الیکشن / سیاسی جماعتوں کا منشور

2013میں جماعت اسلامی کا پیش کردہ منشور؟

جماعت اسلامی کا منشور اسلامی ،نظریاتی، عوامی اور انقلابی منشور ہے۔ عوام کے لیے امید اور نظام کی تبدیلی کا پیغام ہے۔ جماعت اسلامی کے امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی ترازو کے انتخابی نشان پر انتخاب میں حصہ لیں گے۔ ترازو عدل، قانون سب کے لیے برابر اور قومی وسائل کی منصفانہ عادلانہ تقسیم کی علامت ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان ملک کی سب سے بڑی اور پرانی نظریاتی اسلامی احیائی تحریک ہے جس کا آغاز بیسویں صدی کے اسلامی مفکر سید ابوالاعلی مودودی، جو عصر حاضر میں اسلام کے احیاءکی جدوجہد کے مرکزی کردار مانے جاتے ہیں۔
جماعت اسلامی کا اپنے منشور میں کہنا ہے کہ عوام کو اسلامی عقائد، عبادات اوراخلاق کی تعلیم کے لیے ممکنہ ذرائع و وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ نظام صلوٰة و زکوٰة عشر و خمس کے قیام کے لیے موثر تدابیر اختیار کی جائیں گی۔ احترام رمضان کے قوانین کو پوری طرح نافذ کیا جائے گا۔

مسجد کے لیے بجلی، پانی اور گیس کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔خطباءاورآئمہ کی تربیت کرکے معاشرتی اصلاح و تطہیر کے لیے ان سے کام لیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے اوربحال رکھنے کے لیے ایک مستقل ادارہ قائم کیا جائے گا اورکسی بھی فرد یا مسلک کی تحریری و تقریری دلآزاری کو روکا جائے گا۔

ذرائع ابلاغ کو مخربِ اخلاق پروگراموں اورتشہیر سے روکا جائے گااورسب سے ضابطہ اخلاق کی پاسداری لازمی کروائی جائے گی۔ معاشرے میں سادگی کو رواج دیا جائے گا۔ حکومتی افراد اورسرکاری افسروں میں اسراف کی بجائے سادگی کو فروغ دیا جائے گا اوروسیع و عریض رہائش گاہوں، مہنگی گاڑیوں اور مسرفانہ اخراجات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

شادی بیاہ اوردیگر تقریبات میں اسراف و نمائش دولت پر پابندی عائد کی جائے گی، جہیز پر پابندی کے موثر قوانین نافذ کئے جائیں گے اورشادی کے لیے ضرورت کے مطابق قرضہ جات اورامداد کی جائے گی۔

آئینی اصلاحات کے حوالہ سے جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ قرآن و سنت کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے آرٹیکل 2میں ترمیم کی جائے گی، دستور توڑنے، معطل کرنے یا اس عمل میں مدد دینے والے افراد اوراداروں کے خلاف یقینی عملی قانونی کاروائی کے لیے ہر شہری کو مدعی بننے کاحق دینے کے لیے آرٹیکل 6میں ترمیم کی جائے گی۔ پارٹی کے اندر انتخابات لازمی کرانے کے لیے دستور اورمتعلقہ قوانین میں ترامیم کی جائے گی۔ آئین پاکستان اوراس کی اسلامی شناخت و حیثیت کے خلاف کام کرنے والی جماعت پر پابندی کے لیے آرٹیکل 17میں ترمیم کی جائے گی۔

آرٹیکل 45میں ترمیم کرکے صدر پاکستان کے معافی دینے کے اختیار کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے تابع کیا جائے گا۔ آرٹیکل 63-62اور113کے موثر اطلاق کے لیے جامع قانون سازی کی جائے گی۔

مالیاتی بل (بجٹ) کے دونوں ایوانوں میں پیش ہونے اورپاس ہونے نیز عسکری اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اداروں کے بجٹ کوایوانوں میں لازماً زیر بحث لانے اوراس میں ترمیم و اضافہ کرنے کے لیے آرٹیکل 73،80،81،85اور121میں ترامیم کی جائیں گی۔ ٹیکس کا اطلاق صرف متعلقہ اسمبلی کی منظوری سے ہوگا۔ اس امر کے لیے اضافی مطالبات زر کے نظام کا مکمل خاتمہ ضروری ہے جس کے لیے آرٹیکل 77میں ترمیم کی جائےگی۔آئین میں ترمیم کرکے اسلامی نظریاتی کونسل کی تمام سفارشات پر ایک مقررہ مدت میں قانون سازی کرنے یا مدت گزرنے کے بعد خودبخود قانون بن جانے کو یقینی بنایا جائے گا۔

قبائلی علاقہ جات کو دستور اور قانون کے دائرہ سے باہررکھنے کے موجودہ نظام کو ختم کرکے عمومی نظام کا حصہ بنایا جائے گاآرٹیکل 246اور247ب میں ضروری ترامیم کی جائیں گی۔اس سلسلے میں بطور رہنما اصول مند رجہ ذیل کا خیال رکھا جائے گا۔ صوبہ خیبر پختونخواہ سے ملحق فاٹا کے علاقوں کو آرٹیکل (c) 246کے تحت ریفرنڈم کے ذریعہ وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق علیحدہ صوبہ یا صوبہ خیبر پختونخواہ کا حصہ بنایا جائے گا۔

جماعت اسلامی کی حکومت صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ لیبر پالیسی کی نئی تشکیل کرے گی۔ صنعتی اداروں کے منافع میں مزدوروں کو مناسب حصہ دیا جائے گا۔ مزدوروں اور کارکنوں کی اجرتیں اور معاوضے منصفانہ اور مناسب ہوں گے اور انڈیکیشن کے اصول کے تحت ہر سال افراطِ زر اور قیمتوں کے مطابق اجرتوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔ منافع بخش صنعتوں اور حساس مالی و صنعتی اداروں کی نج کاری سے گریز کیا جائے ، اور جن اداروں کی نج کاری نامناسب شرائط یا انتہائی کم قیمت پر ہوئی ہے ان پر نظر ثانی کی جائے گی۔ نیز نجکاری اس انداز میں کی جائے گی جس سے اجارہ داری اور استحصال نہ ہو۔

نجکاری میں متعلقہ ادارہ کے کارکنوں کو ہرحال میں ترجیح دی جائے گی اور ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ نج کاری کی آمدنی قرضوں کی ادائیگی اور تعلیم و صحت عامہ سے متعلق فلاحی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ آجر اور اجیر کے بہتر تعلقات اور اصلاح کار کے لئے انجمن سازی اور یونین کی اجازت دی جائے گی۔ بجٹ سازی ، نج کاری اور دیگر معاملات کے لئے ٹریڈ یونین رہنماﺅں سے مشاورت ضروری قرار دی جائے گی۔ افرادی قوت کے بہترین استعمال کے لئے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کا نظام رائج کیا جائے گا۔

لیبر عدالتوں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا۔ مزدوروں کو رہائشی اور علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ان کے بچوں کی مفت تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔ بعد از ملازمت ، مزدور کی پنشن کا نظام نافذ کیا جائے گا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s