پاکستان / سچی کہانیاں

میڈیا نے بات کا بتنگڑ بنا دیا … شرابی کو دہشت گردبنا دیا

sikandar case

منصور مہدی

….. پندرہ اگست کی شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب دارالحکومت اسلام آباد کے بلیو ایریا میں مسلح شخص سکندر کی فائرنگ کا واقعہ پر اب تک میڈیا میں بہت کچھ شائع ہو چکا ہے جبکہ الیکٹرونک میڈیا پر بھی اس کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔مگر ابھی تک ہمارے ایک دوست اس واقعہ کو صرف اور صرف ایک ایسے شرابی کی نشہ میں حرکت قرار دے رہے ہیں کہ جس کو ہمارے ملک کی پولیس عموماً غل غپاڑہ سے تشبیہ دیتی ہے۔
اخبارات میں روزانہ ایسی خبریں شائع ہوتی ہیں کہ جب پولیس کسی شرابی کو کسی سڑک، گلی یا محلے میں غل غپاڑہ کرتے ہوئے، لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے گرفتار کر لیتی ہے۔ ایسی بھی خبریں شائع ہوتی ہیں کہ شرابی نے غل غپاڑہ کے ساتھ ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی اور بعد میں ناجائز اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
ہمارے دوست کا اصرار ہے کہ یہ بھی اصل میں ایک ایسا ہی کیس ہے کہ جب سکندر نامی شخص نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ہوائی فائرنگ کر دی اور بڑھکے مارنی شروع کر دی اور پولیس کے ساتھ ساتھ حکومت کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ جب یہ تماشا شروع ہوا تو لوگ آہستہ آہستہ اس کے گرد جمع ہونے شروع ہو گئے، سکندر کی بدقسمتی کہ ان میں سے کسی شہری نے ایک ٹی وی چینل پر فون کر کے اسے اس تماشا کی خبر کر دی، بس پھر کیا تھا ، دیکھتے ہی دیکھتے پندرہ بیس ٹی وی کے نمائندے کیمروں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور پچاس ساٹھ کیمروں کے ساتھ منظر فلمانا شروع کر دیا، اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ تماشا پوری قوم کو دکھانے کے لیے براہ راست نشریات شروع کر دیں اور اس طرح یہ بات بتنگڑ بن گئی۔شرابی کا نشے کی حالت میں غل غپاڑہ کرتے ہوئے ہوائی فائرنگ ایک دہشت گرد کی اندھا دھند فائرنگ بن گئی ۔
ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ واقع ریڈ زون کے قریب پیش آیا تو فوراً اس اطلاع سیکیورٹی کے اداروں کو بھی مل گئی اور وزارت داخلہ کو بھی مل گئی، جب ابتدائی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ واقعی یہ ایک شرابی کا غل غپاڑہ ہی ہے جس کی وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے پہلے بیان میں تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ملزم سکندر کا ماضی دیکھا ہے اس کا کسی دہشت گرد تنظیم یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ایک نشہ کا عادی شخص ہے اور اس کا بیٹا ابو ظہبی جیل میں ہے ۔مگر جوں جوں یہ معاملہ طویل ہوتا گیا تو یہ بات سے بتنگڑ بنتا چلا گیا۔
ہمارے دوست نے اپنی بات کی تائید میں ایک مقامی ہفت روزہ میں پنجاب کے صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کا شائع ہونے والے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ جب اخبار نویس نے ان سے سوال کیا کہ جناب بلال صاحب آج کل میڈیا میں آپ کے ٹماٹر والے بیان کا بہت چرچا ہے۔ تو وہ غصے میں آ گئے اور کہا کہ میڈیابات کا بتنگڑ بنانے کا ماہر ہے آپ بادشاہ لوگ ہیں جو دل کرتا ہے لکھ دیتے ہیں۔ میں نے کسی اور تناظر میں بات کی تھی، میں اپنے موقف پر قائم ہوں، میرے بیان کا غلط مطلب لیا گیا ہے۔ میں نے کہا اگر کسی چیز کی قلت ہوجائے تو اس کا متبادل استعمال کرنا چاہیے۔ قدرت نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہی ٹماٹر کا متبادل لیموں ہو سکتا ہے۔ اس پر میڈیا نے بات بگاڑ دی۔ خدا پاک نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نواز ہے۔ ٹماٹر ہے لیموں ہے اور چیزیں ہیں۔مگر آپ لوگ بات کہاں سنتے ہیں سب اور سنجیدہ بات کو مذاق میں ا±ڑا دیتے ہیں۔ خدا کے لئے سنجیدہ موضوع کو سنجیدہ ہی رہنے دیں۔ جس پر پھر اخبار نویس نے ایک اور سوال کر دیا کہ جناب عالیٰ کیا ٹماٹر کے بغیر ہنڈیا پکائی جا سکتی ہے؟ جس پر وزیر صاحب اور بھی غصے میں آ گئے اور کہا کہ دیکھیں میں اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔ میں سنجیدہ بات کرتا ہوں۔ آپ لوگ مذاق پر اتر آتے ہیں (غصے سے کہنے لگے کہ) یہی الیکٹرک میڈیا کرتا ہے یہی پرنٹ میڈیا کر رہا ہے، میں اس بات کا جواب نہیں دینا چاہتا۔
دوست کہنے لگا کہ جب بلال یاسین جیسا مدبر، سنجیدہ اور بردبار وزیر میڈیا کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہو کہ میڈیا بات کا بتنگڑ بنانے میں ماہر ہے تو اس میں یقیناً کوئی سچائی ضرور ہوگی۔چنانچہ جب سکندر نے دیکھا کہ اب پچاس کیمروں کی مدد سے اسے پوا ملک دیکھ رہا ہے ، جس میں اس کے دوست احباب بھی تھے، جن میں سے کچھ کے ساتھ اس نے اپنے موبائل فون سے بات بھی کی ۔ دوست نے بتایا کہ شرابیوں کی ایک سائیکی ہوتی ہے کہ جب یہ شراب پی کر بڑکیں مار رہے ہوتے ہیں ، ایسے موقع پر اگر ان کا کوئی مخالف یا بہت ہی قریبی چاہنے والا نظر آ جائے تو ان کی رگ ظرافت بھی پھڑک اٹھتی ہے اور مزید شرابیوں کی ایکٹنگ کرنا شروع کر دیتا ہے، اور مزید کھل کھلا کر بڑکیں مارنی شروع کر دیتے ہیں۔اب چونکہ سکندر کو بھی پورا ملک دیکھ رہا تھا، جس کا اسے بھی احساس ہو چکا تھا مگر اب چونکہ وہ یہ حرکت کر بیٹھا تھا، جس کا اس نے بعد میں اقرار بھی کیا کہ اس نے جو کچھ بھی وفاقی دارلحکومت میں کیا وہ طیش میں آ کر کردیا جس پر شرمندہ ہوں۔اس نے مزید کہا کہ مگر کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے کسی کو نقصان پہنچے تاہم میں وہاں موجود میڈیا کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ ملک میں اسلام اور شریعت کا نظام ضروری ہے۔لہذا جب سکندر کا نشہ کم ہوا تو اسے احساس بھی ہوا مگر اب چونکہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا چنانچہ وہ وہ ایک اجڈ کی مانند اس پر قائم رہا۔
ہمارے دوست نے اپنی بات کی تائید میں یہ بھی یاد دلوایا کہ جب زمرد خان نے اسے پکڑنے کے لیے اس پر جھپٹے تو سکندر فوراً پیچھے ہٹ گیا جس سے زمرد خان نیچے گر گئے، اگر سکندر کوئی دہشت گرد ہوتا تو وہ یقینا زمرد خان پر فائرنگ کر دیتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا، جس کی وجہ یہی تھی کہ وہ کوئی دہشت گرد نہیں تھا بلکہ ایک دیہات کا ایسا شرابی تھا جو شہر میں آ چکا تھا۔اس کے شراب پی ہونے کی تصدیق پمز ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بھی میڈیا کے سامنے کی کہ اسلام آباد فائرنگ واقعے کا ملزم سکندر واقعے کے وقت نشے میں تھا ۔
اب چونکہ رائج الوقت قوانین کی رو سے نشے کی حالت میں کسی شخص کا کوئی اقدام قابل تعزیر نہیں ہوتا، چنانچہ اب اس واقعہ کو اور رنگ دیا جا رہا ہے۔اب پمز کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ کو بھی نکال باہر کیا ہے جو سکندر کے شراب پی ہوئی ہونے کے گواہ تھے، ویسے بھی میڈیا سکندر کے حوالے سے بہت دور دور کی کوڑی لے آیا تھا ۔سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لے لیا تھا، ساڑھے پانچ گھنٹوں تک ایک شرابی کو قابو نہ کرنے پر پولیس کی بھی سبکی ہو چکی تھی، چنانچہ سب سے پہلے تو پولیس نے اپنی سبکی مٹانے کے لیے سکندر کا گرفتار کرنے میں ناکامی کی تمام تر ذمہ داری زمرد خان پر ڈال دی گئی ہے۔حتیٰ کہ آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد سمیت ضلعی پولیس اور انتظامیہ کے کئی افسران نے سکندر کیس پر انکوائری کمیٹی کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کراتے ہوئے اپنے بیانات میں کہا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے سکندر کو زندہ گرفتار کرنے کے واضح احکامات تھے جس کی روشنی میں اسے غیر مسلح کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی تھی تاہم زمرد خان نے عین وقت پر مداخلت کر کے حکمت عملی ناکام بنا دی۔
اصل میں یہ پولیس کی ناکامی ہی نہیں تھی بلکہ وزارت داخلہ کی بھی ناکامی ہے چنانچہ اب وزارت داخلہ بھی اس کیس کو ایک بڑا کیس بنانے پر اس لیے تلی ہوئی ہے کہ شرابی کو نہ پکڑنے پر بڑی سبکی کی بات ہے لہذا اس سبکی کو ختم کرنے کے لیے یا اس میں کمی لانے کے لیے سکندر کو ایک بہت بڑے مجرم کے روپ میں پیش کرو کہ جس نے نہ صرف کمانڈو ٹریننگ لے رکھی تھی بلکہ جدید ہتھیاروں کا استعمال بھی جانتا تھا اور تربیت یافتہ تھا جس کی وجہ سے پولیس اسے پانچ گھنٹوں تک گرفتار نہ کر سکی۔
میڈیا بھی بڑی سنسی پھیلاتا رہا کہ آخر اس نے دو دو بندوقیں اٹھائی ہوئی تھیں مگر اس کے ہاتھ نہیں لرز رہے تھے جس کا مطلب ہے کہ وہ بہت بڑا تربیت یافتہ ہے، کوئی ان ممی ڈیڈی اینکروں سے پوچھے کہ انھوں نے کبھی پاکستان کے کسی گاﺅں یا ددیہی علاقے میں کچھ دن گزارے ہین، ہمارے دیہی علاقوں کا تقریباً ہر جوان اسلحہ کا استعمال بخوبی کر لیتا ہے ، دیہی علاقوں میں ایسے ایسے ہتھیار دیکھنے کو ملتے ہیں کو پولیس نے بھی نہیں دیکھے ہوتے۔ کسی کا بندوق چلاتے ہوئے ہاتھ نہ لرزنا دہشت گرد ہونے کا تو کوئی ثبوت نہیں۔
میڈیا نے سکندر کے حوالے سے یہ بھی لکھا کہ وہ نام اور بھیس بدلنے کا ماہر ہے، اس نے بیرون ملک سے ہتھیار چلانے اور کمانڈو کی تربیت بھی حاصل کی ہے۔ مگر کہاں سے ، کیوں،کس مقصد کے لیے ، کس سے؟،مگر صحافت کے ان بنیادی اصولوں کا جواب کسی نے نہیں دیا۔کسی نے کہا کہ سکندر کا تعلق جماعت الدعوة سے تھا اور کسی لشکر طیبہ کا نام لیا۔حالانکہ جماعت الدعوة نے اس کی فوراً تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شرابی یا نشہ کرنے والا ہمارا ممبر نہیں ہوسکتا۔ کسی نے کہا یہ زرداری کا گارڈ رہ چکا ہے تو کسی نے اسے مذہبی دہشت گردوں سے میل ملاپ کا تاثر دیا۔کسی نے لکھا کہ وہ بچپن سے ہی نشہ کرنے کا عادی تھا ، یعنی اب تو اسے کسی بھی صورت کسی بھی قسم کی کوئی سزا نہیں ہو سکتی بلکہ وہ تو ترک نشہ ہسپتال میں داخل ہونے کا کیس ہے نہ کہ دہشت گردی کا کیس ہے۔
اب اسلام آباد پولیس بھی اس کیس کو ایک سنگین کیس بنانے کے چکر میں ہے۔ اس مقصد کے لیے سکندر کے اندروں ملک کے علاوہ بیرون ملک روابط پر مزید تفتیش کے لیے اسلام آباد پولیس نے عسکری ایجنسی سے تعاون طلب کر لیا ہے۔ ابو ظہٰبی میںپاکستانی سفارتخانے میں تعینات سیکیورٹی حکام کو بھی ملزم سکندر کے بارے میں سوالات ارسال کر دئیے گئے ہیں اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے اس واقعے کے پیچھے بیرونی ہاتھ کے ملوث کے حوالے سنجیدگی سے جائزہ لینا شروع کردیا ہے، جیسا کہ ہمارے ملک میں ہر ہونے والے واقعہ کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہوتا ہے ۔ ابو ظہبی میں سکندر کے دیگر رشتہ داروں خصوصاً جیل میں بند بیٹے کے حوالے سے بھی ڈیٹا اکٹھا کرنے کےلئے کام شروع کردیا گیا ہے اور ان کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے حوالے سے بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
اسی طرح اب قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر داخلہ اور وزارت داخلہ پر لے دے ہو رہی ہے چنانچہ اب وفاقی وزیرداخلہ کا بھی کہناہے کہ سکندر کاواقعہ جتنا سادہ نظرآتا ہے اتناہے نہیں۔اس کے کئی داخلی اور خارجی عوامل ہیں ۔ ہمارا پہلا خیال کہ سکندراکیلا کام کررہا ہے تفتیش کے بعد درست ثابت نہیں ہوا۔ لیکن اب سکندر کے ساتھ تعلقات کے شبہے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب ایک چوکی کے انچارج کو گرفتار کر نے کے دعویٰ کے ساتھ حافظ آباد سے ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو حراست میںلیے جانے کا بتایا جا رہا ہے۔بلکہ وزیر موصوف صاحب تو اب یہ کہہ رہے ہیں کہ “حافظ آباد سے گرفتار ہونے والے کالعدم تنظیم کے رکن کے گھر سے جو معلومات اور شواہد ملے ہیں وہ انتہائی حساس ہیں جس کو ایوان میں پیش نہیں کیا جاسکتا”تو کوئی ان سے پوچھے کہ اگر ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکتا تو اور کہاں پیش کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے دوست نے کہا کہ تاہم اس واقع سے سب سے زیادہ سبکی پولیس کی ہوئی ہے کہ ایک شخص شراب کے نشے میں دھت اسلحہ لیکر اسلام آباد میں میں کیسے آ گیا ؟ اگرچہ دہشت گردوں کے سامنے تو پولیس پہلے ہی بے بس دکھائی دیتی تھی مگر اس بار ایک شرابی نے اسے بے بس کر دیا، بس یہی تو اصل سبکی کی بات ہے۔

میڈیا نے بات کا بتنگڑ بنا دیا … شرابی کو دہشت گردبنا دیا” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s