اہم وجہ خود شوہر ہوتے ہیں، ایسے شوہر جو اپنی بیویوں کی ضرورت کا خیال نہیں کرتے اورانھیں جیب خرچ نہیں دیتے۔
میاں بیوی کے تعلقات میں ہم آہنگی کسی بھی معاشرے کی مضبوطی اور اس کے استحکام کیلئے ایک بنیادی اور اساسی اہمیت کی چیز ہے۔ میاں بیوی کے میل ملاپ اور ان کے اتحاد واتفاق ہی کی بدولت ایک نئے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور مختلف خاندان کا مجموعہ ہی معاشرہ یا سماج یا سوسائٹی کہلاتا ہے۔ لہذا جن خاندانوں میں باہمی جھگڑے پائے جاتے ہیں یا جن میں اتحاد ویگانگت موجود نہ ہو۔ یا جن میں میاں بیوی کے درمیان تفرقہ اور انتشار پیدا ہو چکا ہو وہ معاشرہ اور سماج حد درجہ کھوکھلا ہوجاتا ہے اور بہت جلد زوال کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اس اعتبار سے میاں بیوی کے درمیان محبت والفت اور باہمی ہم آہنگی کا پیدا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ دونوں مل کر اپنے حقوق وفرائض بخوبی ادا کر سکیں اور اپنی اولاد کی بھی صحیح تر بیت کر سکیں۔ جن کے نازک کندھوں پر اگلے خاندانوں کو سنبھالنے اور انہیںقائم رکھنے کا بوجھ رکھا جائے گا۔
اسلام کی نظر میں گھر اور زوجہ کے تمام اخراجات ادا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے اور مرد کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے تمام اخراجات کو پورا کرے، چاہے بیوی شوہر سے زیادہ دولتمند ہی کیوں نہ ہو۔ نفقہ (اخراجات) کا واجب ہونا اسلام کا ایک قطعی حکم ہے اور زوجہ کا شرعی حق ہے۔ اگر مرد اس کو نہ ادا کرے تو اس کے اوپر قرض کے عنوان سے باقی رہے گا اور مطالبہ کے وقت ادا کرنا پڑے گا۔
فقہا ءنے نفقہ کی تعریف کچھ اس طرح سے کی ہے۔
نفقہ : ان چیزوں کو کہا جاتا ہے جو عورت کی زندگی کے لئے ضروری ہو اور وقت ، حالات اور اس کی گھریلو حیثیت کے مطابق ہوں جیسے
1۔ کھانا،پینا، پھل اور دوسری ضرورتیں معمول کے مطابق۔
2۔سردی اور گرمی کے کپڑے جو اس کی شان کے مطابق ہوں۔
3۔ بستر، تکیہ ، پلنگ ، تخت وغیرہ۔
4۔ کھانا پکانے اور کھانے پینے کا سامان۔
5۔ گھر کو گرم یا ٹھنڈارکھنے کے وسائل(پنکھا، کولر، انگیٹھی وغیرہ)
6۔ ذاتی گھر یا کرایہ کا گھر جو اس کی حیثیت کے مطابق ہو اور اس میں گھر والوں کے لئے سکون فراہم ہو سکے۔
7۔ علاج کے اخراجات۔
8۔ صفائی اور بناﺅ، سنگھار کے سامان اور دوسری ضروریات زندگی۔
فقہا ءکا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ بحیثیت مسلمان یہ شوہروں پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو ان کی ضرورت کے مطابق کچھ ذاتی خرچہ دیں۔ خاوند اپنے اخراجات جیسے مر ضی کر ے مگر بیوی کے لئے کچھ ذاتی خرچہ ضرور دے ۔کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو آپ کے حو الے کر دیا ہوا ہے ،وہ آپ کے لیے وقف ہو چکی ہے۔چنانچہ اس کی جملہ ضروریا ت آپ کے ذمے ہیں۔ بحیثیت انسان اس کا بھی کہیں خرچ کرنے کو دل کر تا ہے۔ اپنی مر ضی کی کوئی چیز خرید نے کا ، اپنے والدین یا عزیز واقارب کو کچھ دینے کا یا کچھ صدقہ خیرات کرنے کا۔ تو فقہا ءنے لکھا ہے کہ خاوند کو بیوی کا ہر مہینے کا کچھ ذاتی خر چ متعین کر دینا چا ہیے۔جو ہر مہینے اپنی بیوی کو دے کر بھول جا ئے اوراس کا حساب اس سے نہ ما نگے ۔ اب یہ عورت کو اختیا ر ہے کہ وہ چا ہے تو ان پیسوں کو اپنے کپڑے اور جوتوں پر خر چ کر ے اور اگر چا ہے تو اپنے بچوں پر اس کو خرچ کر ے ، یا چا ہے تو غرباء پر اس کو خرچ کر ے۔ اس لئے کہ عورت کوبھی تو دل ہے کہ میں اللہ کے راستے میں اس کو خرچ کر وں ، ممکن ہے کہ وہ کسی غریب عورت کی امداد کر نا چا ہتی ہو، کوئی دکھی عورت اس کے علم میں ہو وہ اس عورت کو کچھ دینا چا ہتی ہو یا اللہ کے راستے میں خرچ کر نا چا ہتی ہو۔ تو عورت کو یہ اختیا ر ہے کہ وہ اپنے پیسے جو جیب خرچ کے ہیں ان کو اپنی مر ضی سے خرچ کرے۔
جیب خرچ کے حوالے سے فقہا ءکا یہ بھی کہنا ہے کہ شریعت یہ نہیں کہتی کہ خا وند پر اتنا زیادہ بو جھ ڈال دےا جائے کہ وہ اٹھا ہی نہ سکے۔ ہاں شوہر جتنا جیب خرچ آسانی سے د ے سکتا ہے اتنا خرچ متعین کر دے۔ جس کا اصل میں مقصد یہ ہے کہ بیوی کو چھو ٹی چھو ٹی با توں میں خاوند کی منتیں نہ کر نی پڑ یں۔اس طرح شر یعت نے عورت کی عزت کا خیال رکھا ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات کے لئے ہر وقت کی محتا ج نہ رہے اور فقیروں کی طرح شوہر کے آگے ہا تھ نہ پھیلا تی رہے۔
آج کل چو نکہ جیب خرچ متعین نہیں کیا جا تا ، لہٰذا عورتیں گھر کے خرچے کو عورتیں جیب خرچ ہی سمجھ لیتی ہیں، یا پھر شوہر کی جیب پر ہاتھ صاف کرتی ہیں ۔ جس سے جھگڑوں کا آغاز ہوتا ہے۔
مزید مزے کی بات یہ ہے کہ شوہر کی جیب سے پیسے نکالنا کوئی جرم بھی نہیں۔ یہ چوری کے زمرے میں نہیں آتا، اس عمل پر کوئی تعزیر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ بلکہ بخاری شریف میں ایک حدیث بیان کی گئی ہے کہ شوہربیوی کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کے اخراجات کو پورا کرے اگر وہ ان اخراجات کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا ہے یا بخل سے کام لے کر پورے ادا نہیں کرتا تو بیوی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقہ سے خاوند کی آمدن سے انہیں پورا کرسکتی ہے۔اس حوالے سے رسول خدا صلی اللہ علیہوآلہ وسلم نے فرمایا، بیوی شوہر کے مال سے اس کی اجازت ے بغیر اتنا لے سکتی ہے جس سے معروف طریقہ کے مطابق اس کی اور اس کی اولاد کی گزر اوقات ہو سکے یعنی گھر کا نظام چل سکے ۔
مندرجہ بالا حدیث کے پیش نظر اگر خاوند گھریلو اخراجات کی ادائیگی میں کنجوسی کرتا ہے تو بیوی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اتنی رقم لے سکتی ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے لیکن یہ اجازت صرف ضروریات کیلئے ہے فضولیات کے نہیں ۔نیز اگر ایسا کرنے سے بیوی خاوند کے درمیان اختلاف اور تعلقات کے کشیدہ ہونے کا اندیشہ ہے تو اس طریقہ سے اخراجات پورے نہیں کرنا چاہیئے۔ کیونکہ بیوی خاوند کے تعلقات کی استواری مقدم ہے ،اس بات کا فیصلہ بیوی خود کر سکتی ہے کہ ایسا کرنے سے تعلقات تو خراب نہیں ہوں گے ، بہرحال ایسے حالات میں ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بیوی کو اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اس قدر رقم لینے کی شرعاً اجازت ہے جس سے معروف طریقہ کے مطابق گزر اوقات ہو سکے۔
بحرحال شوہروں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کو گھریلو اخراجات کے علاوہ کچھ جیب خرچ بھی باقاعدگی سے دیا کریں۔ اس سے ایک تو ہر دو فریقین کی زندگی آرام سے گزر سکے گی اور کوئی تلخی پیدا نہیں ہو گی اور دوسرے بیویاں بھی شوہروں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے سے باز و ممنوع رہیں گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s