خواتین

خواتین ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گی

woman-21-sicknessمنصور مہدی
معروف ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا کہتی ہیں کہ معاشرے میں جدھر میں نظر اٹھا کر دیکھ لو، خواتین ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گی، حالانکہ خواتین کا احترام ہی کسی معاشرے کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے،بڑے بڑے بلند بانگ دعووں کے باوجود کسی بھی حکومت نے ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ جاہلانہ رسومات کا سلسلہ ترک کرنے کے لیے کوئی منصوبہ تشکیل نہیں دیا، خواتین کا احترام کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی پہچان ہوتا ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو یہ کسی طرح سے مہذب معاشرہ کہلانے کا حقدار نہیں، کیونکہ یہاں پر خاتون کو خاتون سمجھنا تو دور کی بات انسان بھی نہیں سمجھا جاتا، یہاں پر خاتون نہ صرف گھروں سے باہر سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دفاتر، سرکاری و غیر سرکاری، مارکیٹوں و بازاروں، گلی یا محلے میں محفوظ نہیں بلکہ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں پر خاتون کی کردار کشی نہ کی جارہی ہو، خاتون کی تذلیل کرنا اس معاشرے میں مردوں کا پسندیدہ فعل بن چکا ہے۔
حال ہی میں جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت اور نیپال ایشیاءکے ایسے ممالک ہیں کہ جہاں پر خواتین سیاست دان بھی تشدد کا شکار ہیں، اس تشدد اور تذلیل کے سبب ان ممالک میں خواتین اپنے حقوق لینے کیلئے سیاست میں بھی آزادانہ طور پر حصہ لینے سے محروم رہتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں ممالک میں خواتین سیاست دانوں کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ ان کی شخصیت کی کردار کشی بھی کی جاتی ہے، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے تینوں ممالک میں خواتین کو آئینی حقوق اور مردوں کے برابر درجہ دینے کا یقین تو دلایاجاتا ہے مگر اس کے باوجود خواتین مخالف حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے، خواتین سیاست دانوں کو مخالف سیاسی پارٹیوں کے علاوہ اپنی ہی سیاسی پارٹی کے مرد سیاست دانوں کی جانب سے بھی سخت مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خواتین سیاستدانوں کے بارے میں منفی پروپیگنڈا اور غلط خبریں عام کی گئیں، نیلوفر بختیار، حنا ربانی کھر اور شیری رحمان جیسی صفِ اول کی سیاست دانوں کی کردار کشی کیلئے مختلف حربے استعمال کئے گئے۔
اگر پاکستان کی تاریخ اس حوالے سے دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ خواتین سیاست دانوں کی تذلیل کی ابتدا محترمہ فاطمہ جناح سے ہی شروع ہوگئی تھی، کہ جب وہ ایوب خان کے خلاف میدان سیاست میں آئی تو ان کے مخالف سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں نے ان کی کیسے کیسے تذلیل نہیں کی، بانی پاکستان کی ہمشیرہ کے جن کی بدولت آج ہم اس ملک میں بس رہے ہیں، ان کی بھی تذلیل کرنے میں یہاں کے لوگوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، ان پر بہتان لگائے گئے، ان کی کردار کشی کی گئی۔
سابق اٹورنی جنرل اورقائداعظم ؒ کے سیکریٹری جناب شریف الدین پیرزادہ نے ایک بار اسلام آبادکی ایک کانفرنس میں انکشاف کیا کہ محترمہ فاطمہ جناح کوقتل کیاگیاتھا،انکی موت طبعی نہیں تھی اورقاتل انہی کانوکرتھا۔انہوں نے کہاکہ وہ بتاناچاہتے ہیں کہ کس نے اس کیس کویکسرچھپادیااور حکومت اور پولیس نے کس طرح اس ضمن میں گونگے اوربہرے کاکرداراداکیا۔
معروف لکھاری سائرہ ہاشمی اپنی کتاب” ایک تاثر دو شخصیات“ میں محترمہ کے قتل کا دعویٰ کرتی ہیں، وہ لکھتی ہیں کہ محترمہ کے گلے پر نشانات تھے اور ان کے بستر پر خون کے چھینٹے بھی تھے۔
شریف الدین پیرزادہ کہتے ہیں کہ مس جناح ایک شادی سے گھرواپس دیرسے آئیں اورانہوں نے گھرمیں تالالگایااورچابی کودرازمیں رکھ دیا،حسب عادت پھرسونے کے لیے چلی گئیں،صبح کوجب وہ نہ اٹھیں توانکی پڑوسن بیگم ہدایت اللہ نے پولیس کمشنر آف کراچی اورانسپکٹرکی موجودگی میں دروازہ کھلوایااورانہیں مردہ حالت میں پایا،جناب پیرزادہ کہتے ہیں کہ قائداعظم کے بھانجے اکبر پیر بھائی نے ایوب خان سے کہا تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا ہے، مگرتحقیقات کے لئے ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی، شریف الدین پیر زادہ کے بقول پیر بھائی نے ایوب خان سے ملاقات ان کی موجودگی میں کی تھی۔
محترمہ کے ساتھ ان کے مخالف لوگوں کا سلوک اس قوم کے لیے اس سے بڑھ کرکیابدنصیبی ہوگی کہ اس پراحسان کرنے والوں کے ساتھ کیساسلوک کیاگیا اور صرف اس وجہ سے کہ ایک تو وہ خاتون تھی اور پھر عوام کے حقوق کیلئے یہاں کے حکمرانوں کے سامنے وہ آن کر کھڑی ہو گئی تھی۔
خواتین سیاست دانوں کی تذلیل یہی پر نہیں رک گئی بلکہ یہ سلسلہ چلتا رہا، بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی کردار کشی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی، یہ کوئی پرانی بات نہیں، نوے کی دہائی کا ذکر ہے ،کہ جب ان دونوں خواتین سیاست دانوں کی تذلیل کی گئی، پنجاب کے سابق آئی جی چوہدری سردار محمد اس مہم کا اہم ترین حصہ تھے، وہ اس وقت سی آئی ڈی کے سربراہ تھے، انہوں نے اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کی کردارکشی کیلئے بنایا گیا سیل ایک ایڈیٹر سراج منیر، حقانی اور خود چودھری سردار پر مشتمل تھا جو صوبائی وزیر ٹکا اقبال کے سرکاری گھر میں منصوبے بناتا اور پبلسٹی مہم چلاتا تھا، عام تاثر یہی تھا کہ بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کی قابل اعتراض نیم عریاں تصاویر کی تقسیم اسی حکمت عملی کا حصہ تھا، یہ قابل اعتراض تصاویر تقسیم کرنے کے لئے حسین حقانی کی خدمات حاصل کی تھیں ، اس نے یہ تصاویر جہاز اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے مختلف آبادیوں پرگرائی گئیں۔
پھر چند سال قبل ہی کی بات ہے کہ پرویز مشرف ڈور حکومت میں رہنے والی وفاقی وزیرسیاحت نیلوفر بختیار نے جب فرانس میں ”فری فالنگ“ کا مظاہر ہ کیا تو ان کے خلاف ایک ایشو کھڑا کر دیا گیا، انہوں نے چھاتہ برداروں کے لباس میںپیراشوٹ کے ذریعے جہاز سے چھلانگ لگائی تھی اورکامیاب فری فالنگ پر ان کے انسٹرکٹر نے انہیں گلے لگا کر مبارکباد دی، جس پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق ردعمل کا اظہار کیا، ایک طبقے کا کہنا ہے کہ نیلوفر بختیار نے فری فالنگ کا مظاہر ہ کرکے اور ایک غیرمسلم سے گلے مل کر اسلامی تشخص کو پامال کیا ہے، ایک عالم دین نے وفاقی وزیر کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹا کر سزا دینے کا مطالبہ کیا ، لاہور کے ایک وکیل نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے وہ اپنے اس غیر اسلامی عمل پر بادشاہی مسجد میں جا کر معافی مانگیں، مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے بھی نیلو فر بختیار کے فری فالنگ کو قابل مذمت قرارد یا، جبکہ ان کی پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ نیلوفر بختیار نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو خلاف اسلام ہو، عمر رسیدہ انسٹر کٹر نے انہیں پدرانہ شفقت کے جذبے کے تحت گلے لگایا۔
گذشتہ دور حکومت میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایک ایسا واقعہ ہوا کہ جو ابھی تک لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہے، اجلاس کے دوران ایک ایم پی اے شیخ علاﺅالدین نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خلاف نا زیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔گذشتہ دور حکومت ہی کی ایک خاتون وزیر حنا ربانی کھر کی کردار کشی کی گئی اور انھیں تذلیل کا نشانہ بنایا، خصوصاً سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں کیا کچھ نہیں لکھا گیا، اسی طرح شیری رحمان کو بھی نہیں بخشا گیا، ان کے حوالے سے تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کی گئی۔
گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں تو خواتین امیدواروں کی تذلیل کی انتہا کر دی گئی، یہ تذلیل صرف مخالف سیاست دانوں یا اراکین جماعت ہی کی طرف سے نہیں کی گئی بلکہ ریٹرنگ افسران بھی پیچھے نہ رہے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران بعض ریٹرننگ افسران نے خواتین امیدواروں سے غیرضروری اور غیرمتعلقہ سوالات پوچھ کران کی تضحیک کی، اوران کاعوامی سطح پر مذاق اڑایا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ریٹرننگ افسر نے ایک خاتون امیدوار کی عمر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی طرح 35 سال کی نہیں لگتیں، ذرا آپ اپنا چہرہ گھما کر ادھر تو کریں، اوراپنا چہرہ پوری طرح گھما کر دکھائیں، وغیرہ وغیرہ
بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں بھی مرد سیاست دان خواتین سیاست دانوں کی تذلیل کرتے رہے، خصوصاً بھارتی ریاست اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ مایا وتی کی کردار کشی کی گئی۔،اس حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیاسی میدان میں بھارتی خواتین سیاستدانوں کو سب سے زیادہ، یعنی 45 فیصد کوجسمانی تشدد اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 21 فیصد اور نیپال میں 16 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین سیاست دانوں میں اکثر ان خواتین کو تشدد کا سامنا زیادہ کرنا ہڑتا ہے جو نوجوان اور سیاست میں نئی ہوں، ایسی خواتین سیاست دانوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات بھی زیادہ سامنے آتے ہیں اور ان کی شخصیت کی کردار کشی کی بھی جاتی ہے۔
رپورٹ کہتی ہے کہ قانونی اداروں اور عدلیہ کی جانب سے امداد کی عدم فراہمی کے نتیجے میں خواتین خوف کے باعث سیاست چھوڑ دیتی ہیں اور 90 فیصد خواتین سیاست دانوں کو تشدد کا خوف سیاسی میدان میں آگے بڑھنے سے روکے رکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے یہ تحقیق تین ممالک، پاکستان، نیپال اور بھارت کے 800 افراد کے انٹریوز پر مشتمل ہے جو سیاسی میدان کا حصہ ہیں،رپورٹ میں ان خواتین سیاستدانوں کی رائے بھی شامل کی گئی ہے جنھوں نے تشدد میں اضافے کے سبب سیاسی میدان کو خیرباد کہہ دیا ہے۔
خواتین کی تذلیل اور کردار کشی صرف ایشیائی ممالک ہی میں نہیں بلکہ یورپی ممالک کی خواتین بھی مردوں کی زیادتی سے محفوظ نہیں ہیں، جبکہ براعظم افریقہ کی خواتین کو وہاں کے مرد سب سے زیادہ ذلیل و خوار کرتے ہیں۔
ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ حقوق نسواں کے علمبردار یورپی ملک سویڈن نے ایک اہم خاتون وزیر نے جب زچگی کیلئے چھٹی مانگی تو انھیں مردوں کی طرف سے تذلیل کرنے کی باتیں سننا پڑی اور انھیں چھٹی دینے سے انکار کر دیاگیا۔
ہمارے میں خواتین سیاست دانوں کی تذلیل اور کردار کشی کی یہ چند مثالیں ہیں، لیکن اگر ذرا نیچے دیکھا جائے تو دوسری اور تیسری درجے کی قیادت میں خواتین سیاست دانوں اور بھی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صدر پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات میں مجھے وہ خاتون آج بھی یاد ہے جو کونسلر کی سیٹ پر الیکشن لڑ رہی تھی ، وہ ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی تھی، دل میں لوگوں کی بھلائی کرنے کا جذبہ لیکر وہ اس میدان کارزار میں آئی مگر صرف دو ہفتے بعد ہی وہ میدان سے واپس لوٹ گئی اور پھر کبھی گھر سے باہر بھی نہیں نکلی۔
حالانکہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ معاشرے میں عورت کا کردار کتنا واضح ہے، جس کے بارے میں فرمانِ الہٰی ہے کہ: ” مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں“ ہم لوگ اس بات سے کبھی بھی منحرف نہیں ہو سکتے کہ اسلام کے پھیلانے اور اس کی دعوت پہنچانے میں خواتین کا بھی ایک عظیم نمایاں کردار ہے، شروع آغاز میں ہی دعوت اسلام کیلئے حضرت خدیجہ، بروز ہجرت حضرت اسماء، احد کے دن حضرت امّ اَمّارہ اور یومِ حنین کو حضرت ا±مّ سلیمہ کے کردار کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا، عورت کا معاشرے میں ایک اہم کردار ہوتا ہے، مگر جہاں پر ہم نے دیگر باتیں بھلا دی، وہاں ہم نے عورت کی عظمت کو بھی بھلا دیا ہے۔

خواتین ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار نظر آئیں گی” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s