سچی کہانیاں

ماوں کی بے غرض محبت باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے

مرد تو بچوں کو پال ہی نہیں سکتا، یہ تو عورتوں کا ہی حوصلہ ہے جو انھیں قدرت نے عطا کیا ہے کہ وہ بچوں کے باپ کے انتقال یا غیر موجودگی میں بچوں کی پرورش کرتی ہیں، وگرنہ تو مرد بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی کے چکر میں پڑ جاتے ہیں اور وجہ یہی بیان کی جاتی ہے کہ بچوں کی پرورش کیلئے شادی کر رہے ہیں.

منصور مہدی
جب میں نے مغربی میڈیا میں ایک نئی تحقیق پڑھی تو مجھے بچپن کی خالہ شبو بہت یاد آئی، گلی کے چھوٹے بڑے انھیں خالہ شبو ہی کہا کرتے تھے، ویسے ان کا اصل نام شبنم تھا، جوانی میں ہی ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا اور پانچ بچوں کی کفالت ان کے نازک کاندھوں پر آن پڑی تھی۔
خالہ شبو ایک شیر دل عورت تھی، جس نے دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کو پالنے کیلئے دن رات ایک کر دیے تھے، شوہر کے فوت کے بعد شروع میں ان کے دن بڑے کسمپرسی میں گزرے، وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی کیونکہ وہ ایک پردے دار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں،شروع شروع میں تو عزیز و اقارب نے ان کی مدد کی مگر کب تک۔ آخر ان کے گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی تو خالہ شبو نے قریبی لڑکیوں کے سکول میں آیا باجی کی حیثیت سے ملازمت اختیارکر لی، مگر اس میں گھر کا گزارا نا ممکن تھا، چنانچہ انھوں نے گھر میں کپڑے سینے شروع کر دیے، ہاتھ میں صفائی تھی جلد ہی ان کا یہ کام چل نکلا تو انھوں نے سکول کی ملازمت کو خیر باد کہہ دیا۔
اب دن رات خالہ شبو کے گھر سے سلائی مشین چلنے کی آواز آتی رہتی، ایسا لگتا جیسے خالہ نہ دن میں کام سے تھکتی ہیں اور نہ رات کو آرام کرتی ہیں، ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر انھیں کسی اچھے مقام پر پہنچا دیں۔
اگرچہ ان کی زندگی بڑی کٹھن تھی مگر جلد ہی نہ صرف محلے دار عورتوں بلکہ مردوں کیلئے ان کی زندگی قابل رشک ہو گئی، پہلے پہل تو ہمارے گھٹیا سوچ والے معاشرے نے ان پر آوازیں بھی کسی، اور انھیں طرح طرح کے طعنے بھی سنے پڑے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں مرد کے بغیر تنہا عورت کا جینا ایک عذاب سے کم نہیں، مگر انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور لوگوں کی باتوں پر توجہ نہ دی، بلکہ اپنی ہی دھن میں لگی رہی، کپڑے سیتے سیتے انھوں نے سلے سلائے کپڑے فروخت کرنے کا بھی کام شروع کردیا، مجھے یاد ہے کہ شاید خالہ شبو ہی وہ پہلی شخص تھیں کہ جنہوں نے شہر میں ریڈی میڈ ملبوسات کی بنیاد رکھی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے، ان کی محنت کا اللہ تعالی نے اجر دیا ، ان کا بڑا بیٹا جونہی بڑا ہوا انھوں نے گھر کے قریب ہی ایک دکان کرایے پر حاصل کر لی اور سلے سلائے کپڑوں کی دکان بنا لی، کچھ ہی عرصے میں ان کا کام دن دوگنا اور رات چوگنا ترقی کرتا چلا گیا، انھوں نے اپنی تینوں بیٹیوں کی بڑے دھوم کے ساتھ شادیاں کیں اور دونوں بیٹوں کو کاروبار میں لگا دیا، مزید کئی کاریگر رکھ لیے، اب وہ شہر کی دیگر دکانوں اور قریبی شہروں میں کپڑے سپلائی کرنے لگی۔
خالہ شبو مجھے اس لیے یاد آئی کہ میں نے ایک تحقیق پڑھی تھی، جس میں لکھا تھا کہ تنہا ماں میں ایثار کا جذبہ دوگنا ہو جاتا ہے، بچوں کی کفالت کا بوجھ تنہا اٹھانے والی ماو¿ں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور ایسی ماو¿ں کی بے غرض محبت باپ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے،تحقیق میں بیان کیا گیا تھا کہ اگرچہ والدین کی بے لوث محبت کسی ثبوت کی محتاج نہیں ہے لیکن ہمارے معاشرے میں عام طور پریہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ماں ایثار وقربانی کا پیکر ہے جنھیں قدرت کی طرف سے باپ کے مقابلے میں ممتا کا جذبہ عطا ہوا ہے۔
سائنسی جریدے’ پلوس ون’ میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ماں کی بے غرض محبت ہمیشہ سے مثالی رہی ہے لیکن بچوں کی کفالت کا بوجھ تنہا اٹھانے والی ماو¿ں میں ایثار اور قربانی کا جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور ایسی ماو¿ں کی بے غرض محبت باپ کے مقابلے میں سوا ہو جاتی ہے۔تحقیق میں ماہرین اقتصادیات نے اپنی تحقیق میں خاندانوں کے فیصلوں کا احاطہ کیا اور والدین کے فطری جذبہ ایثار و قربانی سے وابستہ مفروضات کو اپنے تجرباتی ماڈلز میں شامل کیا۔
تعلیم ،ملازمت، زچگی اور دیگر عوامل کے انتخاب سے مشروط نظریات کے تحت ماہرین نے یہ فرض کیا کہ مائیں فطری طور پرجذبہ ایثار وقربانی کے معاملے میں والد سے آگے ہوتی ہیں۔تاہم ماہرین نے کہا کہ ارتقائی حیاتیاتی اصولوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائیں فطری طور پر باپ کے مقابلے میں زیادہ ا یثار کرنا جانتی ہے کیونکہ انھیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ بچے ان کی ذمہ داری ہیں اورصرف ان کی ملکیت ہیں جبکہ دوسری جانب والد کی طرف سے ایسا کم ہوتا ہے۔
تجزیہ کار جاناں وائر اسٹیکوا نے کہا کہ مائیں، باپ کی نسبت زیادہ ایثار پسند ہیں۔ ان کے بقول ہمارے تجربات کے نتائج سے واضح ہوا کہ ایک ماں میں ایثار کا جذبہ اس وقت اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے جب خاندان میں فیصلہ کرنے کی ذمہ داری صرف ماں کی ہو۔ لیکن خاندان کے فیصلوں میں ساتھی یا خاوند کے ملوث ہونے سے مرد اور عورت کے درمیان ایثار وقربانی کا یہ فرق ختم ہو جاتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کی طرف سے ڈیزائن کردہ تجربات میں تنزانیہ کے چھوٹے بچوں والے خاندانوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ والدین کو چینی اور رقم یا پھر بچوں کے سینڈل کی جوڑی کے درمیان کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا۔ یہ تجربہ ایک ایسے علاقے میں کیا گیا جہاں بچے اسکول یا کام پر جانے کے لیے ننگے پاو¿ں یا پھٹے ہوئے جوتے پہن کر طویل راستہ طے کرتے تھے۔
ماہرین نے اس تجربے کے لیے والدین سے کہا کہ وہ اپنے ساتھی کے بغیر تنہا ماں یا باپ کی حیثیت سے ان انعامات میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کریں اسی لیے جب انعامات منتخب کر لیے گئے تو شرکا والدین نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھی نے کس چیز کا انتخاب کیا ہے۔
دوسرے تجربے کے دوران والدین نے ایک ساتھ مل کر انعام منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔
تنہا والدین کی صورت میں ماو¿ں نے والد کے مقابلے میں سینڈل کی جوڑی کا انتخاب کیا لیکن یہ فرق اس وقت نظر نہیں آیا جب دونوں نے مل کر ایک ساتھ کسی چیز کا انتخاب کیا۔ تاہم مردوں کی سینڈل منتحب کرنے والی تعداد دونوں تجربات میں ایک جیسی رہی۔
محقق وائر اسٹیکوا نے کہا کہ ہم نے پہلی بار ایثار وقربانی کے روایتی اصولوں اور سماجی سیاق وسباق کے اثر و رسوخ اور اقتصادی فیصلہ کرنے کے عمل کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی نشاندھی کی ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری تحقیق کے نتائج کی وجوہات پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
واقعی خالہ شبونے ایسا کر کے دکھایا تھا۔ صرف خالہ شبو ہی نہیں اگر معاشرے میں اپنے گرد نظر دوڑائی جائے تو ہمیں کئی ایسی خواتین نظر آتی ہیں کہ جنہوں نے شوہر کی غیر موجودگی میں مرد بن کر اپنے بچوں کو پالا۔
اگرچہ میرا یہ فقرہ بھی درست نہیں کہ مرد بن کر بچوں کا پالا، کیونکہ مرد تو بچوں کو پال ہی نہیں سکتا، یہ تو عورتوں کا ہی حوصلہ ہے جو انھیں قدرت نے عطا کیا ہے کہ وہ بچوں کے باپ کے انتقال یا غیر موجودگی میں بچوں کی پرورش کرتی ہیں، وگرنہ تو مرد بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی کے چکر میں پڑ جاتے ہیں اور وجہ یہی بیان کی جاتی ہے کہ بچوں کی پرورش کیلئے شادی کر رہا ہوں۔
چونکہ ہم مردوں کے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں مرد ہمیشہ عورت سے زیادہ طاقت اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، لہذا فقرے میں یہ لکھ کر کہ خالہ شبو نے مرد بن کر بچوں کا پالا، ایک طرح سے ایسی خواتین کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s