الیکشن / بار بار جیتنے والے سیاستدان / سینئر رہنما و سیاستدان

سید مراد علی شاہ


سینئر رہنما و سیاستدان

سید مراد علی شاہ صوبہ سندھ کے موجودہ وزیر اعلیٰ ہیں، ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ اس سے قبل سندھ کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔ جامشورو سے تعلق رکھنے والے والے مراد علی شاہ کو سیاست وراثت میں ملی اور اسمبلی کی رکنیت کے لیے انھیں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی۔

این ای ڈی یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والے مراد شاہ امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی سے بھی سول سٹرکچرل انجینئرنگ اور اکنامک انجینئرنگ کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ حصول تعلیم کے بعد انھوں نے اپنے کریئر کی ابتدا واپڈا میں بطور جونیئر انجنیئر کی اور پھر پورٹ قاسم اتھارٹی، حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کراچی ہاربر پر بھی مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

روایتی سیاست دانوں کے برعکس ان کے طرز عمل اور رویے پرافسر شاہی زیادہ حاوی ہے۔ وہ صبح نو بجے دفتر پہنچ جاتے ہی اور صرف اپنے پسندیدہ سیکریٹریوں کے ساتھ کام کرنے کو اولیت دیتے ہیں۔ ان کے ایک قریبی دوست کہ بقول وہ کسی سیکشن افسر کی طرح اپنے محکمے کے بارے میں اپ ڈیٹ ہوتے ہیں، ہمیشہ ٹیبلٹ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جس کی مدد سے وہ کسی بھی سوال کا اعداد و شمار کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔

وہ وزیرِ اعلیٰ نامزد ہونے سے قبل صوبائی وزیر خزانہ، وزیر توانائی اور وزیرآبپاشی بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 2010 میں سندھ میں جب سیلاب آیا تو اس وقت مراد علی شاہ ہی وزیر آبپاشی تھے اور انھیں ہٹا کر جام سیف اللہ دہاریجو کو یہ وزارت دی گئی تھی۔

ان کے والد 1993 میں سندھ کے چوبیسویں وزیراعلیٰ بنے، اور1996تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ عبداللہ شاہ بینظیر بھٹو حکومت کی برطرفی کے بعد فروری1997 میں بیرون ملک چلے گئے۔جہاں وہ دس سال سے زائد عرصے تک خود ساختہ جلاوطنی میں رہے۔

سید مراد علی شاہ اپنے والد کی نشست سے دو بار انتخابات میں کامیاب ہوئے۔2013 کے انتخابات سے قبل دوہری شہریت کی وجہ سے انھیں نااہل قرار دیا گیا، لیکن وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ انھوں نے کینیڈا کی شہریت پہلے ہی چھوڑ دی تھی، جس کے بعد وہ دوبارہ منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے۔ ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں سید مراد علی شاہ بطور اپوزیشن پارلیمینٹیرین کافی سرگرم رہے۔اسمبلی قوانین و ضوابط پر عبور کی وجہ سے وہ سینئر پارلیمینٹیرین اسپیکر مظفر شاہ کو بھی پریشان کردیتے تھے اور اس وقت حکومت اور موجودہ اپوزیشن میں شامل ایم کیو ایم کے اراکین سے بھی ان کی نوک جھونک چلتی آئی ہے۔

یہ عجیب اتفاق ہے کہ جب ان کے والد وزیر اعلیٰ تھے تو ایم کیو ایم کے خلاف جاری آپریشن اپنے عروج پر تھا اور مراد علی شاہ کے وقت بھی شہر اور ایم کیو ایم کو آپریشن کا سامنا ہے۔ سید مراد علی شاہ کراچی میں قیام امن کو اپنے لیے سب سے بڑا چیلینج سمجھتے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s