الیکشن / الیکشن کہانی

الیکشن 2018اورآرٹیکل 62 ، 63 ( حصہ اول )


یہ ایک آئینہ ہے اسے توڑنے کے بجائے اپنے چہرے کو صاف کیا جائے

منصور مہدی
االیکشن 2018کا سال شروع ہوتے ہی ہر شہری کے ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آخر ہمارے ہاں جمہوری نظام کیوںکامیاب نہیں ہو رہا، اشرافیہ کیلئے تو سب نظام ہی اچھے ہوتے ہیں کیونکہ آمریت ہو یا جمہوریت ان کے ہر کام ہوتے ہیں مگر عوام کی سننے والاکوئی نہیں ہوتا، جمہوریت کے حوالے سے ہمارے سیاستدان اسے جمہور کیلئے ضروری قرار دیتے ہیں مگر عوامی مسائل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔

اگر ہمارے ہاں رائض جمہوریت کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس نظام میں تو کوئی خامی نہیں تاہم اسے نافذکرنے والے افراد خامیوں کا مجموعہ ہوتے ہیں، اگر ان افراد کو ہٹا کر کوئی مخلص افراد لگا دیے جائیں تو اسی نظام سے عوامی مسائل باآسانی حل ہو سکتے ہیں اور ملک ایک فلاحی ریاست بن سکتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں موجود سیاسی پارٹیاں جمہوریت جمہوریت کا الاپ تو الاپتی رہتی ہیں مگر اس پر عمل خود بھی نہیں کرتی، ماضی کو اگر دیکھا جائے توما سوائے پاکستان تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور اکا دکا دیگرجماعتوں کے کبھی کسی نے اپنی پارٹی میں الیکشن نہیں کروائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے تو ابھی حال ہی میں پارٹی الیکشن ہوئے ہیں ، تحریک انصاف کے یہ پہلے پارٹی الیکشن ہیں، اس سے قبل اس میں بھی عہدوں کے لئے نامزدگی ہوتی تھی ، جبکہ دیگر سیا سی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود اپنی سابقہ روش کو برقرار رکھا اور پارٹی اجلاس بلا کر تمام پارٹی عہدیداروں کوبلامقابلہ منتخب کرا کے پارٹی الیکشن کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوا دی۔

سیاسی پارٹیوں میں اسی آمریت کی وجہ سے سیاستدان پارٹی ٹکٹ اپنے من پسند افراد کو دیتے ہیں، وہ چاہے اچھے ہوں یا جیسے بھی ہوں، بعض افراد پارٹی کو بھاری نذرانہ پیش کر کے ٹکٹ حاصل کر لیتے ہیں، کروڑوں روپے الیکشن پر لگانے والے یہ پروفیشنل سیاستدان ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ کم اور اپنی خدمت میںزیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، یوں جمہوریت کا نظام اپنا اصل رزلٹ دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔

جب انتخابات قریب آتے ہیں اور امیدوار اپنےکا غذات نامزدگی جمع کرواتے ہیں،تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، کہ وہ ان تمام امیدواروں میں سے ایسے اہل افراد کا چناﺅ کرے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد جمہوریت کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو نہ کہ اسکی ناکامی کا سبب بنے۔

قانون بنانے والوں نے اس مقصد کیلئے پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 شامل کی تھیں کہ امیدواروں کے چناﺅ کے وقت اس قانون پر عمل کیا جائے تاکہ اہل امیدوار سامنے آئیں، مگر ہمارے ملک میں دیگر لاقانونی رویوں اور آمری سوچوں کے زیر اثر آئین کی ان شقوں پر بھی عمل نہ ہو سکا۔

مگر اب سابق وزیر اعظم نواز شریف کے نا اہل ہونے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اس بار آئین کے آرٹیکل 62اور 63پر یقینی طور پر عمل ہو گا، اور اگر ایسا ہو گیا تو موجودہ سیاستدانوں میں سے اکثریت آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے نا اہل ہو جائے گی۔

آئین کے آرٹیکل 62اور 63میں کیا درج ہے کہ جس پر عمل کرنے سے ایک صاف ستھری پارلیمنٹ تشکیل دی جا سکتی ہے، آئیے ملاحظہ فرمائیں۔

آرٹیکل :62
اس آڑٹیکل میں پارلیمنٹ ( قومی و صوبائی اسمبلیاں ، سینٹ اور بلدیاتی الیکشن کے ممبران) کی اہلیت کے حوالے سے شراط واضع کی گئیں ہے۔
(1 ) کوئی شخص اہل نہیں ہو گا، رکن منتخب ہونے یا چنے جانے کا،بطور ممبر مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کے،ماسوائے یہ کہ:
(الف) وہ پاکستان کا شہری ہو۔
(ب) وہ قومی اسمبلی کی صورت میں پچیس سال سے کم عمر کانہ ہو اور بطور ووٹر اس کے نام کا اندراج کسی بھی انتخابی فہرست میں موجود ہو جو پاکستان کے کسی حصے میں جنرل سیٹ یا غیر مسلم سیٹ کے لئے ہو، اور صوبے کے کسی حصے میں اگر عور ت کی مخصوص سیٹ ہو تو اس کے لئے۔
(ج) وہ سینیٹ کی صورت میں تیس سال سے کم عمر کا نہ ہو اور صوبے کے کسی ایریا میں اس کا نام بطور ووٹر درج ہو، یا جیسی بھی صورت ہو، فیڈرل کیپیٹل یا فاٹا میں جہاں سے وہ ممبر شپ حاصل کر رہا ہو۔
(د) وہ اچھے کردار کا حامل ہو اور عام طور پر احکام اسلامی سے انحراف میں مشہور نہ ہو۔
(ہ) وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو ، اور اسلام کے منشور کردہ فرائض کا پابند ہو ، نیز کبیرہ گناہ سے اجتناب کرتا ہو۔
(و) وہ سمجھدار ہو ، پارسا ہو،ایماندار اور امین ہو،اور کسی عدالت کا فیصلہ اس کے برعکس نہ ہو۔
(ز) اس نے پاکستان بننے کے بعد ملک کی سالمیت کے خلاف کام نہ کیا ہو اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔
(2) نا اہلیت مندرجہ پیرا گراف (د) اور (ہ) کا کسی ایسے شخص پر اطلاق نہ ہو گا، جو نان مسلم ہو لیکن ایسا شخص اچھی شہرت کا حامل ہو۔

آرٹیکل 63:
اس آڑٹیکل میں پارلیمنٹ ( قومی و صوبائی اسمبلیاں ، سینٹ اور بلدیاتی الیکشن کے ممبران) کی نا اہلیت کے حوالے سے شراط واضع کی گئیں ہے۔
(1) کوئی شخص مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر منتخب ہونے یا چنے جانے اور رکن رہنے کیلئے نا اہل ہو گا، اگر
(الف) وہ فاتر العقل ہو اور کسی مجاز عدالت کی طرف سے ایسا قرار دیا گیا ہو ، یا
(ب) وہ غیر بریت یا فتہ دیوالیہ ہو یا
(ج) وہ پاکستان کا شہری نہ رہے ، یا کسی بیرونی ریاست کی شہریت حاصل کرے، یا
(د) وہ پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو ماسوائے ایسے عہدے کے جسے قانون کے ذریعے ایسا عہدہ قرار دیا گیا ہو، جس پر فائز شخص نا اہل نہیں ہوتا ، یا
(ہ) اگر وہ کسی ایسی آئینی باڈی یا کسی باڈی کی ملازمت میں ہو ، جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیر نگرانی ہو ، یا جس میں حکومت کنٹرولنگ حصہ یا مفاد رکھتی ہو، یا
(و) پاکستان کا شہری ہوتے ہوئے بھی زیر دفعہ 14B شہریت پاکستان ایکٹ 1951ئ کے وہ وقتی طور پر نا اہل ہو جائے ، آزاد اور جموں کشمیر کے رائج الوقت قانون کے تحت لیجسلیٹو اسمبلی آزاد جموں اور کشمیر کا ممبر منتخب ہو سکتا ہو ۔۔۔۔۔ جاری ہے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s