پاکستان / سچی کہانیاں

کراچی کی 1200 اموات اور ذمہ دار کوئی بھی نہیں؟

Heat-650x366
….منصور مہدی…..

کراچی کی ماہی بستی میں رہنے والے بابا دینو نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے وہ سمندر کی لہروں کو دیکھتا آ رہا تھا۔ بابا دینو اگرچہ عمر کے لحاظ سے تو ابھی بابا نہیں تھا مگر غربت اور کسمپرسی کی چہرے پر پڑی لکیروں نے اسے بابا بنا دیا تھا، یہ لکیریں اس وقت اور بھی گہری ہو گئیں جب اس کا اکلوتا بیٹا اور اس کی کشتی کا نا خدا اپنے چار بچے اور بیوہ کو چھوڑ کر ایک سمندری لہر کی نظر ہو گیا تھا۔ باپ دادا کے دور سے اس بستی میں رہنے والے بابا دینو نے ہمت نہ ہاری اور اکیلا ہی سمندرمیں جاتا رہا ، کبھی کبھی اس کا بڑا پوتا اپنے باپ کی طرح دادا کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔

کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ بابا دینو یکدم ہڑبڑا کر سوتے سے اٹھ بیٹھا، اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے سمندر یکدم خاموش ہو گیا ہو، اور سناٹے نے ہر طرف ڈیرے ڈال لیے ہوں، یہ کیا ہو رہا ہے، وہ سوچنے لگا مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، سانس رکنے کا احساس ہونے پر اس نے اٹھ کر پانی کا ایک گونٹ لیا مگر یہ احساس بڑھتا چلا گیا، جیسے کوئی اس کا گلہ دبا رہا ہوں، مگر گردن پر ہاتھ لگا کر اس نے اطمینان کیا کہ نہیں یہ اس کا وہم ہے، وہاں کوئی بھی نہیں تھا، مگر مجھے سانس کیوں نہیں آرہا، جب اس نے غور سے سمندر کی جانب دیکھاتو وہ پریشان ہو گیا کیونکہ اسے سمندری لہروں رکی ہوئی نظر آ رہی تھی، ہوا جیسے موجود ہی نہیں تھی جو پانی میں مد و جزر پیدا کرتی رہتی تھی اور سمندر کا سانس چلتا رہتا تھا، مگر آج تو سمندر کا سانس بھی رک رہا تھا کبھی کبھی آخری سانسوں کی مانند کہیں کہیں مد و جزر بنتا اور ختم ہو جاتا، اسے اپنے باپ دادا اور بزرگوں کی روحیں سمندر کے اوپر دور کہیں نظر آنے لگی، وہ بھاگ کر اپنے ٹوٹے ہوئے مکان میں داخل ہوا ، بچوں کو چیخ کر کہنے لگا میرا دم گھٹ رہا ہے، پنکھا تو چلاﺅ، مگر بجلی ہوتی تو پنکھا چلتا، بابا دینو کی بہو اور پوتوں نے ہاتھ کے پنکھے ست اسے ہوا دینے کی کوشش کی مگر اب دم اکھڑ چکا تھا، آخر بابا دینو اپنے بیٹے کے پاس چلا گیا۔

بابا دینو کی موت کی خبر جب بستی کے دوسرے لوگوں کوہوئی تو وہ ابھی افسوس ہی کر رہے تھے کہ ایک اور بابا کے مرنے کی خبر آ گئی پھر تو ایسا لگا جیسے اس بستی کے تمام لوگوں کی باری باری موت آج ہی لکھی ہوئی ہے، اس بستی کیا پورے شہر کراچی سے لوگوں کے مرنے کی خبریں آنے لگی، جگہ جگہ صدائے ماتم گوجنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی دنوں میں 1200سے زائد انسان لقمہ اجل بن گئے۔

اس تصویر کا اگر دوسرا رخ دیکھیں تو ادھر 1200 سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جبکہ سیاستدان اس بات پر دست و گریباںہونے لگے کہ ان المناک ہلاکتوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ بجلی، پانی، مناسب تحفظ اور طبی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے اتنے لوگوں کی ہلاکت ایک ایسا المیہ ہے جو ملک کی ہر سطح پر سیاست دانوں اور حکمرانوں کی نااہلی، بے حسی اور بدانتظامی کا ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ قدرتی آفات اور حادثات ہر ملک اور ہر جگہ رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن ذمہ دار حکومتیں فوری اقدامات کے ذریعے انسانی جان و مال کو پہنچنے والے نقصان کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

اسی موسم گرما کی بات ہے کہ امریکیمحکمہ موسمیات نے واشنگٹن میںشدیدگر می کی پیش گوئی کیکہگرمی کاپارہ 37 ڈگری سنٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے ،تو وہاں کی انتظامیہ نے شہریوں کیلئے کولنگ سینٹرز، سپر ے پارک اور پو لز بنا دیئے تاکہ شہری اس گرمی کا مقابلہ کر سکیں مگر یہاں پر محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کہ باوجود نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت نے کوئی قدم اٹھایا، ہاں ان اموات کو اور تکلیف دہ بنانے کیلئے پہلے سے ہی کہی علاقوں میں کہی کہی دن سے بجلی بند تھی تو اسے بند ہی رہنے دیا، اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیدنگ کے دورانیے کو کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی، پہلے سے پینے کے پانی کو ترسے ہوئی شہریوں کو پانی سپلائی کا کوئی بہتر انتظام نہ کیا۔

ان ہلاکتوں کے علاوہ اس وقت بھی ہیٹ سٹر و ک اور ڈا ئر یا سے متاثرہ سیکڑوں متاثرہ مریض جناح، سول ہسپتال، عباسی ہسپتال اور لیا ری ہسپتال سمیت دیگر سرکاری و نجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جناح ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں مزید مریضوں کوداخل کرنے کی گنجائش نہیں ہے، گرمی کے باعث جاں بحق ہونے والے زیادہ تر افراد کی عمریں40سال سے زائدہیں جبکہ بچے بھی شکار ہو رہے ہیں۔ یہ ہلاکتیں کراچی کے علاوہ اندرون سندھ میں حیدر آباد ، ٹنڈو الہ یار ، جیکب آباد اور شکار پورمیں ہوئی ہیں۔ ایدھی فاﺅنڈیشن کے ترجمان انوار کاظمی کا کہنا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لاشیں ان کے مردہ خانے میں نہیںلائی گئیں۔

شہریوںکا کہنا ہے کہ اس قبل انہوںنے ایسی قیامت خیز گرمی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیشہ کی طرح پاکستان آرمی کے جوانوں نے گرمی سے بے حال مریضوں کوسہارا دیا۔ شہرقائدمیں ایک طرف قیامت خیز گرمی نے سینکڑوںشہریوںکی جان لے لی تودوسری طرف انہیں سپرد خاک کرنے کےلئے قبر ستا نوںمیںجگہ کم پڑگئی ہے۔لو احقین ایک قبرستان سے دوسرے قبرستان کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن انہیں میتیں د فنا نے کیلئے قبر یں نہیں مل رہیں اس لئے لوگوںنے پرانی قبر و ں میں تدفین شروع کر دی ہے۔لوگوںکاکہنا ہے ایک طرف گرمی قیامت ڈھا رہی ہے تو دوسری جانب حکمرانوں کی نااہلی نے جیناعذاب کردیاہے۔ اب مرنے والوں کو دفنانے کیلئے مرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ نہ میتو ںکےلئے سرد خانوںمیںجگہ ہے اور نہ ہی میت کی منتقلی کیلئے میت گاڑی اور نہ قبر یں دستیاب ہیں۔

اس برسبھارت میں بھی گرمی کی شدت سے دو ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی جبکہ تلنگانہ میں گرمی نے نیا ریکارڈ قائم کردیا،کئی بھارتی علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہوگئی۔تلنگانا اور آندھرا پردیش کی ریاستیںگرمی سے زیادہ متاثر ہوئی، شہری اسی لیے تو حکومت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ بھارت میں گرمی سے ہلاکتوں کے بعد حکومت کو پہلے سے ہی بچاو¿ کے انتظامات کر لینے چاہیئے تھے۔
ماہرِ آب و ہوا قمر الزمان چوہدری کے مطابق سمندری ہواﺅں کے رکنے کی وجہ سے درجہ حرارت اگر 45 ڈگری ہے، لیکن محسوس 50 ڈگری ہوتا ہے، کیونکہ شہر میں پھنسیہوئی گرم ہواکو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا، ان کے مطابق “شہر ایک بھٹی کی طرح بن گیا، ایسی تنور جو گرمی کو روک لیتا ہے، اور اسے باہر نکلنے نہیں دیتا۔

محکمہ موسمیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کا کہنا ہے کہ حالات میں مزید خرابی کی وجہ بحیرہ عرب کے اوپر ہوا کا کم دباو¿ تھا، جس کی وجہ سے گرم ہوا زمین سے سمندر کی جانب چل رہی تھی۔ “گرمیوں میں ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی جانب چلتی ہے، جبکہ سردیوں میں معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے سردیوں اور گرمیوں میں کراچی کا درجہ حرارت 15 ڈگری کم رہتا ہے۔ سمندری ہوائیں درجہ حرارت قابو میں رکھتی ہیں،سمندر میں ہوائیں ہی موجود نہ رہی جو اس کو کنٹرول رکھ سکتیں، یوں تو اس سے پہلے بھی کراچی میں گرمی کی لہر دیکھی گئی ہے، لیکن یہ زیادہ سے زیادہ دو دن برقرار رہتی ہیں، جبکہ اس دفعہ یہ کئی دن برقرار رہی۔

مگر افسوس تو ان حکمرانوں اور سیاستدانوں پر ہوتا ہے جو کسی آفت پر سیاست کرنے سے باز نہیں رہتے ، لوگوں کے گھروں سے جنازے پہ جنازے اٹھ رہے ہیں اور یہ مسخریاں کرنے میں اپنی بڑائی سمجھ رہے ہیں، کراچی بشمول سندھ کے شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیںاگرچہ مسلمان کے طور پر ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر شخص کی موت کا ایک دن معین ہے۔ اس لئے اس معاملے میں انسان مجبور محض ہے۔ لیکن جدید انسانی تاریخ میں کوئی ایک ایسا واقعہ مشکل سے ہی تلاش کیا جا سکے گا جس میں صرف گرمی کی شدت کی وجہ سے لوگ تڑپ تڑپ کر مرتے رہے ہوں اور ذمہ دار حکمران یا تو پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ د یکھ رہے ہوں یا ایک دوسرے پر الزام دھر کر خودکومطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اسمبلی میںایسی حیرت کا اظہار کیا کہ جیسے 1200افراد کی موت کوئی معمولی واقعہ ہو، البتہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی چار جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ف) اور مسلم لیگ (ن) نے ایک قرارداد ضرور تیار کی ہے جس میں کراچی اور سندھ میں ہلاکتوں کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت کے مختلف محکمے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت کراچی الیکٹرک کے ذریعے شہر میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہی ہے۔

ادھر قومی اسمبلی میں وزیر پانی و بجلی خواجہ آصفنے یہ فرما کر حیرت زدہ کردیا کہ صوبوں کو بجلی فراہم کرناوفاق کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس لئے سندھ میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مرنے والوں کی ساری ذمہ داری وفاق پر نہیں بلکہ سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کردینے کے جھوٹے وعہدے کر کے ووٹ لیکر برسراقتدار آنے والے حکمرانوں سے یہی امید کی جا سکتی ہے، کہ کچھ کرنے کی بجائے بجلی کا حساب کتاب پیش کرنا شروع کر دیا، ایک اور وزیر بجلی نے بھی ذمہ داری لینے کی بجائے بتانا شروع کر دیا کہ اس برس اتنے لاکھ اے سی فورخت ہوئے اور اتنے ہزار فلاں چیزیں فروخت ہوئیں، بجلی نے تو خرچ ہونا ہی تھا، کوئی ان سے پوچھے کہ اربوں روپے سڑکوں پر لگانے کی بجائے بجلی کے منصوبوں پر لگائے جاتے تو شاید یہ صورت پیدا نہ ہوتی مگر ان منصوبوں سے کمیشن نہیں ملتا یا شاید یہ مناسب کاروبار کے زمرے میں نہیں آتا۔

جب خواجہ آصف بجلی کی پیداوار، کھپت، چوری اور ریکوری کا حساب پیش کر چکے تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے دھاڑنا شروع کر دیا کہ سندھ میں لوگ مر رہے ہیں اور وفاقی وزیر ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے حساب کتاب پیش کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق کی بنا پر خورشید شاہ کا مسئلہ یہ تھا کہ اس بحران سے سندھ حکومت کو بری الذمہ قرار دے کر سارا بوجھ وفاقی حکومت پر ڈال دیا جائے۔ سیاسی لیڈروں نے صرف ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے کی کوشش کیلیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ مل بیٹھ کر سب متاثرین کی مدد کے لئے بہترین حل تلاش کریں اور ایسی تجاویز پر غور کریں کہ آئندہ اس قسم کی المناک صورت حال پیدا نہ ہو سکے۔

کیونکہ قمر الزمان چوہدری، جو کہ عالمی ادارہ موسمیات اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے مشیرِ خصوصی برائے ایشیا ہیں، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے ماہر ہیں،کا کہنا ہے کہ یہ شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے ان کا کہناہے کہ انہیں اس حوالے سے بالکل بھی شک نہیں کہ اس طرح کے واقعات ابھی مستقبل میں اور بڑھیں گے، اور بین الالحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی میں سائنسدانوں نے پہلے ہی یہ پیشگوئی کر دی تھی۔

یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ اس بار بھی حکومت کی جانب سے کچھ اقدامات نہیں کیے جائیں گے، چنانچہ بابا دینو اور ایسے ہی دیگر لوگوں کے بچے خود کو یتیم بنانے اور ایسے حالات میں زندہ رہنے کیلئے خود کو تیار کر لیں، جب تک ایسے ( موجودہ) حکمران ہیں عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s