خواتین / سچی کہانیاں / عورت کہانی

بارگاہ خداوندی میں عورت سے زیادہ کوئی ہستی باعث مقرب نہیں ہے

pattoki

منصور مہدی
…..لاہور سے تقریباً 60کلومیٹر دور پتوکی نامی شہر کے شروع میں بابا مسکین علی کا دربار موجود ہے۔ جن نے سے ان کی زندگی میں کئی بار ملاقات بھی ہوئی ، ساری زندگی شہری آبادی سے دور جنگلوں میں رہنے والا یہ انسان جب علم و حکمت کی باتیں بیان کرتا تھا تو ایک حیرت ہوتی کہ یہ علوم انھوں نے کہاں سے سیکھے۔
آج جب میں سائنٹیفیک امیریکن مائنڈ نامی ایک امریکی جریدے میں آرٹیکل پڑھ رہا تھا تو مجھے ان کی محفل کی ایک بات یاد آنے لگی۔وہ یہ کہ محفل میں آنے والے اکثر حاجت مندوں کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے کہا کرتے تھے کہ گھر جاؤ اور گھر میں موجود عورت ( بہن، بیٹی، ماں، بیوی) سے اپنے حق میں دعا کراؤ، بعض افراد تو ان کی بات پر عمل کرتے اور اپنے من کی مراد پا لیتے اور بعض ان کی حکمت سے بھری باتوں میں کیل میخ نکالنے لگتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بارگاہ خداوندی میں عورت سے زیادہ کوئی ہستی باعث مقرب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ مردوں کی دعائیں تو رد کر دیتا ہے مگر وہ عورت کی دعائیں کبھی رد نہیں کرتا۔
وہ کہا کرتے تھے اگرچہ بعض مذاہب میں عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں پست سمجھا جاتا رہا ہے اور کہا جاتا رہاہے کہ عورتوں کی عبادت اور اعمال بھی بارگاہ رب العزت میں قبول نہیں ہوتے۔ مگریہ سب افکار کو غلط ہیں۔ اسلام کی نظر میں عورت بھی مرد ہی کی طرح ایک انسان کامل ہے اور تمام انسانی اوصاف اور پہلوؤں میں مردوں کے مساوی ہیں۔ عورتیں بھی علم و ایمان اور تقوی کی اعلی منزلوں پر فائز ہو سکتی ہے۔
اسلام کی تعلیمات کے مطابق اعمال کی قبولیت کا دار و مدار افراد کا صالح و باایمان ہونا اور خلوص دل سے اعمال کا انجام دینا ہے۔ رب العزت نے قرآن کریم میں ایمان اور اعمال صالح کو عورت یا مرد سے مخصوص نہیں کیا بلکہ خدا وندہ عالم دونوں کے اعمال کو قبول کرتا ہے۔ سورہ نحل میں ارشاد ہوتا ہے۔ ‘‘جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انہیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جو وہ زندگی میں انجام دے رہے تھے’’۔قرآن پاک کی اس آیت سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ اللہ پاک کی طرف سے اجر و ثواب اور قرب الہی ، جنسیت سے مشروط نہیں ہے بلکہ ایمان اور عمل صالح سے مربوط ہے۔ عورتیں بھی اپنے نیک اعمال کا اجر پروردگار عالم سے مردوں کی طرح ہی حاصل کرتی ہیں۔
ویسے بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انسانوں کو خلق کرنے کا اصل مقصد اپنی عبادت قرار دیا ہے اور انسانوں کی عظمت کو اپنی عبادت وبندگی سے مشروط قراردیا ہے۔اس بندگی میں کسی مرد یا عورت کی تخصیص بیان نہیں کی ہے کہ صرف مرد ہی میری عبادت کریں اور عورتیں میری بندگی نہ کریں۔ بندگی کا راستہ انسان کی بلند روح اور اس کے پاکیزہ نفس سے ہوکر گذرتا ہے۔یہی بندگی انسان کو خلیفہ الہی کے عہدے تک پہنچا دیتی ہے۔ چونکہ عورت کی روح اور صفت مردوں کی نسبت زیادہ لطیف و نازک ہوتی ہے لہذا وہ بڑے ہی آسانی سے مقام بندگی پر پہنچ سکتی ہیں ۔کیونکہ کمال انسانیت تک پہنچنے کا ایک راستہ لطیف روح سے مالامال ہونا ہے۔
وہ کہتے تھے کہ جب فرشتے اللہ کے بنائے ہوئے آدم میں نقص نکال رہے تھے اور اس سے ایسی باتیں منسوب کر رہے تھے جو اللہ کی منشاء میں شامل نہیں تھا تو ایسے میں عورت نے اس آدم کاتا قیامت ساتھ دینے کا اقرار کر کے اللہ کی رضا حاصل کر لی ، وہ وقت اور آج کا وقت ، اللہ کبھی عورت کی کسی بات کو نہیں ڈالتا۔ اس وقت تو خیر ہمیں بھی ان کی بعض باتیں عجیب لگتی مگر جب غور کرتے تو سمجھ آ جاتی۔
امریکی جریدے میں دی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دوسروں کا درد رکھنے والوں کے دل زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔ خدمتِ خلق سے انسان کے دل اور شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے اور دل مختلف امراض سے محفوظ رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی خلوت میں رہنے والے لوگ بھی بتدریج اسی جیسے ہوجاتے ہیں اور ان میں بھی خدمت خلق کا جذبہ بیدار ہو کر انھیں بھی مختلف بیماریوں سے محفوظ کر دیتا ہے۔
برطانوی ماہر نفسیات ڈاکٹر کرسٹینا کا کہنا ہے کہ ہر ذی روح سے ہر وقت مختلف نوعیت کی لہریں خارج ہوتیں رہتی ہیں جن کا دوسرے ذی روح چیزوں پر اثر ہوتا ہے۔اب اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں اچھی سوچ رکھتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی لہریں دوسرے پر اچھا اثر کریں گی اور اگر کوئی دوسرے کے بارے میں بری سوچ رکھتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی لہریں برا اثر کریں گے، کسی کے حق میں دعا کرنا یا بد دعا دینا اس کی ایک اچھی مثال ہے۔
یونیورسٹی آف بریٹش کولمبیا کی ڈاکٹر ہننا شرایا کا کہنا ہے کہ اگرچہ’اس طرح کی تحقیقات پہلے بھی ہو چکی ہیں لیکن نو عمروں میں بھی رضاکارانہ طور پر دوسروں کی مدد کرنے کے صحت پر مثبت اثرات جاننے کے لئے کی جانے والی ان کی اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ نوعمری میں بھی دوسروں کی مد د کرنے والوں کو دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
اس بارے میں ڈاکٹر کرسٹینا کا کہنا ہے یہ بھی اس میں بھی وہی اصول کارفرما ہے کہ دوسروں کیلئے اچھی سوچ رکھنے والوں کو اپنے جسم پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے جبکہ اس کے برعکس ذہنیت رکھنے والوں کی جسمانی صحت بھی خراب رہتی ہے۔ ڈاکٹر کرسٹینا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اچھی سوچ اور اچھی صحت ان خارج ہونے والی لہروں کو اتنا مضبوط اور طاقتور بنا دیتی ہیں کہ یہ لہریں ہزاروں میل کا فاصلہ لمحوں میں طے کر لیتی ہے،۔ ڈاکٹر کرسٹینا نے ٹیلی پیتھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس علم میں عالم کی سوچ کے تحت نکلنے والی لہریں سینکڑوں میل دور بیٹھے معمول کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہیں اور معمول وہی کچھ کرنے لگتا ہے جو عالم اپنے دل میں سوچ رہا ہوتا ہے۔
بابا مسکین بھی کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے اہم صفت \” رحم\”کا جذبہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ رکھا ہے کیونکہ عورت نے ہی تخلیق کائنات اور اس کی وسعت میں سب سے اہم کردار ادا کرنا تھا، چنانچہ عورت کے منہ سے نکلنے والے الفاظ یا اس کی سوچ کے تحت خارج ہونے والی لہریں سیدھی عرش معلی پر پہنچتی ہیں ۔
باباکا کہنا تھا کہ اسلام نے عورت کے مقام و مرتبہ کو اتنا زیادہ بلند کیا ہے کہ وہ کمال کے اعلی مقام تک پہنچ سکتی ہے۔ وہ اکثر لوگوں کو کہا کرتے تھے کہ وہ عورت کو ایک جنس کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اس کے اس مقام کو دیکھیں جو اللہ کی طرف سے اسے عطا ہوا ہے۔ بابا کہتے کہ دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے جنت کے ہی طلب گار رہے ہیں اور اس کے حصول کیلئے نہ جانے کیا کیا کرتے ہیں، کیسی کیسی عبادتوں اور ریاضتوں سے گزرتے ہیں مگر اللہ نے اسی جنت کو عورت کے پاؤں میں رکھ دیا ہے۔وہ کہتے کہ مرد کو تو زمین پر بھیج کر اللہ نے اس سے براہ راست رابطہ توڑ لیا اور نبیوں، رسولوں کے ذریعے اس کی ہدایت کی مگر تخلیق کی صلاحیت دیکر عورت سے صفتی رابطہ برقرار رکھا۔ جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s