الیکشن / بار بار جیتنے والے سیاستدان

چودھری پرویز الٰہی


بار بار جیتنے والے سیاستدان

1983سے مسلسل کسی نہ کسی سیاسی عہدے پر براجمان ہیں

چودھری پرویز الٰہی 1 نومبر 1945گجرات کے معروف صنعتکار چوہدری منظور الہی کے گھر پیدا ہوئے، انھوں نے فارمین کرسچین کالج لاہور سے 1967کوبی اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لندن کے وٹفورڈ کالج آف ٹیکنالوجی سے انڈسٹریل مینجمنٹ میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔

یہ پاکستان کے پہلے نائب وزیراعظم رہ چکے ہیںجبکہ پنجاب کے 2002سے 2007تک وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں۔ وہ پاکستان مسلم لیگ ق کے اہم رہنما اور صوبائی صدر بھی ہیں۔

انھوں نے سیاست کی ابتدا مقامی سیاست سے شروع کی اور 1983میں پہلی بار ضلع گجرات کے چیئرمین منتخب ہوئے اور چار سال تک اس عہدہ پر براجمان رہے۔ 1985میں پنجاب اسمبلی ممبر منتخب ہوئے اور لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے وزیر بھی رہے، ان کی اس وزارت کا دورانیہ 8سال تک رہا، کیونکہ اگلے الیکشن 1988میں ہوئے، تب بھی پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ۔ 1990کے انتخابات میں بھی ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔ 1993کے انتخابات میں پھر ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہو ئے۔

1993سے 1996تک پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے۔ 1997کے انتخابات میں چوہدری پرویز الہی پھر ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہو ئے اور سپیکر پنجاب اسمبلی مقرر ہوئے۔

1999میں جب پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو اس کے بعد پرویز الہی نے مسلم لیگ ن کو چھوڑ دیا اور اپنے کزن چوہدری شجاعت الہی کیساتھ مل کر پاکستان مسلم لیگ ق کے نام سے پارٹی تشکیل دی۔

2002کے انتخابات میں چھٹی بار پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے، اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے اور پانچ سال تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 2008کے انتخابات میں پرویز الہی ساتویں بار ممبر پنجاب اسمبلی اور پہلی بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ پنجاب اسمبلی کی نشست چھوڑنے کے بعد وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر ہوئے، تاہم بعد میں انھوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں یہ وفاقی صنعت اور دفاعی پیداوار مقرر ہوئے۔ 2011میں پاکستان میں پہلی بار نائب وزیر اعظم کا عہدہ تخلیق کیا گیا اور یہ اس پر فائز ہوئے۔ 2013کے انتخابات میں پھر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

چوہدری پرویز الہی جب وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر ہوئے تو انھوں نے چند ایک ایسے کام کیے کہ جو آج بھی یادگار ہیں، ان میں ایک 1122 کی سروس شروع کر کے انھوںنے دکھی انسانیت کی وہ خدمت کی جس کی کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ لاہور کے ہسپتالوں کو اگر دیکھا جائے تو جنرل ہسپتال، سروس ہسپتال، گنگا رام ہسپتال، جناح ہسپتال اور میو ہسپتال کی ایمرجنسیوںکو نئے سرے سے تعمیر کیا، ان میں ادویہ مفت ملتی تھیں، ہسپتالوں کے ایڈمنسٹریٹر لاﺅڈ سپیکر پر اعلان کرتے تھے کہ کسی کو دوائی باہر سے خریدنے پر مجبور کیا گیا ہو تو وہ پیسے واپس وصول کر لے۔تعلیم کے میدان میں تو جھنڈے ہی گاڑ دیئے۔ سرکاری سکولوں میں بچوں کو مفت کتابیں اور فیس معاف کر دی گئی تھی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s