خواتین

وہ رنگوں میں ڈھلی ہوئی لڑکی روزانہ ہی آتی تھی

منصور مہدی

….. وہ رنگوں میں ڈھلی ہوئی لڑکی روزانہ ہی آتی تھی ۔ وہ بہت ہی اچھی تھی مگر خاموش طبع ۔ اتنی خاموش کہ جیسے ٹھہرا ہوا دریا۔ جب کبھی بات کرتی تھی تو اسکے لفظ خوشبو کی طرح چاروں جانب پھیل جاتے اور جب وہ ہنستی تو جیسے سارا عالم اس کی ہنسی میںڈوب جاتا تھا۔
ویسے تو وہ ہمیشہ وقت پر دفتر آیا کرتی تھی لیکن جب کبھی ذرا دیر ہوتی تو لگتا جیسے سارا دفتر ہی اس کا انتظار کر رہا ہے۔ان میں بھی شامل ہوتا۔ میں اس کے بارے میں مزید جاننا چاہتا تھا مگر موقع نہیں مل رہا تھا کیونکہ وہ صرف “ہوں، ہاں”میں ہی جواب دیکر سوال کرنے والے کو خاموش کر دیتی تھی۔ ایک دن مجھے اس سے بات کرنے کا موقع ۔ اس کی باتوں میں بھی بہت خوبصورتی تھی۔ اس کی دلکش آواز کانوں میں نقری گھنٹیاں سی بجاتی محسوس ہوتی۔ اس روز کے بعد اکثر اس سے باتیں ہوتی اور ہر موضوع پر ہوتی۔
ایک دن اس سے دوستی کے حوالے سے پوچھا تو وہ ناراض ہوگئی اور ایسا لگا کہ جیسے اسے شاید کسی دوست سے زک پہنچ چکی ہے جس وجہ سے اسے لفظ دوستی سی چڑ ہو گئی ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا اور درحقیقت لڑکوں سے دوستی کی قائل ہی نہیں تھی ۔ دوستی پر اس سے کئی مرتبہ گفتگو ہوئی۔اس کے پاس اپنی ہربات کے دلائل تھے۔
وہ کہنے لگی کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ ایک اسلامی معاشرہ ہے اور اسلام میں لڑکی کی لڑکے یا لڑکے کی لڑکی کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لڑکی کا کسی نامحرم کے ساتھ گومنے پھرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ لڑکے اور لڑکی کی دوستی کیونکہ دین کے خلاف ہوتی ہیں اسی لیے اس کے نتائج بھی اچھے برآمد نہیں ہوتے ۔
میں نے کہا کہ اسلام میں بغیر وجہ کے لڑکی اپنے گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی پھر یہ روزانہ ایک بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھروں سے باہر کیوں آتی ہیں ۔ دفتروں میں لڑکوں کے ساتھ کام کیوں کرتی ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں میں اکٹھے تعلیم کیوں لیتے ہیں۔
کہنے لگی کہ وہ تو ظاہر تعلیم حاصل کرنا تو مرد و عورت دونوں پر فرض ہیں ۔ اگرچی اس کے لیے علیحدہ علیحدہ تعلیمی ادارے بنانے چاہیے لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور ایک ہی ادارہ ہے تو وہاں تعلیم حاصل کرنے میں کوئی ہرج نہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوستی بھی کی جائے۔ایسا ہی دفتروں میں کام کرنا بھی ہے۔ کیونکہ معاشی مسائل سے پورا ملک دوچار ہے اور گھر کے ایک فرد کی ملازمت سے گھروں کے مسائل حل نہیں ہوتے جس وجہ سے خواتین گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔ لیکن اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ دفتر میں کولیگ کے ساتھ دوستی بھی ہو۔ بس اپنے اپنے کام کیے اور بس۔
جبکہ میں دوستی کا تو قائل تھا مگر ایسی دوستی جو ایک مقررہ حدود تک رہے۔ لیکن وہ مخالف جنس سے دوستی کسی بھی صورت میں کرنے کی قائل نہیں تھی۔
عجب مزاج کی لڑکی تھی۔ ایک دن ہمیں موقع ملا تو میں نے اسے کہا کہ دوستی میلان روح کی ایک صورت ہے۔ دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو ہم خود بناتے ہیں خود نبھاتے ہیں۔ دوستی ایسا رشتہ ہے جو انسان کی پہچان کراتا ہے۔دوستی کسی بھی انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام اور نعمت ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ محبت اگر سونا ہے تو دوستی کندن ہے۔ یعنی خالص سونا جو آزمائش کی بھٹی سے بار بار گزرکر بنتا ہے۔ آزمائش کا تصور دوستی کے حوالے سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آزمائش کے بغیر دوستی محض ایک تصور اور قیاس ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس محبت سراسر ایک تصور اور قیاس سے پروان چڑھنے والی انسیت ہے جس میں آزمائش نہیں ہوتی۔ لہذا میں محبت کا قائل نہیں ہوں۔
وہ کہنی لگی کہ جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں۔ آپ اس ماحول کی دوستی کی بات کرتے ہو۔ لیکن اس کے ہمیشہ نتائج الٹ نکلتے ہیں ۔مجموعی طور پر جوانی میں قدم رکھتے ہی مخالف جنس کی کشش محسوس ہونے لگتی ہے اور بیشتر لوگ اسی کشش کو محبت اور دوستی کا نام دے کرمزید روابط بڑھاتے ہیں۔ موجودہ معاشرے میںمردوں میں جہاں اور کئی باتیں موجود ہوتی ہیں وہاں مردکسی لڑکی سے دوستی کو معاشرے میں اپنی ٹھاٹ باٹ سمجھتے ہیں اور اگر شادی کرنے اور گھر بسانے کے امکانات موجودنہ ہوں تو ان میں سے بیشترمحض اپنی جنسی ضروریات انہی دوستیوں سے پورا کرلیتے ہیں۔اسکے مقابلے میں بعض لڑکیاں بھی لڑکوں سے رابطہ کو اپنے لیے کشش سمجھتی ہیں ۔اسی طرح زیادہ تر لڑکیاں یہ سوچتی ہیں کہ انکی اس دوستی کے نتیجہ میں ان کی شادی ہو جائے گی۔اصولا لڑکی کے احساسات اور جذبات لڑکے سے مختلف ہوتے ہیں۔لڑکے ہمیشہ تخیلات کی دنیا میں نہیں رہتے لیکن لڑکیاں عموماً ان دوستیوں میں رومینٹک اور عشق و عاشقی کی فضا میں رہتی ہیں۔وہ اپنے اس عشق کو آسمانی اور پاک و پاکیزہ سمجھتی ہیں اور اس میں خیانت کو گناہ سمجھتی ہیں جبکہ لڑکے جھوٹے وعدے اور دلفریب باتوں سے بھولی بھالی لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اپنی ناجائز خواہشات کوپورا کرلیتے ہیں۔ اسکے بعد شادی کے نام سے بھی بھاگتے ہیں اور پھر لڑکی کی زندگی میں نا امیدوں اور ناکامیوں کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ سب کچھ دوستی کے نام پر کیا جاتا ہے۔
میرا اصرار تھا کہ آزمائش سے گزری ہوئی دوستی حقیقی اور ٹھوس دوستی ہے اور ایسی دوستی میںکسی کے لیے جان دیتے ہوئے بھی آدمی کو صرف یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے دوست کے لیے ابھی کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ کیونکہ دوستی میںدوست بھی آپ کے لیے کچھ ایسے ہی جذبات رکھتا ہے۔وہ بھی وقت آنے پر آپ کے لیے جان قربان کر سکتا ہے۔ اصل میں دوستی کی طاقت اور اس کے حسن و جمال کا سرچشمہ دوستی کی ”مساوات“ میں پایا جاتا ہے۔ دوستی بڑا اعلیٰ اور ارفعٰ جذبہ ہے اور یہ ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں وہاں جنس مخالف سے دوستی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ ابھی ہمارے ہاں علم کی کمی کی وجہ سے ہمارے ہاں وہ انسانی اوصاف جو دوستی میں پنہاں ہوتے ہیں وہ پائے نہیں جاتے۔ جس وجہ سے یہ جنس مخالف کی دوستی نام نہاد محبت میں بدل جاتی ہے اور اس سے پھر دیگر نتائج برآمد ہونے شروع ہو جاتے ہیںحالانکہ اگر ایسے جذبات دوستی میں نہ ابھرےں تو شاید اس سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں ہو سکتی۔
کہنے لگی کہ اگر ایسی دوستی کے نتیجے میں شادی ہو بھی جاتی ہے تو ایسی شادیوں میں عشق ومحبت کاگذر نہیں ہوتا اس لیے کہ پہلے سے ہی ایک دوسرے کے شریک رہنے کی وجہ سے شادی شدہ زندگی کا حقیقی مقصد فوت ہو جاتا ہے ۔اس طرح کی دوستیوں میں کی ہوئیں شادیاں کچھ ہی عرصہ چلتی ہیں اور بعد میں طلاق ہو جاتی ہے اور اگر طلاق نہ بھی ہو تو پھربھی زندگی جہنم بن کر رہ جا تی ہے۔
میں نے کہا کہ اب تو لڑکوں لڑکیوں کی دوستیاں عام ہیں۔ انٹر نیٹ اور موبائل فون نے دوستیوں کو بہت آسان کر دیا ہے ۔
کہنے لگی کہ ایسی دوستیوں کے نتائج پھر کیا نکلتے ہیں ؟ کبھی اخبارات میں پڑھا ہے کہ ایسی دوستیاں کیا رنگ لاتی ہیں۔
میں نے کہا کہ کسی بھی انسان کے قریب ترین رشتے اس کے اپنے خاندان میں ہوتے ہیں۔ لیکن خاندان میں کوئی چھوٹاہوتا ہے اور کوئی بڑا ہوتا ہے۔ لیکن دوستی ایک ایسا رشتہ ہے کہ جس میں کوئی چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا بلکہ اس میں سب برابر ہوتے ہیں۔ دوستی میں کوئی امیر غریب نہیں ہوتا، سب مساوی ہوتے ہیں۔ دوستی میں کوئی عالم اور جاہل نہیں ہوتا، سب یکساں ہوتے ہیں۔ دوستی کی روح، دوستی کا جذبہ ، دوستی کا احساس بلند و پست کے ہر فرق کو مٹادیتا ہے۔ لہذا کسی بھی انسان کے لیے دوستی سے بڑھ کر کوئی انعام نہیں ہو سکتا۔ لیکن دوستی کے مفہوم کو درست اندازمیں نہ لینے کی وجہ سے اس میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ لیکن محبت کی نسبت دوستی میں ایک ایسی برجستگی پیدا ہوجاتی ہے جو تعلق کو کبھی ”پرانا“ نہیں ہونے دیتی جبکہ محبت پرانی بھی ہوجاتی ہے۔
وہ کہنی لگی کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دوستی کی ایک اور بڑی طاقت اس کی ”ابلاغی اہلیت“ ہے۔ یعنی کسی بھی انسانی تعلق یا دو افراد کے تعلق میں خرابی ان کے ابلاغ کے نظام میں خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اگر افراد کے درمیان ابلاغ کا نظام درست طور پر کام کرتا رہے تو تعلق کی خرابی پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اس تعلق کو ختم ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔یہ صرف دوستی ہی کی وجہ سے ممکن نہیں بلکہ بحیثیت ایک انسان کے دوسرے انسان کا ادب و احترام اور اعتماد بھی یہ وصف پیدا کر دیتا ہے کہ اکٹھے کام کرنے یا اکٹھے تعلیم حاصل کرنے والوں کے درمیان ابلاغ کا نظام درست رہے۔
میں نے کہا کہ لیکن ایسا صرف دوستی سے ہی ممکن ہے کولیگ کے رشتے میں بہت رکاوٹیں ہوتی ہیں جبکہ دوستی کی وجہ سے دوست کسی مصنوعی پن کا شکار ہوئے بغیر آزادی کے ساتھ اپنا مافی الضمیر بیان کرتے رہتے ہیں جس سے دوستی کو ضروری آکسیجن مہیا ہوتی رہتی ہے۔دوسرے الفاظ میں دوستی ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرکے زندگی کو مشترکہ طور پر برتنے اور جینے کا دوسرا نام ہے۔
کہنے لگی کہ نہیں زندگی مشترکہ گزارنے کا نام نہیں، زندگی تو تنہا ہی گزاری جاتی ہے۔ انسان تنہا ہی اس دنیا میں آتا ہے اور تنہا ہی چلا جاتا ہے۔ ہاں اگر کسی انسان کا جوڑا بنایا گیا ہے تو دوستی بھی اسے جوڑے کے ساتھ ہو سکتی ہے اور اس کے لیے یقینا انتظار کرنا چاہیے ناکہ ہر کسی کی صورت میں جوڑے کی صورت کو ڈھونڈا جائے۔
ایک دن میں نے کہا کہ اصل میں آپ دوستی کو مطلب نہیں جانتی کہ دوستی سے میری کیا مراد ہے؟ پوچھنے لگی بتاﺅ، تو میں نے کہا کہ جیسے عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ گھریلو رشتوں اور عزیز و اقارب میں وقت کے ساتھ ساتھ رشتوں کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے اور اکثر اوقات ختم ہو جاتی ہے اور تصنع و بناوٹ رہ جاتی ہے۔خاندانی رشتوں میں فی زمانہ دوستی پیدا کرنا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ لیکن کچھ ایسے گھرانے بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ جہاں ان رشتوں میں دوستی کا عنصر در آنے کی وجہ سے یہ رشتے ہمیشہ قائم رہتے ہیں بلکہ ان میں پختگی آجاتی ہے۔ تصنع و بناوٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے بڑے لوگوں نے کہا ہے کہ دوستی تصنع کی دشمن ہے۔ دوستی کا کمال یہ ہے کہ وہ رشتوں کو بدلے بغیر انہیں خوب صورت بنادیتی ہے۔ پھر دوستی کے کمالات میں سب سے اہم یہ کمال ہے کہ دوستی میں انسانی شخصیات کی نمو کے جتنے امکانات ہوتے ہیں اتنے امکانات کسی اور تعلق میں نہیں ہوتے۔ یہ بات اگرچہ اکثر لوگوں کو شعوری طور پر معلوم نہیں ہوتی مگر دوستی کا تجربہ انہیں اس احساس سے ہم کنار رکھتا ہے کہ ان کی شخصیت مسلسل نمو پارہی ہے ۔ دوستی اصل میں آزمائشوں کا نام ہے اور جو ان آزمائشوں میں کامیاب ہوتا ہے دوستی اسے مل جاتی ہے۔ دوستی محبت کی طرح یکطرفہ نہیں ہوتی بلکہ دوستی ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہے۔ اگر آپ کسی کو اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں تو وہ اسی صورت میں بنے گا جب وہ بھی اس پر راضی ہو۔ اس کے برعکس محبت یکطرفہ بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ دوسرا فریق بھی آپ سے محبت کرے۔ آپ اس سے اپنے طور پر بھی محبت کر سکتے ہیں۔
ایک دن وہ میری ان باتوں پر ناراض ہو گئی اور پھرکئی دن تک کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ پھر ایک روز خود ہی کہنے لگی کہ بقول علامہ اقبال “ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات”کے مصداق اب انسانی زندگی میں مفادات سرایت کرتے چلے جا رہے ہیں اورجس دوستی کی آپ بات کرتے ہوں اب اس کے برعکس دوستی میں صرف اپنے مفادات کو اہمیت دی جا تی ہے۔ جس کی وجہ سے دوستی کی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ جیسے کے کہا جاتا ہے کہ ابتدائی عمر کا حسن یہ ہے کہ اس دور میں انسان کے مفادات نہیں ہوتے اور اس لیے وہ تحفظات کے بغیر زندگی بسر کرتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا جاتا ہے اس کے مفادات اس کا اصل مسئلہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی سماجیات سے محبت کرنے لگتا ہے، اسے اپنی معاشیات سے عشق ہوجاتا ہے۔ ان چیزوں کی محبت اسے کسی سے دوستی کے لائق نہیں رہنے دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔ سماجیات اور معاشیات کے عشق نے ہمیں اپنی حد تک ہی محدود کر کے رکھ دیاہے۔ ایسے ماحول میں دوستی نہ پیدا ہوسکتی ہے، نہ فروغ پاسکتی ہے، اور نہ حسن و جمال کی حامل ہوسکتی ہے۔ بلکہ ایسے ماحول کی دوستی سوائے خرابی کے کچھ اور نہیں ہے۔
ایک دن میں نے اسے کہا کہ نہ صرف ہمارے خطے بلکہ دنیا کے ہر خطے میں مردوں کی عورتوں کے ساتھ دوستیاں موجود ہیں اور ہمیشہ سے موجود رہی ہیں، جیسے لیلیٰ مجنوں ، ہیر رانجھا، رومیو جولیٹ، رادھا کرشن اور لاتعداد افراد ہیں۔ اس دور میں ایسے افراد موجود ہیں کہ جنہوں نے دوستی میں اپنی جان بھی دے دی۔ میری باتوں پر اب اسے غصہ آنے لگا اور کہنے لگی کہ ان لوگوں کا بھی دماغ خراب تھا اور تمہارا بھی دماغ خراب ہے۔ ۔۔۔۔ ہاں شاید میرا ہی دماغ خراب ہے مگر وہ سچی ہے کہ جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں وہاں لڑکے اور لڑکی دوستی ممکن نہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s