خواتین

معاشرتی زندگی میں ستر اور پردہ دونوں خاص اہمیت کے حامل ہیں

blue-hijabمنصور مہدی
شمالی وزیرستان میں جاری دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے متاثر ہونے شہری صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بنائے ہوئے کیمپوں میں پناہ گزین ہو رہے ہیں، ان میں مردوں اور بچوں کے علاوہ خواتین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے، ان میں سے بیشتر خواتین دیگر گھریلوں اشیاءکے علاوہ برقعے فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔

اگرچہ قبائلی خواتین زیادہ تر اپنے گھروں میں ہی وقت گزارتی ہیں مگر جب کسی مجبوری سے باہر جانا ہو تو یہ بغیر برقعے کے باہر نہیں جاتی، ان خواتین میں کئی ایسی خواتین بھی ہیں کہ جو اپنی زندگی میں چند بار ہی گھر سے باہر نکلی ہوں گی اور ایسی بھی ہیں کہ جو اب پہلی بار گھر سے باہر آئی ہیں۔

دنیائے اسلام کے مختلف معاشروں میں پردے کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہے۔ اگرچہ اسلام نے پردے کا حکم دیا ہے مگر حالات اور زمانے نے پردے کے بارے میں مختلف نظریات کو جنم دے دیا، چنانچہ اب کچھ ایسے معاشرے ہیں کہ جہاں عورت کے لیے پردہ لازمی ہے اور کچھ ایسے ہیں کہ جہاں پردہ کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ جیسے ایران اور سعودی عرب میں عورتوں کے لئے پردہ لازمی ہے لیکن ترکی میں سرکاری اداروں میں عورت کے پردہ کرنے پر پابندی ہے، اسی طرح کئی دوسرے مسلمان ممالک کی اکثریت میں بھی پردہ کرنے کا کوئی رواج موجود نہیں یا پھر ایسے ممالک بھی ہیں کہ جہاں پردہ کرنے یا نہ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔لیکن ان معاشروںمیں بیشتر میں پردے یا حجاب کے حوالے سے اختلاف بھی پایا جاتا ہے کہ کیا صرف سر کا ڈھانپنا ہی کافی ہے یا چہرے پر نقاب ڈالنا بھی ضروری ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے کہ جہاں بہت سی عورتیں برقعہ اور حجاب اوڑھتی ہیں لیکن شہروں اور دیہات میں ایک بڑی تعداد نہ تو پردہ کرتی ہے اور نہ ہی حجاب اوڑھتی ہے۔ کچھ لوگوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عورت اور پردہ ایک لازم وملزم چیز ہے۔ اگر ہم عورت کے لغوی معنی دیکھیں تو وہ بھی پردہ کے ہی معانی میں آتا ہے جبکہ اصل معانی ایسی چیز کہ جسے دیکھنے یا دکھانے میں شرم آتی ہو۔ عورت عربی زبان کا لفظ ہے جو اردو میں غالباً 1503میں پہلی بار استعمال ہوا۔ جبکہ حجاب یا پردہ کے بھی لغوی معنی کسی چیز کو چھپانا ہے یا آڑ لینا ہے۔

قرآن مجید میں پردے سے متعلق دو آیتیں بطور خاص آئی ہیں۔ پہلی آیت” سورہ نور کی ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ “اور عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں مگر بجز اسکے جو ظاہر ہو جائے ” آیت کے آخری حصے کی مفسرین نے مختلف تعریف کی ہے۔کچھ کا کہنا ہے کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلی ہے جبکہ کچھ چہرہ اور ہتھیلی کو خارج حجاب نہیں بلکہ داخل حجاب سمجھتے ہےں۔ لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ عورتوں کو پردہ کرنا ضروری ہے۔

جبکہ کچھ لوگوںکا کہنا ہے کہ انسان کی معاشرتی زندگی میں ستر اور پردہ دونوں خاص اہمیت کے حامل ہیں، انسان کو اگر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو فطرت انسانی اور اسلامی تعلیمات دونوں یکساں نظر آتی ہیں۔پردے یا حجاب کا تعلق دراصل دو چیزوں سے ہے ، ایک شرم و حیا کا فطری جذبہ اور دوسری انسانی زندگی ( مرد وعورت دونوں کی) کی گناہوں سے حفاظت سے۔ حیا اور شرم چوں کہ فطری تقاضا ہے ، اس لیے اسلامی تعلیمات میں بھی اس کی اہمیت بنیادی اور اساسی نوعیت کی ہے۔شرم وحیا ایک بنیادی اور فطری وصف ہے جو آدمی کو بہت سے برے کاموں اورمنکرات سے روکتی ہے او راچھے اور پسندیدہ کاموں پر آمادہ کرتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے عورتوں پر پردہ واجب قرار دیا کہ وہ پہلے ہی شرم و حیا کا پیکر ہوتی ہیں اس سے انھیں خود اور اپنے جسم کو غیروں سے چھپانا ضروری ہوتا ہے۔

اگرچہ پردہ تمام امتوں میں فرض نہیں رہا اور اسلام میں بھی ابتدا میں فرض نہیں تھا۔ مگر 5 ہجری میں جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش سے نکاح کیا تو ولیمے کے موقع پر پردے کا حکم نازل ہوا۔ لیکن بطور رواج اس کا ثبوت اسلام سے قبل بھی ملتا ہے۔ پردہ صرف عورت پر فرض ہے اور صرف نامحرموں سے ہوتاہے۔ اسلام سے بہت پہلے عربوں میںبھی پردہ رائج تھا۔اسی طرح اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو نہ صرف عرب بلکہ یونان او رایران وغیرہ میں بھی قبل از اسلام پردے کا رواج تھا اور ایرانی حرم میں تو پردہ اس قدر شدت کے ساتھ رائج تھا کہ نرگس کے پھول بھی محل کے اندر نہیں جاسکتے تھے، کیوں کہ نرگس کی آنکھ مشہور ہے۔یہی نہیں بلکہ اسلام کی آمد کے بعد مسلم معاشرت اور اسلامی حکومت کے اثرات کے تحت شمالی ہندوستان میں بھی کئی غیر مسلم خاندانوں میں پردے کا رواج ہو گیا تھا، جو ایک عرصے تک قائم رہا۔عربوں کے ہاں نہ صرف پردہ ( اور چہرے کا پردہ) رائج تھا، بلکہ یہ پردہ آزاد اور شریف عورتوں او رباندیوں میں وجہ امتیاز بھی تھا، آزاد اور شرفا کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین باپردہ ہوتی تھیں اور زر خرید باندیاں اور لونڈیاں چہرے کھول کر مردوں کے سامنے آتی جاتی تھیں ، یہ اس دور کی عام معاشرت تھی ، جو اسلام کے بعد بھی رائج رہی اور اسلام نے اس پردے کو قانونی شکل دے دی گئی۔

پاکستان کی اکثر خواتین کا کہنا ہے کہ حجاب عورت پر لازم ہے اور انہیں اپنے ہاتھوں، پیروں اور چہرے کے علاوہ پورے جسم کو ڈھانپنا چاہئے۔ہم مسلمانوں کو اپنی اقدار پر فخر ہے اور ہمیں اس پر کسی رائے شماری کی ضرورت نہیں ہے۔ پردے اور حجاب کے معاملے میں اگرچہ مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراءہیں۔جن میں جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے گا۔ عورت ایک چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔ اس سے نہ صرف عورت کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عورتیں جب پردے میں گھر سے باہر نکلتی ہیں تو بری نگاہوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔

آج کی میڈیکل سائنس عورت کے پردے کی تائید کرتی ہے، خواتین کے لیے اللہ کا جو حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جاتا ہے اور اس میں اللہ کی حکمت ہے۔ اللہ نے جو عورت کو اپنے ہاتھ ، چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں کو چھپانے کا جو ھکم دے رکھا ہے اس کی وجہ اب جدید میڈیکل سائنس بھی بتلا رہی ہے کہ عورت کے برہنہ حصوں سے ایسی ریز برآمد ہوتی رہتی ہے جو جنس مخالف میں کشش پیدا کرنے کا باعث بنتی ہےں اور یہی وجہ ہے مغرب کا مادر پدر آزاد معاشرے میں ایسی خواتین کی کمی نہیں جو عورتوں کی برہنگی کے خلاف ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یورپ کے وہ ممالک کہ جہاں سخت سردی ہوتی ہے اور خواتین نے مکمل لباس پہنا ہوتا ہے ، سر اور چہرے کو بھی چھپایا ہوتا ہے کی نسبت وہ ممالک جہان سردی زیادہ نہیں پڑتی یا سردی کا موسم زیادہ سخت نہیں ہوتا اور جب خواتین سکرٹ وغیرہ میں ملبوس ہوتی ہیں میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

بیشتر خواتین کا کہنا ہے کہ عورت حجاب اوڑھنے یا نہ اوڑھنے میں خود مختار ہے۔ ویسے بھی اسلام میں کسی قسم کا جبر کرنے کی تلقین نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے اسلامی احکامات کسی پر زبردستی لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ مسلمان خواتین کے لیے حجاب اوڑھنا کوئی بری بات نہیں لیکن کسی خاتون کو حجاب اوڑھے پر مجبور کرنا قطعاً درست نہیں اور یہ انسانی آزادی کے صریحاً خلاف ہے۔ان خواتین کا کہنا ہے کہ ہم ہر بات میں شریعت اور اسلام کی بات کرنے لگتے ہیں لیکن اسلام کی وہ باتیں جو ہمارے دل کو بھاتی ہیں ان پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جو نہیں بھاتی انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ شرم و حیا اور پردے کے حوالے سے قرآن میں صرف عورتوں کے لیے ہی احکامات نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔جن کے مطابق مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کے زمرے میں آتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ لیکن مرد خود ان باتون پر عمل نہیں کرتے اور عورتوں کو ہر بات کا دوش دیتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s