الیکشن / الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں

سندھ یونائیٹڈ پارٹی


الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ جماعتیں

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے ایک سندھ یونائیٹڈ پارٹی بھی ہے، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس پارٹی کا تعلق سندھ سے ہے اور یہ قوم پرست پارٹی ہے، اس پارٹی کے سربراہ قوم پرست رہنما جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ ہیں۔

جی ایم سید سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز سیاستدان اور دانشور تھے جنہوں نے سندھ کو بمبئی سے علیحدگی اور سندھ کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔
جی ایم سید 17 جنوری 1904 کو سندھ میں ضلع دادو کے قصبہ "سن” میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کا اصل نام غلام مرتضی سید تھا۔ جی ایم سید سندھ کے قوم پرست رہنما تو تھے مگر ان کی دلچسپیان صوفی ازم ، شاعری، تاریخ، اسلامی فلسفہ، نسلیات اور ثقافت میں بھی تھی۔

ان کا تعلق سندھ کے صوفی بزرگ سید حیدر شاہ کاظمی کے خانوادوں میں تھا اور وہ ان کی درگاہ کے سجادہ نشین بھی رہے۔ سید صاحب "سندھ عوامی محاذ” کے بانی بھی تھے۔ ان کے سیاسی جانشین سید جلال محمود شاہ ہیں۔

سندھ کے قوم پرستچونکہ خود کو انتخابی سیاست کے دھارے سے جدا رکھنا نہیں چاہتے تھے جس کے لئے انھیں ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت تھی۔ چنانچہ سید جلال محمود شاہ نے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت قائم کرلی ۔ اس جماعت کا مقصد سندھ کے تمام قوم پرست دھڑوں کے درمیان رابطے کے پل کا کردار ادا کرنا ہے۔

سید جلال محمود شاہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف نئی سیاسی صف بندیاں کروانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔یہی وہ عوامل ہیں جن کے ہوتے ہوئے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو اندرون سندھ مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

جلال محمود شاہ کے مطابق ‘ہم جناح کے اس پاکستان کو سپورٹ کرتے ہیں جس کا وڑن انھوں نے 11 ستمبر کی آئین ساز اسمبلی میں دیا تھا۔ وہ وڑن تھا ایک سکیولر پاکستان کا۔’ جلال محمود کے مطابق جب تک ریاست سے مذہب کو الگ نہیں کیا جائے گا، ملک میں حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہب کا معاملہ چونکہ بہت حساس ہے اور پاکستان میں پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے سب اس معاملے کو ہاتھ لگانے سے ڈرتے ہیں۔

ان کے بقول سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں میں سے بہت سارے سکیولر خیالات رکھتے ہیں، فوج میں بھی اعلیٰ افسران سکیولر سوچ رکھتے ہیں، لیکن ان میں بھی ہمت نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہماری پارٹی کا منشور یہی ہے کہ صرف چار پانچ شعبوں کے علاوہ باقی سب صوبوں کو اختیارات دے دیں تو کئی مسائل حل ہوجائیں گے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s