خواتین / عورت کہانی

جنسی طور پر مغلوب کرنا مرد اپنا حق سمجھتے ہیں

workplace-harassmentمنصور مہدی
خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا عمل اگرچہ دنیا کے تمام خطوں میں پایا جاتا ہے مگر مسلم ممالک میں مصر وہ واحد ملک ہے کہ جہاں خواتین کو جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں، مصر کی خواتین ایک عرصے سے انفرادی یا اجتماعی ہراسیت کا شکار چلی آ رہی ہیں لیکن 2011ءمیں سابق صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد سے خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں از حدنمایاں اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کی گذشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 99 فی صد سے زیادہ مصری خواتین کو کسی نہ کسی شکل میں ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے۔مصری خواتین کا کہنا ہے کہ انھوں نے خواہ روایتی اسلامی لباس پہنا ہو یا مغربی طرز کے کپڑے زیب تن کیے ہیں،انھیں ہر دوصورتوں میں ہراساں کیا جاتا ہے۔
مصر کی نئی حکومت نے اس سب سے بڑے معاشرتی مسئلے جنسی ہراسیت کے خاتمے کا بیڑا اٹھایاہے اور مذہبی امور کے وزیر محمد مختار جمعہ کا کہنا ہے کہ ملک میں جنسی ہراسیت کے خلاف جنگ ایک مذہبی اور قومی فریضہ ہے، انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”جو لوگ خواتین پر جنسی حملوں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرتے ہیں،وہ اللہ کے ہاں اپنے ان گناہوں پر مستوجب سزا ہوں گے”۔
مصر میں خواتین کے ساتھ ہراسیت کے واقعات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں حکومت مخالف اور حق میں ہونے والے ہر دو مظاہروں میں جہاں بھی ایک دو خواتین مردوں کے غول میں پھنس گئی تو وہ جب ان کے چنگل سے باہر نکلی تو ان کے بدن کے کپڑے تک پھٹ چکے ہوتے تھے، اب مصر کی نئی حکومت اس حوالے سے بڑے سخت قوانین مرتب کر رہی ہے، دیکھنا یہ کہ یہ نئے قوانین کس حد تک خواتین کو مردوں کی ہراسیت سے بچا پائےں گے۔
مصر کے بعد مراکش کی خواتین اور اسی طرح افریقی ملک الجزائر اور دیگر ممالک کی خواتین مردوں کی ہراسیت کا نشانہ بنی ہوئی ہیں، حالانکہ یہی خواتین گھروں میں مائیں، بہنیں اور بیٹیوں کے روپ میں رہتی ہیں مگر جوں ہی گھر سے باہر قدم رکھتی ہیں تو یہ مردوں کیلئے صرف اور صرف ایک عورت بن جاتی ہیں، جنہیں جنسی طور پر مغلوب کرنا مرد اپنا حق سمجھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی جنسی ہراسیت بڑھتے بڑھتے جنسی زیادتی کی شکل اختیار کر لیتی ہے، پاکستان بھی ان ممالک میں شمار ہوتا ہے کہ جہاں عورت کو صرف مردوں کے تصرف کی ہی کوئی شے سمجھا جاتا ہے، گئے دور کی بات ہے کہ جب رات کے اندھیرے میںبس سٹاپوں یا دن کی روشنی میں قدرے کم رش والے علاقوں میں مردوں کو گھورنے والی خواتین ہی ہراسیت کا شکار ہوتی تھی، مگر اب کوئی بھی خاتون ،کسی بھی عمر کی خاتون اور کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والی خاتون مردوں کی ہراسیت سے محفوظ نہیں ہیں۔
انٹرنیشنل نیوز سیفٹی انسٹیوٹ اور انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاونڈیشن کے اشتراک سے ہونے والے ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کے حقوق کی خاطر لڑنے والی خواتین صحافی بھی مردوں کی ہراسیت سے دوچار ہیں،خصوصاً خواتین سے ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی صحافی خواتین اپنے فرائض کی انجام دہی میں خود کس کرب اور مشکل سے گزرتی ہیں اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے، رپورٹ کے مطابق صحافت کے شعبے سے وابستہ دو تہائی خواتین کو اپنے کام کے دوران تشدد خوف اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سروے کی تیاری میں ایشیا، بحرالکاہل، شمالی امریکہ، یورپ لاطینی امریکہ اور افریقہ کی تقریبا نوسو خواتین صحافیوں نے حصہ لیا تھا، ان میں بیشتر کو اپنے ہی کولیگ ساتھیوں اور اپنے ہی باس سے شکایت تھی۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر گھنٹے میں دو خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں 80فیصد ایسی خواتین ہوتی ہیں کہ جن کے کسی نہ کسی انداز میں غیر مرد سے تعلقات ہوتے ہیں۔پولیس انوسٹی گیشن برانچ کے مطابق ان خواتین میں سے 457عورتوں کے حوالے سے مبینہ طور پر کہا گیا کہ ان کے پہلے سے ہی زیادتی کرنے والے مردوں سے کوئی نہ کوئی تعلق موجود تھا۔ یعنی وہ مرد یا تو ان خواتین کے عزیز تھے یا رشتے دار، ان کے کولیگ تھے یا باس، یا پھر ان سے خواتین کی دوستی تھی۔
پاکستان میں سرکاری و غیر سرکاری یا نجی دفاتر میں ہونے والے جنسی ہراسیت سے متعلق قانون کو بنوانے اور قوانین کے نفاذ پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم ’مہرگڑھ‘ کے مطابق گذشتہ چار برسوں میں خواتین نے جنسی ہراس کے تین ہزار سے زیادہ کیس درج کرائے ہیں، وفاقی محتسب کے پاس جانے والے ان مقدمات میں سے تقریباً 80 فیصد کا تعلق سرکاری دفاتر سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنسی ہراسیت کا شکار بننے والی خواتین نفسیاتی طور پر اتنی زیادہ ذہنی دباو¿ میں ہوتی ہیں کہ وہ اس کا اظہار بھی نہیں کر پاتی۔
پاکستانی دفاتر میں خواتین کو جنسی ہراسیت سے محفوظ رکھنے کے لیے 2010 میں قانون منظور ہوا تھا۔ اس قانون کو بنوانے اور اس کے نفاذ کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم مہرگڑھ کے مطابق، گذشتہ چار برسوں میں جنسی ہراس کے تین ہزار سے زیادہ کیس مختلف اداروں کی اندرونی انکوائری کمیٹیوں کے پاس جا چکے ہیں۔ان اداروں میں سرکاری دفاتر، یونیورسٹیاں، کثیرالقومی ادارے، اور ہسپتال شامل ہیں۔ مہرگڑھ کا کہنا ہے کہ یہ وہ کیس ہیں جن کے بارے میں انھیں معلوم ہے،جبکہ ایسے کیسز کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس قانون کے تحت، اگر کوئی خاتون انکوائری کمیٹی کے فیصلوں یا تشکیل پر اعتماد نہیں رکھتی، وہ دفاتر میں خواتین کے جنسی ہراس سے تحفظ کے لیے قائم کیے گیے وفاقی محتسب سیل میں درخواست دے سکتی ہیں۔ محتسب کے اعدو د و شمار کے مطابق، جولائی 2011 سے اپریل 2014 تک، 173 کیس درج ہو چکے ہیں، جن میں سے 77 فیصد کا تعلق سرکاری دفاتر سے ہے، تعجب کی بات یہ نہیں کہ پاکستان میں جنسی ہراس کے واقعات پیش آتے ہیں، تعجب یہ ہے کہ شرمندگی، بدنامی اور نوکری جانے کے ڈر کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں خواتین اس قانون کا استعمال کر رہی ہیں۔
محتسب کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہاں پر آنے واے کیسز ایسے نہیں ہوتے کہ جہاں معاملہ جسمانی حد تک جاتا ہے، بلکہ زیادہ تر زومعنی باتوں کے کیس ہوتے ہیںیا پھر ترقی کے بدلے جنسی تعلقات کے لیے اصرار،اور پھر جب خواتین نہیں مانتیں تو انھیں رات دیر تک دفتر میں کام کے بہانے سے روک لیا جاتا ہے یا ان کی کارکردگی کی رپورٹ خراب کی جاتی ہے۔
دفاتر میں ہونے والے ایسے واقعات کی بھرمار اس وجہ سے بھی بڑھتی جا رہی ہے کہ خواتین ان زیادتیوں کا ذکر اپنے گھر والوں سے نہیں کرتی، کیونکہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اس واقعہ کا ذکر گھر والوں سے کرےں گی تو اول تو گھر والے انھیں نوکری چھوڑنے کا کہہ دیں گے اور دفتر آنا بند ہو جائے گا، دوسرے خواتین پھر یہ سمجھتی ہے کہ اس واقعہ پر ان کے بھائی، والد یا بیٹا اشتعال میں آئیں گے اورممکن ہے بات تشدد تک بڑھ جائے ۔
مہرگڑھ کی اہلکار ڈاکٹر فوزیہ سعید کا کہنا ہے کہ بعض ایسے سرکاری دفاتر ہیں جہاں اس قانون کے خلاف ایک طرح کی مزاحمت نظر آتی ہے، ’پاکستان ائر ویز اور پنجاب یونیورسٹی ایسے ادارے ہیں جہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک بھی جانا پڑا۔ جو مرد خواتین کو ہراساں کرتے ہیں، وہ بہت بے شرم اور نڈرہوتے ہیں، اپنی نوکریاں بحال کرنے کے لیے سیاسی مداخلت کا استعمال کرتے ہیں اور سفارشیں کرواتے ہیں،اس سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی معاشرہ اتنا تبدیل نہیں ہوا کہ ملزم اپنے کیے پر شرمندہ ہو، بلکہ انتہائی ڈھٹائی سے وہ اپنا دفاع کرتے ہیں۔
ڈاکٹر فوزیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگوں میںجو تاثر پایا جاتا ہے کہ صرف نوجوان اور خوبصورت خواتین کوہی تنگ کیا جاتا ہے، بالکل غلط ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک چالیس سالہ خاتون کا کیس آیا جو طلاق شدہ اور تین بچوں کی ماں تھیں۔ مجبوری میں وہ نوکری بھی نہیں چھوڑ سکتی تھیں۔
اسلامی معاشرے میں اس فعل کو بہت قبیح سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کے مطابق کسی بھی مرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اجنبی عورت کو تنگ کرے، یا بلاوجہ اس سے کوئی رابطہ کرنے کی کوشش کرے، مگر اب کیا جائے کہ جیسے مرد عورتوں سے رابطہ قائم کرنے کا سوچتے رہتے ہیں اور اس کوشش میں لگے رہتے ہیں ویسے ہی اب خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد مردوں سے رابطہ کرنے کے چکر میں پڑی رہتی ہیں، حالانکہ اس میں فتنہ ہے ،اور یہ کوشش برائی کی جانب لے جاتی ہے، اسلام نے جو یہ پابندیاں عائد کی ہیں وہ صرف پابندی کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک مقصدہوتا ہے۔ دل میں جو آئے کرگزرنے کا جو نظریہ مغرب نے پیش کیا ہے آج وہ اسی کو بھگت رہا ہے۔ آج مغرب کی عورت دوسروں کو جنسی طور پر بھڑکانے کے لئے خود اپنے آپ کو قابل ملامت سمجھتی ہے۔ مرد اور عورت کے جنسی رویے میں فرق کو سمجھنے کے لئے کسی کیمیائی لیباریٹری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ معاشرے میں وقوع مذیر ہونے والے اس طرح کے واقعات پر نظر ہونی چاہیئے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s