خواتین

ہمارے معاشرے میں گھریلو جھگڑوں کی بھی بھر مار ہے

haute-tensionمنصور مہدی
ہمارے ہاں جہاں دنیا بھر کی برائیاں موجود ہیں وہاں ہمارے معاشرے میں گھریلو جھگڑوں کی بھی بھر مار ہے اور ایسے بہت ہی کم خوش قسمت گھرانے ہیں کہ جو اس بدی سے محفوظ ہیں، آپ روزانہ اخبارات میں دیکھتے ہوںگے کہ ان گھریلو جھگڑوں کے نتیجے میں کتنی قتل وغارت بھی ہوتی ہے، اس حوالے سے میں نے چند اخبارات اٹھائے تو کیا دیکھا کہ سانگلہ ہل میں گھریلو ناچاکی پر 35سالہ عظمیٰ بی بی نے اپنے دو کم سن بچوں سمیت نہرمیں کود کر جان دے دی، سرگودہا میں اپریل 2014میں گھریلو جھگڑے پر خاوند نے اپنے باپ سے مل کر بیوی کی دونوں ٹانگیں کلہاڑی سے کاٹ دی، ڈی جی خان میں گھریلو جھگڑے پر نوجوان نے اپنی سگی ماں اور بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر کمرے میں بند کر کے انھیں آگ لگا کر زندہ جلا دیا، چنیوٹ میں گھریلو جھگڑے کے نتیجے میں ایک شخص نے گولیاں مار پر اپنی ماں اور بہن کو قتل کر دیا، نوشہرہ میں گھریلو جھگڑوں کے نتیجے میں ایک باپ نے اپنے دو کم سن بچوں کا گلہ دبا کر ہلاک کر دیا، میانوالی میں ایک شخص نے گھریلو جھگڑے پر گولی مار کر اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، اسی طرح سرگودہا میں ایک شخص نے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے اپنی بیوی، ساس اور سالے کو قتل کر کے خود کشی کر لی، کاہنہ میں بیوی نے اپنے شوہر کو آگ لگا کر جلا ڈالا، راجن پورمیں ایک بھائی نے گھریلو جھگڑے پر اپنی بہن کو مار مار کر ادھ موا کردیا، کھاریاں میں گھریلو جھگڑے پر بیٹے نے باپ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا، وہاڑی میں شوہر نے گھریلوجھگڑے پر بیوی کو تیزاب سے جلاڈالا، لالہ موسیٰ میں ایک نوجوان نے گھریلوجھگڑوں سے تنگ آ کر گلے میں پھنداڈال کر موت کو گلے سے لگا لیا، خانیوال میں ایک عورت نے شوہر سے روز روز کی لڑائی سے تنگ آ کر اپنے ہی تین بچوں کو زہر دے کر مار دیا، سوات میں گھریلو جھگڑےپر چچا نے بھتیجی کو قتل کر دیا، کوئٹہ میں ایک خاتون نے روز روز کی جھک جھک سے تنگ آ کر گولی مار پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
گھریلو جھگڑوں کے نتیجے میں جہاں مرد بھی زک اٹھاتے ہیں وہاں عورت سے سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہے، ویسے بھی عورتوں پر تشدد ہمارے معاشرعے کا انتہائی دردناک المیہ ہے، مگر اس سے بھی زیادہ دردناک المیہ یہ ہے کہ اس تشدد کی ابتدا گھر کے ہی جھگڑوں سے شروع ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں عورت کو ایسے ایسے الم ناک ادوار سے گزرنا پڑتا ہے کہ بالآخر موت ہی منزل بن جاتی ہے۔
ابھی حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے کہ شرح اموات میں اضافے کی ایک اہم وجہ گھریلو جھگڑے بھی ہیں، تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ قریبی تعلقات میں آنے والی پریشانیاں اور توقعات موت کی شرح میں اضافے کی وجہ ہیں، ڈنمارک کے محققین کے مطابق پارٹنر، دوستوں یا رشتے داروں کے ساتھ اکثر ہونے والی بحث اور جھگڑوں سے وسط عمری میں موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کمیونٹی ہیلتھ کے ایک میگزین میں محققین کا کہنا ہے کہ مسلسل ہونے والی بحث سے عورتوں، مردوں اور بے روزگار لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ قریبی تعلقات میں آنے والی پریشانیاں اور توقعات موت کی شرح میں اضافہ ہیں۔ اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دباو¿ سے نمٹنے کی ہر شخص میں مختلف صلاحیت ہوتی ہے۔ ان سے متاثر ہونا انسان کی شخصیت پر منحصر ہے۔ مگر عورت چونکہ پہلے ہی صنعف نازک ہوتی ہے اس لیے وہ اس دباﺅ کو زیادہ برداشت نہیں کر پاتی ۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین کا اندازہ ہے کہ مسلسل بحث اور جھگڑے سے موت کی شرح میں دوگنا یا تین گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ ویسے وہ اس بات کی وضاحت کرنے کے قابل نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
اس سے پہلے کے گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو انسان اپنے پارٹنر اور بچوں، اور خاندان کے قریبی ارکان کے ساتھ اکثر بحث میں الجھتا ہے، اسے دل کا دورہ پڑنے اور دل کے امراض کی ضرورت سے زیادہ امکان ہوتا ہے۔
ماضی میں کی گئی کئی تحقیق سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ کے بہت سے دوست ہیں اور سب کے درمیان گرم جوشی والا تعلق ہے تو اس دائرے میں آنے والے لوگوں کی صحت پر بھی اس کا مثبت اثر پڑتا ہے۔
دباو¿ میں جس طرح کا نفسیاتی رد عمل سامنے آتا ہے اس میں جیسے کہ بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کا خطرہ شامل ہے
تازہ مطالعہ میں محققین کا کہنا ہے کہ دباو¿ میں جس طرح کا نفسیاتی رد عمل سامنے آتا ہے، جیسے کہ بلڈ پریشر اور دل کی بیماری کے خطرے، یہ سب موت کی شرح میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق ’بحث اور جھگڑے سے پیدا ہونے والے دباو¿ کا اثر سب سے زیادہ مردوں پر پڑتا ہے۔ ان میں ?ولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔مطالعہ میں 36 سے 52 سال کے قریب 9،875 مردوں اور خواتین کو شامل کیا گیا۔ ان کی معلومات سے اس بات کے امکانات کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ کشیدہ معاشرتی تعلقات اور جلد موت کے درمیان کیا تعلق ہے۔
مطالعے کے دوران پتہ چلا ہے کہ شریکِ حیات اور بچوں کی طرف سے کیے جانے والے مسلسل مطالبات اور روز روز کے جھگڑوں سے موت کے خطرے میں 50 سے 100 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ’ویسے تو تشویش اور جھگڑے روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن جن لوگوں کی اپنے نزدیکی رشتہ داروں یا پارٹنر سے اکثر کھٹ پٹ ہوتی رہتی ہے، انہیں زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کی مدد کی جانی چاہیے۔
ایک دیگر تحقیقی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عورتوں کی مار پیٹ گالی گلوچ ، بے جا پابندیاں ، جذباتی و ذہنی دباو¿ بیٹیوںکی زبردستی شادی، گھریلو تشدد کے زمرے میں آتی ہیں، جو ہمارے معاشرے میں عام ہے، ہمارے معاشرے میں عورتوں پر تشدد کی اور بھی اقسام ہیں، خواتین کی تجارت، خواتیں کو جلانا، خواتین کو سر عام برہنہ کرنا، غیرت کے نام پر قتل، زیادتی یا اغوا کر کے زیادتی کرنا وغیرہ۔ مگر ان تمام مظالم کی ابتدا گھریلو تشدد سے ہی جنم لیتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق گھریلو تشدد کیاہم وجویات درج ذیل ہو سکتی ہیں۔
تعلیم کی کمی
پرانی روایات کت اسیر مردوں کا معاشرہ جو غیرت کے نام پر کچھ بھی کر گزرتے ہیں
گھرکے سر پرست افراد کی کم علمی( جاہلیت) اور حقوق نسواں کے بے اعتنائی
غربت اور افلا س
لڑ کی اور لڑکے کی مر ضی کے خلا ف شا دی جو اکثر گھر یلوجھگڑوں کا باعث بنتی ہے
ز یا دہ بچو ں کاپیدا کرنا
عورت کا اپنے حقوق سے لا علم ہونا
اسلا می تعلیمات سے دوری
مردوں کی عورتوں کو فر ما نبر دار بنا نے کی خو ا ہش
شکوک کی تصدیق کرنے کی بجائے تشدد کرنا
اگرچہ گھریلو جھگڑوں کے خاتمے کیلئے جہاں حکومت اور ریاست کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ ایسے قانون بنائے جو ذمہ داروں کو ایسی سزائیں دے کہ دوسروں کو عبرت ہو سکے، مگر اس سے زیادہ یہ ہم معاشرے کے لوگوں کی ہی ذمہ داری ہے ، جس کی ابتدا گھر سے شروع ہو سکتی ہے، یہ گھر والوں کی ذمہ داری کہ وہ اپنے لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دینے کی بجائے انھیں بھی برابری کا حق دیں، آج اگر ہر گھر کے والدین اپنا رویہ بدل لیں تو یقینا آنے والا کل ایک ایسا کل بن سکتا ہے کہ جس میں ہمارے معاشرے سے ایسی برائیاں ختم ہو جائیں گی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s