الیکشن / سیاسی جماعتوں کا منشور

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے منشور پر کتنا عمل کیا؟


2013میں پیش کردہ منشور

منصور مہدی

پاکستان تحریک انصاف نے 2013کے انتخابات کے وقت جو منشور پیش کیا تھا اس کے مطابق پارٹی نے عوام سے وعہدہ کیا تھا کہ اسکی کراچی سمیت ملک بھر کو اسلحے سے پاک اور انصاف کی فراہمی بنیادی ترجیح ہوگی جبکہ امیر و غریب کا فرق بھی ختم کر دیا جائے گا۔ نیا پاکستان کسی دوسرے ملک کی جنگ نہیں لڑے گا۔ انسداد دہشتگردی کے قوانین میں بھی تبدیلی لائی جائے گی اور دفاعی بجٹ پر پارلیمنٹ میں بھی بحث کی جائے گی۔ دو سے تین سال میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا جبکہ عوام کو با اختیار بنایا جائے گا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج تک جمہوریت نہیں آئی اور تحریک انصاف قوم کو غلامی سے نجات دلائے گی۔ انہوں نے نوے دن میں بلدیاتی انتخابات کرائے جانے کا وعہدہ کیا تھا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو ملک میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ انہوں نے اب تک جو کچھ کہا کرکے دکھایا۔ اس سلسلے میں انہوں نے پارٹی میں انتخابات، نوجوانوں کو ٹکٹ دینے، ہسپتال اور یونیورسٹی بنانے کی مثالیں دی تھیں۔ انھوں نے کہا تھا ایک جماعت نے کم از کم اجرت پندرہ ہزار کرنے کا اعلان کیا تو دوسری نے اٹھارہ ہزار کرنے کا وعدہ کرلیا، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ایسا کوئی وعدہ نہیں کرے گی جو پورا نہ کرسکے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جو اپنے منشور پر عملی طور پر کاربند ہے۔تحریک انصاف کا دیگر سیاسی جماعتوں سے موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔ روایتی سیاسی جماعتیں گزشتہ 70 سالوں میں اس قوم کے غریب بچوں کو سکولوں میں تعلیم اور ہسپتالوں میں علاج تک مہیا نہ کر سکیں۔ انہوں نے ہر ادارے اور ہر محکمے پر سیاست کی۔

انگریز وں کے دیئے گئے طبقاتی نظام پر مجرنامہ خاموشی اختیار کئے رکھی کیونکہ اسی ظالم نظام سے مفاد پرست سیاستدانوں کے مفادات وابستہ تھے۔پاکستان تحریک انصاف نے ملکی تاریخ میں پہلی بار قوم کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے خیبرپختونخوا میں نظام کی تبدیلی کی ٹھوس بنیادیں رکھ دی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں میرٹ ، قانون کی بالادستی اور ایک شفاف نظام حکومت ہے جو نئے پاکستان کی طرف عملی قدم ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں نظام کی تبدیلی اتنی ناگزیر ہوچکی ہے کہ اس سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں تبدیلی کے جس عمل کا آغاز کیا ہے اس کو پورے پاکستان میں لے جانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے ، حقدار کو اس کا حق دینے اور میرٹ کی بالادستی کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صرف تین سالوں میں جو اقدامات کئے ہیں وہ دیگر جماعتیں دہائیوں پر محیط اپنے سیاسی کیرئیر میں نہ کر سکیں کیونکہ ا±ن کے پاس نہ سوچ تھی اور نہ ہی ویژن۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ د±نیا میں ترقی کے پیچھے ایک ہی راز پوشیدہ ہے اور وہ ہے نظام کی شفافیت اور اداروں کی مضبوطی، جب تک ہم اپنے نظام کو ٹھیک کرکے اداروں کو بااختیار اور مضبوط نہیں بنائیں گے تو پاکستان سو سال میں بھی ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے صوبائی حکومت کی تعلیمی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں شعبہ تعلیم کی بہتری کی وجہ سے عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو چکا ہے۔ 35 ہزار بچوں کے والدین اپنے بچوں کو پرائیوٹ سکولوں سے سرکاری سکولوں میں منتقل کر چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو ہسپتالوں کی حالت بھی ابتر تھی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یہاں سکول ا±ستاد کیلئے ، تھانہ پولیس کیلئے اور ہسپتال ڈاکٹروں کیلئے بنائے گئے غریب عوام کی تو کسی نے فکر ہی نہیں کی۔ موجودہ صوبائی حکومت نے محکمہ صحت کا قبلہ درست کیا اور خصوصی طور پر غریب اور مستحق عوام کیلئے صحت انصاف کارڈ کا اجراءکیا جس سے 18 لاکھ خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ غیر شرعی جہیز کے خلاف قانون لارہے ہیں ، سکولوں میں پانچویں کلاس تک ناظرہ قرآن جبکہ چھٹی سے بارہویں تک قرآن باترجمعہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ملایشین حکومت کے تعاون سے غازی میں حلال فوڈ انڈسٹری قائم کر رہے ہیں جہاں روزمرہ استعمال کی چیزوں میں حلال وحرام کی تفریق بھی کی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے غریب عوام کی فلاح اور ا±سے سہولیات کی فراہمی کیلئے ریکارڈ قانون سازی کی ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن، رائٹ ٹو سروسز اور وصل بلور جیسے اہم قوانین سمیت سو سے زائد قوانین پاس کئے ہیں ۔

بیروزگاری کے خاتمے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ا±ن کی حکومت اس مقصد کیلئے وسیع پیمانے پر صنعتوں کے قیام کی منصوبہ بندی کر چکی ہے۔صوبہ بھر میں موجود بیمار صنعتوں کی بحالی سمیت نئی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ نئے کارخانوں کیلئے این او سی کی شرط ختم کی گئی ہے اور صنعتکار وں کو پرکشش مراعات دی گئی ہیں۔ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری کیلئے دیگر تمام صوبوں سے زیادہ فیزیبل بن چکا ہے۔ رشکئی میں 40 ہزار کنال اراضی پر صنعتی بستی کے قیام کیلئے ایم او یو ہو چکا ہے اور چین نے صنعتوں کی منتقلی کیلئے دلچسپی ظاہر کی ہے۔

بیجنگ روڈ شو کے تناظر میں روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت جاری ہے۔ 82 منصوبوں پر ایم او یوز ہوئے ہیں جن کو گراو¿نڈ پرلانے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کا مستقبل بڑا تابناک ہے۔ کیونکہ سی پیک کی وجہ سے یہ صوبہ افغانستان ، واخان ، وسطی ایشیاءسمیت پورے خطے کیلئے تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s