الیکشن / بار بار جیتنے والے سیاستدان

اکرم خان درانی


بار بار جیتنے والے سیاستدان

سابقہ وزیراعلی صوبہ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی کا سیاسی تعلق جمعیت علماءاسلام فضل الرحمن گروپ سے ہے۔ یہ 1960 میں پیدا ہوئے۔ان کا تعلق جنوبی ضلع بنوں کے علاقے سورانی میوا خیل کے ایک متوسط خاندان سے ہے۔اکرم درانی اپنے والدین کی واحد اولاد ہیں۔ انکے والد ا±س وقت فوت ہوئے جب اکرم درانی دو برس کے تھے۔اکرم درانی نے اپنی ابتدائی تعلیم سورانی میں سکندر خیل پرائمری سکول سے حاصل کی۔

گریجویشن انہوں نے نوشہرہ سے کیا اور وکالت کراچی سے کی۔ واپس بنوں آکر خاندانی کام یعنی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ان کا خاندان سیاست میں پچھلی کئی پشتوں سے فعال ہے۔ انہوں نے خود سیاست کا آغاز پشتون قوم پرست طلبہ تنظیم پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا تھا لیکن بعد میں اسلامی جماعتوں کی جانب راغب ہوئے۔

تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والے اکرم درانی جمعیت کے پرانے رہنماو¿ں میں سے ایک ہیں۔ وہ 1988 میں جمعیت میں شامل ہوئے اور اس وقت سے اس کے ساتھ رہے ہیں۔

وہ 1997 میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اور جنگلات بھی رہے ہیں۔

اپنے صوبائی دور حکومت میں انہوں حسبہ بل جیسا متنازع بل اسمبلی میں پیش کیا جو ابھی تک متنازع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے میں ان کی حکومت نے بہت زیادہ کام کیا۔ اور بہت سے کالجز اور سکول قائم کئے۔ اپنے آبائی ضلع بنوں کے لیے انہوں نے ریکارڈ کام کیے۔ جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ان کے بیٹے زیاد اکرم درانی قومی اسمبلی کے رکن رہے جب کہ ان کے چچا زاد اعظم خان درانی بنوں کے ضلعی ناظم ہیں۔

ستمبر 2007ءمیں اے پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کر دیا جائے۔ تاکہ پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات کو متنازع بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے وزیر اعلیٰ کو 2 اکتوبر کو گورنر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دینا تھا۔ لیکن اس سے پہلے اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ ق نے تحریک عدم اعتماد پیش کردی جس کی وجہ صدارتی انتخابات سے پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا جاسکا۔ اس کے بعد ایم ایم اے کی اتحادی پارٹی جماعت اسلامی نے صدارتی انتخاب سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔

وزیراعلیٰ عدم اعتماد کا سامنا کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان استعفوں کے بعد ان کی اکثریت برقرار نہ رہ سکی۔ اس بنا پر جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔ اور آخر کار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مجبوراً گورنر کو اسمبلی کی تحلیل کی سفارش کرنا پڑی۔

گورنر نے 10 اکتوبر 2007ءکو خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرکے شمس الملک کو نگران وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا۔ اس پورے کھیل میں جمعیت علما کا کردار کافی متنازع رہا اور اسے کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اور سیاسی حلقوں نے یہ الزام لگایا کہ صدر اور جمعیت کے درمیان پہلے سے ساز باز ہو چکی تھی اس لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کو بروقت تحلیل نہ کیا جاسکا۔

2008ء میں ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اس لیے پیلپز پارٹی اور عوامی نیشنل پارتی کی مخلوط حکومت میں ان کو اپوزیشن کی پینچوں پر بیٹھنا پڑا۔ ان کو اپوزیشن پارٹیوں نے متفقہ طور پر قائد حزب اختلاف مقرر کیا۔
2013کے انتخابات میں اکرم خان درانی جمیعت علما اسلام ف کے ٹکٹ پر 78294ووٹ لیکر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s