پاکستان

اسلامی بینکاری ….. تیزی سے ترقی کرتی ہوئی صنعت

islamic-bank

منصور مہدی
…..اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور ابھی حال ہی میں کہا ہے کہ اسلامی بینکاری صنعت کی گہرائی اور وسعت میں اضافے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے میڈیا مہم کا افتتاح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میںاسلامی بینکاری نے35.5فیصد سالانہ سے زیادہ کی شرح نمو دکھائی ہے اور یہ صنعت اثاثوں کے لحاظ سے8.6 فیصد اور ڈپازٹس کے لحاظ سے 10 فیصد پر مشتمل ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اور ملکی طور پر یہ صنعت ابھی ارتقائی مرحلے میں ہے۔
پاکستان بلکہ دیگر مسلم ممالک میں اسلامی مالیاتی نظام یا اسلامی بنکنگ کا آغاز عقیدے کے اعتبار سے حساس افراد کی ضروریات کو پوری کرنے کی غرض سے شروع ہوا تھا، لیکن اب یہ ایک متحرک صنعت بن چکی ہے۔ جو 20 فیصد سالانہ سے زائد نمو کرتے ہوئے مسلم ممالک کے علاوہ دوسرے غیر مسلم ملکوں میں بھی پھیل گئی ہے۔دنیا کے 75 سے زائد ممالک میں اب1500 کے قریب اسلامی بینکوں اور مالیاتی اداروںکا نیٹ ورک ہے جو1.3 ٹریلین ڈالر سے زائد کے اثاثے رکھتے ہیں۔
دراصل اسلامی مالیاتی نظاممیں لچک کی بنا پر اسے روایتی بینکاری کے قابل عمل متبادل کے طور پر دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر قبول کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کے لیے اب جامع قانونی، ریگولیٹری اور نگرانی کے ڈھانچے بنائے جا رہے ہیں اور عوام الناس میں آگاہی کے لیے مہمیں چلائی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی اسٹیٹ بینک تفصیلی شریعہ گورننس فریم ورک بنا رہی جاری کرنے کے ایڈوانس مراحل میں ہے جس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز، اعلیٰ انتظامیہ اور شریعہ بورڈز سمیت اسلامی بینکاری اداروں کے کردار کو شفاف بنانے پر مصروف ہے۔
ابتدائی مراحل میں ہونے کے باوجود پاکستان میں اسلامی بینکاری کے تحت اسلامی بینکوں میں دیپازٹس 706ارب روپے کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔جبکہ گذشتہ ایک سال کے دوران اسلامی بینکوں کے ڈیپازٹس میں 185ارب روپے کا اضافہ ہواہے۔ رواں مارچ تک ملک میں اسلامی بینکاری کے برانچوں کی کل تعداد 100 سے زائد ہوچکی ہے ۔
اسلامی بنکاری نظام
اسلامی بنکنگ سے مراد بنکاری کا ایسا نظام ہے کہ جس میں شرعیت کے اصولوں کی پاسداری کی جائے، دوسرے الفاظ میں سود سے پاک بنکاری کا نظام جس میں نفع و نقصان کی بنیاد پر شرکت کی جائے۔ اگرچہ اسلامی حلقوں میں شرعی اصولوں کی بنیاد پر بنکاری نظام کی ضرورت تو ہمیشہ سے محسوس کی جا تی رہی ہے۔مگر گذشتہ صدی عیسوی کی چھٹی دہائی میں جب مغربی مالیاتی نظام میں خامیاں ظاہر ہونا شروع ہوئی تو اس کے متبادل نظام کی تلاش شروع ہو گئی ۔چنانچہ اس متبادل نظام( اسلامی بنکاری) کا پہلا تجربہ 1966ءمیں مصر کے ایک شہر میں میں غمر سوشل بنک کے قیام کی صورت میں ہوا۔مگر 1983ءکا سال بجا طور پر دنیا بھر میں اسلامی بنکاری کے وجود میں آنے کا سال قرار دیا جا سکتا ہے کہ جب اسلامی بنک بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔وقت گزرنے کے ساتھ اب یہ نظام انتہائی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔اسلامی بینکنگ کے شعبہ میں اس وقت ایران پہلے جبکہ ملائشیا دوسرے اور سعودی عرب تیسرے نمبر پر ہیں۔
غیر مسلم ممالک میں اسلامی بنکاری نظام
اسلامی بنکاری ( بلا سود، نفع نقصان کی بنیاد) کا رجحان اب تیزی کے ساتھ غیر مسلم ممالک میں بھی بڑھ رہا ہے۔چین جو دنیا کی سب تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے ،نے مغربی مالیاتی نظام کے بحران کو دیکھتے ہوئے اور بلا سود بنکاری کی افادیت کو محسوس کرتے ہوئے اسلامی فنانس سسٹم میں داخل ہونے کے لیے پر تول رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے اسلامی بنک Bank of Ningxia کو لائسنس جاری کیا ہے۔ برطانیہ کا شہر لندن موجودہ دور میں اسلامی فنانس کا ایک بڑا مرکز بنتا جا رہا ہے۔بھارت بھی بلا سود بنکاری کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔چند سال پہلے ہی ریزرو بنک آف انڈیا نے اس حوالے سے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ امریکہ میں جہاں 9/11کے بعد اسلامی فنانس کے شعبے کو بند کر دیا تھا مگر اب وہاں کے سرمایہ دار بھی اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ چنانچہ 2009ءمیں امریکہ میں پندرہ اسلامی مالیاتی ادارے قائم ہوئے اور اب وہاں 200سے زائد اسلامی بنک کام کر رہے ہیں۔ امریکی ملٹی نیشنل کمپنی جنرل الیکٹرک کارپوریشن نے ابھی حال ہی میں اسلامی بانڈ جاری کر کے پہلی مغربی کمپنی بن چکی ہے۔
پوپ بینیڈکٹ اور اسلامی بنکاری نظام
عیسائی فرقے کیتھولک کے سابق پوپ بینیڈکٹ کے روز نامہ ایل اوسرواٹور رومانو نے پوپ کے حوالہ سے لکھا تھا کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران کو اسلامی بینکنگ نظام کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے۔ پوپ نے مغربی بینکوں کو اسلامی بینکنگ نظام کے اپنانے کا مشورہ ایسے وقت دیا تھا کہ جب پوری دنیا اقتصادی بحران کا شکار ہے بینک اپنے گاہکوں میں بینکوں پر اعتماد بحال کر سکیں۔اخبار لکھتا ہے کہ اسلامی بینکنگ نظام کی اساس جن اخلاقی بنیادوں پر رکھی گئی ہے اس کو با اختیار کرکے ہی بینک اور اس کے گاہکوں کے درمیان حائل دوریاں دور کی جاسکتی ہیں نیز مالیاتی اداروں کی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اسلامی بنکاری نظام پر تنقید
کچھ اسلامی مفکرین نے اس ایشو پر اپنی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کے کچھ بینکوںنے اسلامی بینکنگ کی بنیاد رکھی ہے۔جو ایک خوش آئند بات ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ جو بات ہر انسان کے لئے سوچنے کا باعث بنی وہ اسلامی بینکنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات ہیں جو صرف اسلامی لیبل کے زیر سایہ اسی سودی بینکاری کو فروغ دیتی دکھائی دے رہیں ہیں۔کیونکہ اسلامی بینکنگ میں کوئی جدت نہیں کی گئی تھی بلکہ انہی اصطلاحات کو اسلامی نام دے کر ہیر پھیر کی گئی ہے، جسے اسلام کے پرچم تلے دھوکہ دہی ہی کہا جا سکتا ہے۔ مروجہ اسلامی بینکاری کا ابتدائی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لئے چھ اسلامی ستونوں کا سہارہ لیا گیا وہ چھ ستون یہ ہیں۔(ایک)مضاربہ(دو) مشارکہ (تین) مرابحہ (چار) اجارہ(پانچ)سلم (چھ) استصناع پر قائم کیا گیا مگر ان اہم ارکان کے بارے میں اگر ہم تفصیل میں جائیں گے تو ہمیں ان میں اور سودی بینکنگ میں استعمال ہونے والی اصطلاحات میں کچھ خاص فرق دکھائی نہیں دے گا۔
اسلامی مالیاتی نظام کی ابتدا
وہ لوگ جو موجودہ نظام بینکاری کو جدید دنیا کی ایک اہم ایجادات میں سے ایک سمجھتے ہیں اور مالیاتی نظام کو یورپ کے ساتھ موسوم کرتے ہیں ، انہیں یہ جاننا چاہیے کہ مغربی تجارتی بنکوں کی تاریخ زیادہ قدیم نہیں ہے، مغربی دنیا میں تجارتی بنکوں کا ظہور اور اس کی ترقی گزشتہ دو اڑھائی سو سالوں میں صنعتی تہذیب کے ساتھ ہوئی ۔ باقاعدہ طور پر یورپ میں پہلا بنک 1609ءمیں پالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم میں قائم ہوا جبکہ اسلام نے بنکاری کا منضبط پروگرام 1400سو سال پہلے ہی تشکیل دے دیا تھا جس کی مثال ملنا نا ممکن ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور مبارک میں مشارکہ اور مضاربہ اور بیت المال جیسا مرکزی مالیاتی ادارہ سرگرم عمل رہا۔بنکاری کا قومی مرکزی ادارہ جو آج کل مرکزی بنک کا پیش رو ہے بیت المال کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مگر بد قسمتی سے مسلمان اس نظام کو زیادہ دیر تک نہ اپنا سکے اور مغربی مالیاتی نظام سے وابستہ ہوگئے۔
اسلامی بنکاری کا مستقبل
ایک معروف برطانوی ادارے سیکیورٹیز اینڈ انوسٹیمنٹ انسی ٹیوٹ نے اسلامک بنکنگ اور مالیاتی نظام اور اس کی مصنوعات پر ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق اسلامی شریعت سے مطابقت رکھنے والی فنانس اور بنکنگ انڈسٹری دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی مارکیٹ ہے اور ادارے کے اندازے کے مطابق آئندہ دو سالوں میں اس کی مالیت ایک ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ ایک اور رپورٹ میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2015ءتک اسلامی بنکاری کے اثاثوں کی مجموعی مالیت4ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔لیکن اس کے باوجود اسلامی بنکاری کو روایتی بنکاری کے بالمقابل لانے کے لیے بہت سے چیلجز درپیش ہیں، اور اس سے نمٹنے کے لیے ابھی بہت اقدامات ہنگامی طور پر اٹھانا ہوں گے۔
اسلامی بنکاری کے مستقبل کے حوالے برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے آکسفرڈ سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ وزارت خارجہ، برطانیہ کے لئے ایک تجارتی سفیرکا کردار ادا کررہی ہوں اوراسلامی مالیات اس کا ایک اہم حصہ ہے۔یہاں برطانیہ میں اس شعبے میں ترقی کی عظیم مثالیں پہلے ہی موجود ہیں۔ لندن میں ایک درجن سے زائد بنک اسلامی مالیاتی لین دین فراہم کررہے ہیں ، جن میں سے پانچ مکمل طور پر شریعت کے مطابق کام کرتے ہیں۔ لندن کا منظرشریعہ لین دین کی وجہ سے تبدیل ہوچکا ہے۔ہماری عالمی لیڈرشپ کو مزید مستحکم کرنے کے لئے لندن کاانتخاب اکتوبر 2013ءمیں 9ویں عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے میزبان کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ اس بار یہ فورم اسلامی دنیا سے باہر ہورہا ہے۔تین وجوہ کی بنا پر میں سجھتی ہوں کہ اسلامی مالیات کے لئے وقت موزوں ہے۔
پہلی یہ کہ ہم آج خود کو ایک بدلتے ہوئے اقتصادی منظر میں عالمی دوڑمیں شریک پاتے ہیں۔ معاشی طاقت مشرق کا رخ کررہی ہے، چین اور بھارت اورمشرق وسطی اورجنوب مشرقی ایشیا کے بورڑوا درمیانی طبقے کی طرف منتقل ہورہی ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ، اسلامی مالیات آج کی اخلاقی مالیات کی تلاش کا جواب ہے۔ مالیاتی دھچکے کے بعد سے جب یہ واضح ہوا کہ نقصان اورمنافع کے درمیان ربط ٹوٹ چکا ہے، سود کا نہ ہونا بہت لوگوں کے لئے پرکشش ہوگیا ہے۔
تیسری وجہ ہے کہ اسلامی مالیات کیوں ایک اہم متبادل ہے کیونکہ ہم پہلے کی طرح اسی راہ پر چلنا جاری نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں توازن نو پیدا کرنا اور معیشت کو متنوع بنانا ہے۔ ہمیں اپنے موجودہ مقام کو مستحکم اورمحفوظ کرنا ہے۔ ہمیں نئی مارکیٹوں، مصنوعات اور خطوں سے سے رابطہ کرنا ہوگا۔پھر ایک ایسے وقت میں جب اعتماد کمزور ہے اورحکومت جی ایٹ کے ساتھ مل کر مالیاتی اداروں میں شفافیت کے لئے کام کررہی ہے، اسلامی مالیات ایک معقول اور نپا تلا بنکاری متبادل بن سکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s