خواتین

عورت کی ذہانت اس کی دلکشی میں ہے

منصور مہدی
چاند بابو لکھتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت گالف کھیل رہی تھی کہ ایک ہٹ کے بعد اس کی گیند قریبی جنگل میںجا گری، بال ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ جھاڑیوں میں پہنچ گئی، جہاں گیند پڑی تھی۔ اس نے دیکھا کہ وہاں ایک مینڈک کانٹے دار جھاڑی میں پھنسا ہوا ہے۔ مینڈک نے عورت کو دیکھ کر کہا،اے خاتون اگر آپ مجھے ان کانٹوں سے نجات دلا دیں گی تو میں آپ کی تین خواہشات پوری کروں گا۔ یہ سن کر خاتون نے فوراً ہاتھ آگے بڑھا کر مینڈک کو کانٹوں سے نجات دلا دی۔
مینڈک نے کانٹوں سے نجات پا کر شکریہ ادا کیا اور خاتون سے کہنے لگا جی اب آپ بتائیں کہ آپ کی کیا خواہش ہے،لیکن میں معافی چاہتا ہوںکہ میںآپ کو یہ بات بتانا بھول گیا تھا کہ آپ جو کچھ بھی مانگیں گی،وہ چیز آپ کو تو ملے گی مگر آپ کے شوہر کو وہی چیز دس گنا زائدملے گی۔
خاتون کو یہ سن کر بڑا غصہ آیا، لیکن پھر یکدم اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھا گئی اور کہنے لگی کہ کوئی بات نہیں۔
خاتون نے کہا کہ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میںدنیا کہ سب سے خوبصورت عورت بن جاو¿ں۔ مینڈک نے کہا سوچ لیں آپ کا شوہر دس گنا زیادہ خوبصورت ہو جائے گا؟ عورت کہنے لگی کوئی حرج نہیں، میں بھی سب سے خوبصورت ہوں گی، تو وہ مجھے ہی دیکھے گا۔
مینڈک نے کوئی منتر پڑھا اور خاتون بے حد خوبصورت ہو گئی۔
دوسری میری یہ خواہش ہے کہ میں سب سے امیر ہو جاو¿ں۔ مینڈک نے پھر کہا سوچ لیں آپ کا شوہر آپ سے بھی دس گنا امیر ہو جائے گا؟ عورت کہنے لگی کہ یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں، اس کی دولت یا میری دولت، ایک ہی بات ہے۔
مینڈک نے پھر منتر پڑھا اور وہ خاتون امیر ہوگئی۔
جی خاتون آپ کی اب تیسری اور آخری خواہش کیا ہے؟ مینڈک نے پوچھا۔
عورت ہلکی سی مسکان لیے کہنے لگی کہ مجھے ایک ہلکا سا دل کا دورہ یعنی ہارٹ اٹیک ہو جائے۔
چاند بابو آخر میں لکھتے ہیں کہ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ خواتین بہت چالاک ہوتی ہیں، ان سے زیادہ ہوشیاری اچھی بات نہیں۔
آخر عورتوں کو چالاک کیوں کہا جاتا ہے، اس بات کو جاننے کیلئے میں نے بہت کوشش کی، بہت سے مضامین پڑھے مگر ہر کوئی عورت کی چالاکیوں سے نالاں نظر آیا، حتی جو لوگ کچھ عرصہ پہلے تک عورت کو اللہ میاں کی گائے سمجھتے تھے کہ اسے جس کھونٹی سے باندھ دو یہ بندھی رہتی ہے مگر اب ان کے خیالات بھی بدل چکے تھے۔
بابا محمد یحییٰ خان اپنی کتاب پیا رنگ کالامیں لکھتے ہیں کہ جتنے بازاری عورت کے سر پر بال ہوتے ہیں ، اس سے دگنی اس کے پاس چالاکیاں ہوتی ہیں ، مکاری عیاری ، فریب ، عشوہ طرازی ،حیلہ سازی ، بہانہ بازی ، لبھانے ، پرچانے اور انگلیوں پر نچانے کے ہزار ہا ڈھنگ اس کی پوروں میں ہوتے ہیں ، دبنگ سے دبنگ مرد کو بھی کاٹھ کا الو بنانے کے لئے اسے اڑھائی ساعت درکار ہوتے ہیں۔
بلاگر نورین تبسم لکھتی ہیں کہ اگر عورت اپنے آپ کی صحیح بولی لگانے کا ہنر جان لے تو کامیاب ترین “کاروباری “عورت، توبہ کے پانی سے غسل کرلے تو آسمان چھو لے،بھٹکے ہوو¿ں کے لیے سنگ ِمیل بن جائے تو بڑے بڑوں کو پار لگا دے، خود آگہی کے احساس کی انتہا کو چھو لے تو ٹھنڈے کمرے میں آتش فشاں بھڑکا دے اور گرم کمرے میں جامد گلیشئیر بن کر زمانوں کے لیے ‘ممی’ کی صورت حنوط ہو جائے، کیا ہے یہ عورت ؟ کیوں ہے یہ عورت ؟ کون ہے یہ عورت ؟
یہ عورت کا کون سا روپ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے ،نہ مانتے ہوئے، ہر احساس میں کہیں نہ کہیں یوں چپکے سے درآتی ہے، جیسے ہنستی بستی جنت میں شیطان سانپ کا روپ دھار کر داخل ہوا تھا اور پھر نہ بستی رہی نہ جنت۔
کتنی پرتیں کھولو گی آپ اس عورت کی، یہ توتہہ در تہہ مستور ہے، اسکی پرتیں ادھیڑنے سے بہتر ہے کہ اسے اور اسکے تما م روپ چھپے ہی رہنے د، اسی میں اسکا عورت پن ہے، اسی میں اسکی زندگی ہے، اسے عورت بھی شاید اسی لیے کہا گیا ہے کہ یہ ہمیشہ پوشیدہ ہی رہتی ہے، اسکا کوئی روپ نہ کوئی سمجھ پایا ہے، نہ ہی سمجھ آ سکتا ہے۔
شیخ سعدی کو پڑھ لو ، ارسطو و افلاطون کو پڑھ لو ، ایسا لگتا ہے کہ سب کہ سب عورت سے نالاں نظر آتے ہیں، آخر عورت میں مردوں کی نسبت ایسی کیا اضافی چیز ہے کہ عورتوں کی اکثریت چالاک اور ہوشیار ہوتی ہیں اور منٹوں میں مردوں کو بےوقوف بنا دیتی ہیں۔
سائینس بھی اس ٹوہ میں لگی رہی ، آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ عورت کی دلکشی اصل میں اس کی ذہانت کی بنیاد ہے۔
امریکہ اور برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق دلکش چہرے والی عورتیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ چالاک ہوتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ نتائج اس مقولے کو غلط ثابت کرتے ہیں کہ سنہرے بالوں والی خواتین زیادہ ذہین نہیں ہوتیں۔ برطانوی اخبار میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق دلکش اور خوبصورت خدوخال اور جسمانی ہیت والی خواتین نسبتاً زیادہ ذہین ، چالاک اور ہوشیار ہوتی ہیں۔لندن سکول آف اکنامکس میں منعقدہ اس تحقیق کے مطابق خوبصورت جوڑوں کے ہاں جنم لینے والے بچے جسمانی خوبصورتی کے علاوہ ورثے میں بہتر ذہانت بھی حاصل کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جسمانی سطح پر دلکشی کا براہ راست تعلق عمومی ذہانت سے ہے۔
شاید یہ بات شاعر پہلے سے جانتا تھا جو اس نے کہا
خدا جب حسن دیتا ہے تو نزاکت آ ہی جاتی ہے
قدم چن چن کر رکھتی ہو کمر بل کھا ہی جاتی ہے
عورت سے نالاں نظر آنے والے مردوں کو شاید دلکش عورتوں سے ہی پالاں پڑا ہوگا ، مگر دنیا میں ایسی عورتوں کی کوئی کمی نہیںجو اگر کسی فقیر اور بے مایہ شخص کے گھر آ جائے تو وہ اس گھر کو آسائش و فضیلت اور خوش نصیبی کی جگہ بنا دیتی ہے، ایک دانشور کا کہنا ہے کہ عورت ایک عجیب و غریب طاقت کی مالک ہوتی ہے وہ قضا و قدر کی مانند ہے۔ وہ جو چاہے وہی بن سکتی ہے اور دوسرے کو بنا سکتی ہے، اگر یہ وفا کی پتلی بن جائے تو اپنا سب کچھ کسی ایک ہستی پر قربان کر سکتی ہے، اور اگر انا پر ا±تر آئے تو بڑے فتنے برپا کروا سکتی ہے، اس کی آنکھ سے بہنے والا ایک آنسو پتھر سے پتھر دل کو بھی موم کر سکتا ہے اور اس کی ایک مسکان دنیا سے بےزار شخص کو بھی زندگی سے پیار کرنا سکھا دیتی ہے، جسطرح ایک محبت کے ہزار روپ ہوتے ہیں ،اسی طرح ایک عورت کی ہزارہا ادائیں ہوتی ہیں اور ہر ادا ہی نہایت دلربا، اس کی پاکیزگی، سادگی، محبت اور وفا کے کیا کہنے، قدرت نے شاید اسے گوندھا ہی محبت اور وفا کی مٹی سے ہے، جب ہی تو اس سے وفا کی خوشبو پھوٹتی ہے، جو اسے روایات، تہذیب اور ثقافت سے اتنی مضبوطی سے باندھے رکھتی ہے کہ یہ شرمائی، لجائی، دھان پان سی لڑکی اس حصار سے باہر نکلنے کا تصور ہی نہیںکرتی۔
ایک تحقیق کے مطابق عورتوں کی سب سے اہم اور نمایاں خوبی بولنے اور سننے کی صلاحیت ہے جس کی بدولت وہ دفاتر اور گھر میں بآسانی لوگوں کو میج کرلیتی ہیں اور اسی صلاحیت کی بدولت وہ کسی بھی معاملے میں زیادہ دیر تک مشاورت کرتی ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں مرد فوری ایکشن لیتے ہیں جس سے معاملات بگڑ بھی جاتے ہیں اور کہا جاسکتا ہے کہ مرد بات چیت کی بجائے ایکشن سے کام لیتے ہیں تاہم خواتین معاملے کو بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اسی طرح ایک اور محقق کا کہنا ہے کہ عام طور پر معاشروں میں یہ تاثرپایا جاتا ہے کہ خواتین خاندان میں تعلقات کو خراب کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین خاندان میں تعلقات کو قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ قربانی دیتی ہے اور قدرت نے اسے جو فطری صلاحیتیں دی ہیں وہ ان کا استعمال کرکے تعلقات کو قائم رکھتی ہے۔ خواتین کا دماغ قدرتی طور پر حالات سے ہم آہنگ ہونے میں مردوں سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کے جسم میں موجود ہارمونز خواتین کو زیادہ حساس اور تعلقات کی ضرورت کو بہتر طور پر سمجھنے کی سمجھ بوجھ پیدا کرتے ہیں۔
اسی طرح دولت کسے عزیز نہیں لیکن اس کا سمجھداری سے استعمال زندگی کو خوشگوار بنا دیتا ہے اور یہ کام خواتین کے علاوہ کوئی کر ہی نہیں سکتا اسی لیے پیسے سے متعلق معاملات میں خواتین زیادہ محتاط اور اس کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں اور بہت کم پیسوں میں بھی گھر کا خرچ مہارت سے چلا لیتی ہیں جب کہ اکثر مالی نقصانات کے واقعات میں مرد کی جلد بازی شامل ہوتی ہے۔
خواتین میں اور بھی دیگر خوبیاں ہوتی جیسے وہ تیز یاداشت کی مالک ہوتی ہے،
:اگر آپ کو اس رائے سے اختلاف ہے تو ایک دفعہ اپنی بیوی کی سالگرہ کا دن بھول کر دکھائیں پھر دیکھیں وہ زندگی بھر اسے نہیں بھولے گی۔ خواتین جب کسی سے پہلی بار ملتی ہے تو اسے کبھی نہیں بھولتی، اسے یاد رہتا ہے کہ کون سی اداکارہ نے کس فلم میں کیسا لباس زیب تن کیا تھا۔کچھ بھی جلد سیکھ جاتی ہیں، کسی بھی کام میں زیادہ سرگرم ہوتی ہیں، اچھی ڈرائیور ہوتی ہیں، تعلیم میں مردوں سے آگے ہوتی ہیں، مضبوط مدافعتی نظام کی مالک ہوتی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s