الیکشن / الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں

متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم )

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں

متحدہ قومی موومنٹ جسے ماضی میں مہاجر قومی موومنٹ کہا جاتا تھا کی بنیاد کراچی میں سنہ 1978 میں ایک طالبعلم رہنما الطاف حسین نے رکھی۔اس کے قیام کا ایک اہم مقصد جامعہ کراچی میں زیر تعلیم اردو بولنے والے طالب علموں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ بعد ازاں اس تنظیم نے اپنے دائرے کو وسعت دے کر اسے صوبہ سندھ کی سیاسی جماعت کا درجہ دے دیا۔

1997ءمیں اس جماعت نے خود کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اپنا نام سرکاری طور پر مہاجر قومی موومنٹ سے بدل کر متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا اور اپنے دروازے دوسری زبانیں بولنے والوں کے لیے بھی کھول دیے۔

پرویز مشرف کے دور میں اس جماعت نے اپنا طریقہ کار تبدیل کرنے کی کوشش کی، حکومت میں شامل ہوئی، اور اپنے آپ کو ملک گیر جماعت کے بطور متعارف کرانے کی طرف مائل ہوئی۔ مگر تشدد کی سیاست سے پیچھا نہ چھڑا سکی۔

ماضی کی حکومتوں نے ایم کیو ایم کے خلاف کئی بار مختلف سطحوں پر کریک ڈاو¿ن بھی کیے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ اس کے سینکڑوں کارکن ماضی کی حکومتی کارروائیوں کا نشانہ بنے جن میں سے کئی ایک کو تشدد کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا۔

سیاسی دھارے میں آنے کے بعد ایم کیو ایم نے اپنی توجہ کا مرکز سندھ میں اردو بولنے والے طبقوں کو بنایا۔ چونکہ کراچی اور سندھ کے کئی دوسرے بڑے شہروں میں اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اس لیے ایم کیو ایم نے وہاں کی بلدیاتی ،صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر نمایاں کامیابی حاصل کرنی شروع کردی۔ گذشتہ کئی برسوں سے کراچی ، حیدر آباد ، میر پور خاص ، شکار پور اور سکھر کو ایم کیو ایم کے گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں میں ایک بڑی سیاسی قوت رکھنے کے ساتھ اب یہ جماعت سندھ کی صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بھی اپنا اثر رسوخ رکھتی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ بننے کے بعد اس جماعت نے دوسرے لسانی گروہوں اور طبقوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے منشور میں ایسے پہلوو¿ں کو شامل کیا ہے جن کا تعلق نچلے اور درمیانے طبقے سے ہے۔ سندھ میں اس جماعت کو رفتہ رفتہ دوسری زبانیں بولنے والوں کی بھی حمایت حاصل ہورہی ہے۔

لیکن حال ہی میں ایم کیو ایم کے سابق رہنما سید کمال مصطفی نے پاک سرزمین پارٹی کے نام سے ایک علیحدہ جماعت بنا لی، جس میں ایم کیو ایم کے متعدد رہنما اور کارکن شامل ہو چکے ہیں، جبکہ آجکل بھی ایم کیو ایم کے کنوینئر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے اراکین جس کی قیادت عامر خان کر رہے ہیں چپقلش کا شکار ہیں، یہ اختلافات سینٹ کے الیکشن کیلئے نامزدگی کے معاملہ پر ہیں، ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق دونوں گروپوں نے اپنی اپنی طرف سے علیحدہ نامزدگیاں کی ہیں۔ کیا ان دونوں گروپوں میں صلح ہو پائے گی یا پھر ایم کیو ایم مزید تقسیم ہو جائے گی؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s