سچی کہانیاں

شوہر کی ریٹائرمنٹ

7925073.cms
منصور مہدی

کہا جاتا ہے کہ شوہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی بیویوں کے لیے ایک ایسا سہانا خواب ہوتی ہے جب شریک حیات کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا موقع میسر آسکتا ہے۔ دیکھا جائے تو ازدواجی زندگی میں فرصت کے یہ لمحات بہت انتظار کے بعد حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن کیا یہ طویل انتظار زندگی کے ان یادگار لمحوں کے حسن کو زائل بھی کر دیتا ہے؟
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کی آسودہ زندگی کا خواب میاں بیوی کے لیے دراصل ایک مفروضہ سے زیادہ نہیں کیونکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ طویل تھکان کے بعد ملنے والی پرسکون زندگی دراصل ازدواجی زندگی میں جذباتی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ خاص طور پر بیویاں اس دور میں شدید ذہنی دباو¿ کا شکار ہوجاتی ہیں جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
‘یونیورسٹی آف باڈو وا’ سے منسلک محققین نے کہا ہے کہ مطالعے کی شریک خواتین کی تقریباً نصف تعداد نے شوہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو شدید دباو¿ اور ڈپریشن کا شکار بتایا۔طب کی دنیا میں عورتوں کی اس کیفیت کو ‘ریٹائرڈ ہسبنڈ سنڈروم’ (آر ایچ ایس) سے منسوب کیا جاتا ہے جس کی علامات میں سر درد، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور بے خوابی شامل ہیں۔
اطالوی محققین کی رائے میں ریٹائرمنٹ کا ہر سال گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سنڈروم میں شدت آتی جاتی ہے جبکہ اس کیفیت کا تجربہ صرف گھریلو خواتین ہی نہیں کرتیں بلکہ ملازمت پیشہ بیویاں، جن پر پہلے سے ہی کام کا دباو¿ ہوتا ہے، خاص طور پر شوہر کی دیکھ بھال کے ساتھ گھریلو ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی فکر میں زیادہ بری طرح ڈپریشن سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
سماجی تعلیم سے کے شعبے سے وابستہ سائنسدان مارکو برٹونی اور ڈاکٹر جورجیو نے اپنے پانچ سالہ مطالعے کے دوران 840 جاپانی خواتین کے انٹرویوز کا جائزہ لیا۔ دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق اگرچہ جاپان میں کی گئی ہے لیکن مطالعے کے نتائج بہت سے ممالک کی خواتین پر لاگو ہوسکتے ہیں کیونکہ اس سنڈروم کے اثرات ملازمت پیشہ میاں بیوی پر زیادہ ملے ہیں۔ مطالعے میں شریک خواتین کو ان کے جذباتی مسائل کی پیچیدگی کے لحاظ سے اسکور دیا گیا۔ محققین کو معلوم ہوا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہر اضافی برس کے ساتھ خواتین کے ذہنی دباو¿ میں 6 سے 14 فیصد تک اضافہ ہوا۔ مطالعے میں شریک 47 فیصد خواتین نے جذباتی مسائل میں اضافے کی شکایت کی۔ اسی طرح 41 فیصد خواتین کو ڈپریشن اور بے خوابی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔
‘ریٹائرڈ ہسبنڈ سنڈروم’ کا مفروضہ پہلی بار امریکی ڈاکٹر چارلس کلفرڈ نے پیش کیا تھا لیکن اس نئی تحقیق میں پہلی بار ان کے اس مفروضے کو ثبوت کے ساتھ سچا ثابت کیا گیا ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق اس سنڈروم کے اثرات کو صرف خواتین تک ہی محدود نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کے اثرات میاں بیوی دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔ کیونکہ ریٹائرمنٹ کے بعد شوہر بھی بیوی کی طرح اسی قسم کے جذباتی مسائل کا سامنا کرتا ہے۔
محققین نے طبی جریدے ‘لیبر جرنل’ کے مطالعے میں لکھا ہے کہ عمر کا ایک طویل عرصہ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد برسوں پرانی عادت کو خیرباد کہتے ہوئے انھیں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض بیویوں کی ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ گھر میں ایک اضافی فرد کی موجودگی بھی ہوتی ہے تو دوسری جانب مالی مشکلات کا بوجھ اور گھر پر رہنے کی وجہ سے شوہر کی ضروریات اور فرمائشیں پوری کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ وقت بے وقت کی تکرار اکثر بیگمات کو جذباتی مسائل کا شکار بنا دیتی ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں، ہمارے معاشرے میں ایسا اکثر دیکھا گیا کہ جب شوہر نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ لی تو اسے ایک آرام دہ زندگی دینے کی بجائے گھر والوں کو اسے پارٹ ٹائم نوکری پر لگا دیا، حالانکہ شوہر کی مرضی تو یہی ہوتی ہے کہ وہ اب اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام و سکون کی زندگی گزارے، مگر چونکہ شوہروں کی غیر موجودگی کی بیویاں عادی ہو چکی ہوتی ہیں تو انھیں شوہر کا ہر وقت گھر میں بیٹھے رہنا اچھا نہیں لگتا، جس کا پہلے دبے لفظوں میں اظہار کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اس میں شدت آتی جاتی ہے، بیوی کسی نہ کسی بہانے اسے گھر سے باہر رکھنے کی خوہش کے تحت کبھی اسے مالی کمی کا حساس دلاتی ہے کہ نوکری کے وقت گھر کے حالات اچھے تھے اور اب برے ہوتے جا رہے ہیں تو کبھی اس کی صحت کا بہانہ بنا کر کہتی ہے کہ گھر بیٹھے بیٹھے بیمار پڑ جاﺅ گے، حالانکہ 60/65سال کی مسلسل نوکری اور جدوجہد کے بعد اب شوہر کو سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔
میاں بیوی کے تعلقات میں ہم آہنگی کسی بھی معاشرے کی مضبوطی اور اس کے استحکام کیلئے ایک بنیادی اور اساسی اہمیت کی چیز ہے۔ میاں بیوی کے میل ملاپ اور ان کے اتحاد واتفاق ہی کی بدولت ایک نئے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور مختلف خاندان کا مجموعہ ہی معاشرہ یا سماج یا سوسائٹی کہلاتا ہے۔ لہذا جن خاندانوں میں باہمی جھگڑے پائے جاتے ہیں یا جن میں اتحاد ویگانگت موجود نہ ہو۔ یا جن میں میاں بیوی کے درمیان تفرقہ اور انتشار پیدا ہو چکا ہو وہ معاشرہ اور سماج حد درجہ کھوکھلا ہوجاتا ہے اور بہت جلد زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس اعتبار سے میاں بیوی کے درمیان محبت والفت اور باہمی ہم آہنگی کا پیدا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ دونوں مل کر اپنے حقوق وفرائض بخوبی ادا کر سکیں اور اپنی اولاد کی بھی صحیح تر بیت کر سکیں۔ جن کے نازک کندھوں پر اگلے خاندانوں کو سنبھالنے اور انہیںقائم رکھنے کا بوجھ رکھا جائے گا۔ اسلام کی نظر میں گھر اور زوجہ کے تمام اخراجات ادا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے اور مرد کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے تمام اخراجات کو پورا کرے، چاہے بیوی شوہر سے زیادہ دولتمند ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن آج کے دور میں جب ریٹائرمنٹ کا وقت آتا ہے تو ایسے میں بیویوں کو چاہیے کہ وہ انھیں مکمل سکون و آرام دیں نہ کہ ان کی گھر میں موجودگی پر چڑچڑا پن کا اظہار کریں اور بوریت محسوس کریں۔
کیونکہ جیسے شوہر نان و نفقہ کے فرض کے تحت اپنی بیویوں کے حق ادا کرتا رہا ہے اور وہ تمام ضروریات جو عورت کی زندگی کے لئے ضروری ہو اور وقت ، حالات اور اس کی گھریلو حیثیت کے مطابق ہوں جیسے
1۔ کھانا،پینا، پھل اور دوسری ضرورتیں معمول کے مطابق۔
2۔سردی اور گرمی کے کپڑے جو اس کی شان کے مطابق ہوں۔
3۔ بستر، تکیہ ، پلنگ ، تخت وغیرہ۔
4۔ کھانا پکانے اور کھانے پینے کا سامان۔
5۔ گھر کو گرم یا ٹھنڈارکھنے کے وسائل(پنکھا، کولر، انگیٹھی وغیرہ)
6۔ ذاتی گھر یا کرایہ کا گھر جو اس کی حیثیت کے مطابق ہو اور اس میں گھر والوں کے لئے سکون فراہم ہو سکے۔
7۔ علاج کے اخراجات۔
8۔ صفائی اور بناﺅ، سنگھار کے سامان اور دوسری ضروریات زندگی، مہیا کرتا ہے تو اس وقت میں یعنی ریٹائرڈ منٹ کے بعد بیوی کا فرض بھی ہوتا ہے کہ وہ شوہر کو سکون و آرام مہیا کرے، نہ کہ خود بھی ذہنی دباو¿ اور کوفت کا شکارہو اور اپنے شوہروں کو بھی ذہنی مریض بنا دیں۔
یہ بات درست ہے کہ بیوی ہی اپنے شوہر کو بادشاہ متعارف کرواتی ہے اور ملکہ بن کر گھر پر حکومت کرتی ہے وگرنہ شوہر کو نوکر سمجھنے والی خود بھی نوکر بن جاتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s