پاکستان کے حکمران خاندان

نون خاندان


پاکستان کے حکمران خاندان

منصور مہدی
پاکستان کے حکمران خاندانوں میں نون خاندان بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، اس خاندان نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس خاندان کی ایک اہم شخصیت ملک فیروز خان نون ہیں، جو 7 مئی 1893 کو ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے گاو¿ں ہموکہ میں یپدا ہوئے۔ وہ سر محمد حیات نون کے صاحبزادے تھے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم پبلک اسکول بھیرہ ضلع سرگودھا سے حاصل کی۔ 1905 میں ایچی سن کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ 1912 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے۔ 1916 میں ویڈہم کالج آکسفورڈ سے ہسٹری میں بی اے کیا۔ 1917 میں بیرسٹر بن کر واپس ہندوستان چلے آئے۔ جنوری 1918 میں سرگودھا سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔ جنوری 1921 تا جنوری 1927 ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے رہے۔

1920 کے انتخابات میں تحصیل بھلوال سے لاہور لیجسلیٹو کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1925 کو ہندوستان کابینہ میں دیہی آبادی کے وزیر بنے۔ اس وقت وہ سب سے کم عمر وزیر تھے اور اس عہدے پر دس سال سے زیادہ عرصہ تک فائز رہے اور تقریباً سولہ مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔ اکتوبر 1931 کے انتخابات میں وہ بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ جون 1936 تا ستمبر1941 لندن میںہائی کمشنر کے عہدہ پر خدمات سرنجام دیں۔ پہلی بار1938 اور دوسری بار1939 میںبین الاقوامی ادارہ کے اجلاسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ ستمبر 1941 تا ستمبر 1945 وائسرائے کی کابینہ کے رکن رہے۔

ستمبر 1945 میںوزیر دفاع کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ نومبر 1946 کو راولپنڈی سے انتخابات میںکامیابی حاصل کی۔ نومبر 1947 میں آئین ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1947 میں قائد اعظم محمد عل جناح نے آپ کو اپنے خصوصی نمائندہ کے طور پر مسلم دنیا میں بھیجا۔

اپریل 1950 تا اکتوبر1952 مشرقی پاکستان کے دوسرے گورنر رہے۔ 13 اپریل 1953 تا 21 مئی 1955 مغربی پنجاب کے تیسرے وزیراعلیٰ رہے۔ 1955 میں مسلم لیگ چھوڑ کر ری پبلکن پارٹی میں شامل ہوگئے اور اس طرح اپوزیشن میں گئے۔ 12 ستمبر 1956 کو وزیراعظم پاکستان حسین شہید سہروردی کی کابینہ میںخارجہ امور اور دولت مشترکہ کے محکمے ان کے پاس رہے۔ 1956 میں ان کی جدوجہد سے سلامتی کونسل میںکشمیر اسمبلی کے لیے انتخابات کی تجویز دس ووٹوں سے منظور ہوئی۔ 18 اکتوبر 1957 کو آئی آئی چندریگر کی کابینہ میں ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر وزیر امور خارجہ کے عہدہ پر فائز ہوئے۔

11 دسمبر 1957 کو ابراہیم اسماعیل چندریگر وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوگئے اسی روز ملک فیروز خان نون نے بطور وزیراعظم پاکستان حلف اٹھایا۔ وزارت عظمیٰ کے علاوہ ان کے پاس دفاع و اقتصادی، دولت مشترکہ ، ریاستیں، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے رہے۔ ان کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی منتقلی کا مسئلہ حل ہوا اور پاکستان کو دو ہزار چار سو مربع میل کا رقبہ واپس مل گیا۔

اس خاندان کی ایک اور اہم شخصیت رانا تاج احمد نون شجاع آباد کی سیاست میں اہم ترین مقام کے حامل بزرگ سیاستدان تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی دوست ہونے کی وجہ سے ان کے تعلقات بھٹو خاندان سے ہمیشہ قائم دائم رہے۔ بے نظیر(شہید) والد کے دوست ہونے کے ناطہ دلی احترام کرتی تھیں۔

اس خاندان کے دیگر افراد جو ملکی سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور ممبر قومی و صوبائی اسمبلی اور وزیر کے عہدہ پر رہ چکے ہیں اور اب بھی ممبر ہیں، میں رانا شوکت حیات نون، رانا اعجاز نون، رانا شہزاد نون، رانا سہیل نون اوررانا قاسم نون و دیگر شامل ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s