الیکشن / سیاسی جماعتوں کا منشور

2013میں پیش کر دہ جمعیت علماء اسلام ( ف ) کا منشور


منصور مہدی
جمعیت علماءاسلام کے نزدیک پاکستان کے قیام کا مقصد برصغیر کے مسلمان عوام کو برطانوی دور کے غیر اسلامی اور ظالمانہ نظام وقوانین سے نجات دلا کر اسلامی نظریا ت ، اسلامی اخوت اور اسلامی مساوات پر مبنی نظام حکومت قائم کرنا اور اسلامی معاشرہ تعمیر کرنا تھا، چنانچہ اس کے لئے ضروری تھا کہ پاکستان کانظام حکومت خالص شریعت اسلامیہ کے احکام پر قائم کیا جائے اور اس کی زمام کار پاکستان کے مسلمان عوام معتمد ، منتخب اور اہل ترین افراد کے ہاتھ میں ہو، تاکہ پاکستان دنیا میں ایک مثالی اسلامی مملکت بن سکے۔

اس مقصد کے حصول کےلئے کل پاکستان جمعیت علماءاسلام کے منتخب اراکان مجلس عمومی مورخہ 14 رجب 1389ھ بمطابق 27 ستمبر 1969 بمقام سرگودھا جمع ہوئے اور پاکستان کو ایک صحیح اور مکمل اسلامی مملکت اور اسلامی حکومت بنانے کے لئے مندرجہ ذیل منشور تحریر کیا گیا۔

مملکت کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا۔ تمام فرقوں کے نمائندہ جید علماءکے مرتب کردہ 22۔ اسلامی نکات کی روشنی میں ملک کے دستور کو مکمل اسلامی بنایا جائے گا۔ صرف قرآن وسنت کے احکام ہی ملک کے اساسی قوانین قرار پائیں گے۔ ملک کے دستور اور قانون میں اسلام کے کامل ومکمل دین ہونے اور محمدرسول اللہ کے خاتم النبین ہونے کا دستوری وقانونی تحفظ کیا جائے گا۔ خلفاءراشدین اور صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین کے ادوار حکومت وآثار کو اسلامی نظام حکومت کے جزئیات متعین کرنے کے لئے معیار قرار دیا جائے۔ ملک کی کلیدی اسامیاں غیر مسلموں کے لئے ممنوع قرار دی جائیں گی۔ صدر مملکت اور وزیر اعظم کا مسلمان مرد ہونا اور پاکستان کی غالب اکثریت اہل سنت کاہم مسلک ہونا ضروری ہو گا۔

مسلمان کی قانونی تعریف یہ ہو گی کہ ” وہ قرآٓن و حدیث پر ایمان رکھتا ہوئے ان کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اسلاف رحمہم اللہ اجمعین کی تشریحات کی روشنی میں حجت سمجھے اور سرور کائنات کے بعد نہ کسی نبوت کا اور نہ کسی شریعت کا قائل ہو ۔

جو فرقے اسلام کے کسی بنیادی عقیدہ ختم نبوت وغیرہ سے انحراف کے مرتکب ہو چکے ہیں انہیں غیر اسلامی فرقے قرار دیا جائے گا اور آئندہ ا س قسم کے انحراف کو دستور ممنوع او ر واجب التعزیر قرار دے دیا جائے گا۔

دستور کی اسلامی دفعات (قرآٓن و سنت کے اصولوں ) اور مملکت کی اسلامی حثیت میں کسی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسلام اور اس کے کسی بھی حکم و عقیدہ کے خلاف کسی قسم کی تنقید و تبلیغ کی نہ تقریری اجازت ہوگی نہ تحریری۔ دستور میں مسلمان عوام کی براہ راست نمائندگی واختیار کو صراحتا” تسلیم کیا جائے گا۔

دستورمیں یہ بات قانونا واضح کر دی جائے گی کہ ” حاکمیت صرف اللہ رب العالمین کی ہے اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر پاکستان کے مسلمان عو ام مملکت پاکستان کے اختیارات کے اصل مالک ہوں گے۔

پاکستان کی مجالس شوریٰ (اسمبلیوں ) وغیرہ میں نمائندگی کے لئے انتخابات کا نظام شخصی مقابلہ کی بجائے جماعتی مقابلہ پر قائم کیا جائے گا اور افراد کے بجائے جماعتیں اپنے منشور و پروگرام کی اساس پر انتخابات میں حصہ لیں گی اور فی صد کامیابی کے تناسب سے مجالس شوریٰ کی رکنیت کی حق دار بنیں گی اور تشکیل کریں گی۔

چنانچہ مولانا مفتی محمود 1970میں صوبہ سرحد ( خیبر پختونخوا) کے جب وزیر اعلی بنے، تو انھوں نے صوبے میں اسلامی اور مشرقی روایات کو قائم کرنے کے لیے عملی کام کیا، شراب پر پابندی لگائی، صوبے کی سرکاری زبان اردو کو قرار دیا، سرکاری لباس اورسکول یونیفارم قمیض شلوار کو لازمی قرار دیا، نصاب تعلیم میں عربی اور اسلامیات کو لازمی قرار دیا، سود کی لعنت پر پابندی عائد کی۔
مولانا مفتی محمود کے بعد 1984سے مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علمااسلام تاحال اپنا کردار اداکر رہی ہے۔ اس وقت جمعیت علماءاسلام کے موجودہ سیٹ اپ میں قومی اسمبلی، سینٹ، بلوچستان اسمبلی، خیبر پختون خواہ اسمبلی اور گلگت، بلتستان اسمبلیوں میں ممبران کی مجموعی تعداد 50 کے قریب ہے۔

جمعیت علما اسلام اب کئی شاخوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک شاخ جمعیت علماءاسلام ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں، جبکہ ایک شاخ جمعیت علماءاسلام (س) سمیع الحق گروپ ہے، جس کے صدر مولاناسمیع الحق ہیں۔ ان کے علاوہ ایک گروپ جمعیت علماءاسلام (نظریاتی) ہے، یہ شاخ بلوچستان تک محدود ہے، یہ گروپ جمعیت علمااسلام(فضل الرحمان) سے بعض اختلافات کے سبب علیحدہ ہوا۔

یہ جماعت 2008میں اس وقت وجود میںآئی جب عام انتخابات ہو رہے تھے۔ اس دوران جمعیت نظریاتی نے صوبے بھر میں جمعیت فضل الرحمن گروپ کے مقابلے میں اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ تاہم ان تمام گروپوں کے بنیادی اصول وہی ہیں جوجمعیت علماءاسلام کے درج بالا منشور میں درج کیے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s