سچی کہانیاں

ہر سال سینکڑوں ماﺅں کو اس دکھ کی بھٹی میں جلنا پڑتا ہے

parental_abductionمنصور مہدی
ایک ماہ میں ہی جمیلہ سوکھ کر کانٹا بن گئی تھی، جبکہ چار بچوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ اس سے پہلے وہ ایک صحت مند اور خوبصورت خاتون تھی، بلکہ لڑکی نظر آتی تھی، اسے کوئی ایسی بیماری یا مرض لاحق نہیں ہوتھا کہ جس نے اس کی یہ حالت بنا دی، بلکہ ایک ماہ قبل اس کا 11سالہ بیٹا گم ہو گیا تھا جو تین بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا تھا، پولیس میں رپورٹ درج کروائی ، گمشدہ بچوں کو بازیاب کروانے والی تنظیموں سے رابطہ کیا، ہر جگہ جہاں ان سے ممکن تھا، اسے تلاش کیا مگر بیٹا نہ ملا، جس کے غم میں اس کی یہ حالت ہو گئی۔
پاکستان میں ایک جمیلہ ہی اس غم سے نہیں گزر رہی بلکہ ہر سال سینکڑوں ماﺅں کو اس دکھ کی بھٹی میں جلنا پڑتا ہے، کیونکہ ملک بھر میں جہاں جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہاہے وہیں جرائم پیشہ عناصر کم سن بچوں کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے، پاکستان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کی ایک سرگرم غیر سرکاری تنظیم مددگار نیشنل ہیلپ لائں کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں رواں سال کے تین ماہ میں گمشدگی کے 192 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں 128 لڑکے اور 74 لڑکیوں کے گمشدگی کے واقعات شامل تھے جبکہ رواں سال ماہ اگست تک 8ماہ کے دوران کم سن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے 2033 واقعات رپورٹ ہوئے، رواں سال کے 8 ماہ کے دوران 294 بچے قتل ہوئے،293 اغوا ہوئے، 97 بچوں کے فروخت کئے جانے اور 1115 بچوں کی گمشدگی کے کیسز درج کئے گئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 132 کے لگ بھگ کم سن بچیوں اور 102 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ ہونےوالے غیر اخلاقی واقعات ایسے بھی ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور نظروں سے اوجھل رہتے ہیں، جبکہ گھروں، اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ہزاروں کمسن بچوں کو جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جبکہ گزشتہ سال ملک بھر سے بچوں کی گمشدگی کے 1913 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں 1098 لڑکے اور 815 لڑکیاں شامل ہیں، رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 582 بچے اغوا کیے گئے جس میں 348 لڑکے اور 234 لڑکیاں شامل ہیں ، رپورٹ کے مطابق 1113 بچوں کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا جس میں 696 لڑکے اور417 لڑکیاں تھیں۔
مددگار نیشنل ہیلپ لائن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی عدم توجہ کے باعث گمشدہ بچے با آسانی پیشہ ور دہشتگردوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، بیشتر گمشدہ کم سن بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ویران راستوں پر پھینک دیا جاتا ہے، بچوں کے ساتھ زیادتی اغوا اور گمشدگی کے واقعات کی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے سے اس طرح کے واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
پیپلز لائرز فورم اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر شاہد حسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جہاں حکومت کیلئے دیگر مسائل حل طلب ہیں، وہیں بچوں کے حقوق کا تحفظ بھی حکومتی اداروں کیلئے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے، پاکستان میں بچوں سے جبری مشقت لینا، مزدوری کرانا یہاں تک کہ بھیک منگوانا ایک عام سی بات بن چکی ہے، ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی سڑکوں پر ہزاروں بچے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ بڑی عمر کے گداگروں کی نسبت اِن بچوں کو بھیک آسانی سے مل جاتی ہے، جسکی وجہ ا±ن کے چہرے پر چھائی کم سنی اور معصومیت ہوتی ہے، ان میں سے زیادہ تر بچے دوسرے علاقوں سے اغوا کر کے لائے جاتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں کراچی پولیس نے ایسے ہی 11 بچوں کو بازیاب کر ایا تھا جو پنجاب کے مختلف شہروں سے اغوا کر کے رمضان کے مہینے میں گداگری کیلئے کراچی لے جائے گئے تھے، اورجو گداگری کے لیے لائے گئے تھے، اِن بچوں کی عمریں 9 سے 15 سال تک بتائی جاتی ہیں۔ اغوا کرنے کے علاوہ بچوں کو بہلا پھسلا کر بھیک منگوانے کے رجحان میں اضافہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے،
شاہد حسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان میں حکومت کی جانب سے بچوں کے حقوق کیلئے کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ صرف سول سوسائٹی کے ممبران ہی اپنی مدد آپ کے تحت ان بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرتے ہیں۔ مگر، یہ مسئلے کا حل نہیں۔ بچوں کے حقوق کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ا±ن کے بقول اقتدار میں بیٹھے عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ بچوں کے حقوق کی جانب توجہ دیں، اگر کوئی بچہ گھر سے بھاگ جاتا ہے تو چائلڈ پراٹیکشن یونٹ بنائے جائیں، تاکہ والدین کو بچوں سے ملوانے میں آسانی ہوسکے اور بچے غلط ہاتھوں میں جانے سے بچ جائیں۔
انھوں نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان میں بچوں پر ہونےوالے جسمانی تشدد اور سزا دینے کی ممانعت کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے، کیونکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد گھر ، سکول اور دیگر افراد کی مار پیٹ اور تشدد کی وجہ سے بھی گھروں سے بھاگ جاتے ہیں، منظور ہونے والے بل میں بچوں پر تشدد کرنےوالے کسی بھی شخص کوایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا مختص کی گئی ہے، بچے پر تشدد یا جسمانی سزا دینے والے شخص کے خلاف والدین یا بچہ بذات خود مجسٹریٹ کو درخواست جمع بھی کرواسکتا ہے۔
بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی اسپارک نامی تنظیم ’سوسائٹی فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس‘ کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں بچوں کو جسمانی سزا کا مرتکب کرنے اور تشدد کی روک تھام کیلئے وفاقی سطح پر تو بل پاس کردیا گیا ہے مگر صوبائی سطح پر بھی ایسے قوانین مرتب کئے جائیں تاکہ صوبائی حکومت کے تحت ان قوانین پر عملدرآمد ہوسکے اور بچوں کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے ان کو ایسی سزا کا مرتکب نہ ٹھہرایا جائے، سوسائٹی کا کہنا ہے کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ بچوں پر نفسیاتی تشدد کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں جس سے بچوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور بچوں کے معصوم ذہنوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سینئر وکیل نوید عباس ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا اور مارپیٹ کرنا ایک عام بات سمجھی جاتی ہے،بچوں پر تشدداور مارپیٹ گھروں تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی ڈنڈے اور ہاتھوں سے بچوں کی پٹائی کرنا اور سزائیں دینا معمول کی بات ہے جس کے باعث ہزاروں بچے اسکول چھوڑدیتے ہیں اور ان کا تعلیمی کیریئر برباد ہوجاتا ہے، گھروں میں بھی ماں باپ کی جانب سے بچوں کو سدھارنے کیلئے مارپیٹ کا سہارہ لیاجاتا ہے، انھوں نے کہا کہ غیر ارادی طور پر ماں باپ مار پیٹ کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں ،جس سے اکثر و بیشتر مسائل حل ہونے کے بجائے گھمبیر ہوجاتے ہیں، زیادہ مار پیٹ اور سزاوں کے باعث اکثر بچے گھر بار چھوڑدیتے ہیں اور سڑکوں پر رہتے ہیں یا پھر جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جسمانی سزا اور مارپیٹ سے بچہ ڈھیٹ بن جاتا ہے اور والدین کو دوست سمجھنے کی بجائے دشمن سمجھنے لگتا ہے، بچہ ماں باپ کے ساتھ خوشگوار طریقے سے نہیں رہ پاتا اورجبکہ ان کی غیر موجودی میں آسودگی محسوس کرنے لگتا ہے، ایسے میں گھر چھوڑنے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ بچے کی ابتدائی دور کی تربیت اور نشونما اس کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار اداکرتی ہے۔ اسی طرح اگر والدین یا نگران کی جانب سے تشدد کا طریقہ اپنایا جائے یا سزا دینے کا عمل جاری رکھاجائے تو بڑے ہوجانے کے بعد بھی اس بچے کے ذہن سے تلخ اور منفی یادیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔
نوید عباس کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے والے بچوں کا المیہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، قوانین ہونے کے باوجود اغوا کے جرائم میں اضافہ ہمارے ملکی اداروںخصوصاً پولیس کی غفلت اور کوتاہی کا نتیجہ ہے، اغوا ہونے والے بچوں کے اغوا کی بجائے تھانہ گمشدگی کی رپورٹ درج کرتا ہے ، اس کی کوتاہی کی وجہ سے اغوا کے جرائم میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اگر پولیس بروقت کارروائی کرے اور اغوا کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیںتو اس جرم میں کمی ہو سکتی ہے، انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ بھکاریوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اگر پولیس اور دیگر ادارے بھکاری گروہوں پر نظر رکھیں اور ان کے خلاف تا دیبی کارروائی کریں تو اس سے ایک تو بے شمار اغوا کیے ہوئے اور گمشدہ بچے بازاب ہو جائیں اور جرائم میں کمی ہو جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s