پاکستان کی خواتین سیاستدان

کرشنا کماری کوہلی


پاکستان کی خواتین سیاستدان

منصور مہدی

کرشنا کماری کوہلی مارچ2018میں سینٹ کے ہونے والے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینٹر منتخب ہوئی ہیں۔ یہ پہلی ہندو دلت خاتون اور یہ منصب پانے والی دوسری ہندو خاتون ہیں۔ ( یاد رہے کہ پہلی خاتون رتنا بھگوان داس چاولا تھیں)

کرشنا کوہلی 1 فروری 1979 کو تھر کے ضلع نگر پارکر کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے پڑدادا روپلو کوہلی نے 1857 میں انگریزوں کے خلاف ہونے والی آزادی کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جنگ آزادی کے خاتمے کے چند ماہ بعد ان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیاتھا۔

کرشنا کماری کوہلیجب بچی تھیں اور تیسری جماعت کی طالبہ تھیں تو ان کو اور ان کے خاندان کو جبری مزدور بنا کر تین سال کے لیے ضلع عمرکوٹ کے نجی قید خانے میں (جس کا مالک ایک وڈیرا تھا) قید کر لیا گیا۔ انہیں تب ہی رہائی ملی جب پولیس نے اس نجی قید خانے میں چھاپہ مارا۔

کرشنا کماری کوہلی نےعمرکوٹ کے ٹالی اسٹیشن کے پرائمری اسکول سے پانچویں جماعت پاس کی۔ 1995میں ٹنڈوالہیار کے علاقے چمبڑ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سے میٹرک اور اس کے بعد حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں واقع گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سے بارہویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ کرشنا نے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد سال 2012 میں سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔

کرشنا کماری کوہلی جب وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں تو 16برس کی عمر میں 1994 میںان کی شادی کر دی گئی۔ تاہم ان کے شوہر لال چند اور ان کا پورا خاندان تعلیم دوست تھا، جس نے کرشنا کوہلی کا تعلیم سے رشتہ ٹوٹنے نہیں دیا اور نویں جماعت سے لے کر ماسٹرز کرنے تک ان کے شوہر اور ان کے سسرال والوں نے ان کی ہر طرح سے اور بڑھ چڑھ کر معاونت کی۔ لال چند، محکمہ ایگری کلچر میں آفیسر ہیں اور خود بھی تعلیم کے اتنے شوقین ہیں جتنا ان کی اہلیہ ہیں۔ وہ سندھ زرعی یونیورسٹی سے زراعت سے متعلق ایک شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

کرشنا کوہلی کی تین بہنیں غیرتعلیم یافتہ جب کہ دو بھائیوں میں ایک نے ایل ایل بی اور دوسرے نے ان ہی کی طرح سوشیالوجی میں ماسٹر کیا ہے۔ کرشنا کوہلی کی طرح ان کے بھائی ویرجی کوہلی بھی سماجی شعبے، ہاری خاندانوں کی مدد، اقلیتوں کے حقوق اور جبری مشقت کا شکار خاندانوں کی رہائی جیسے کاموں میں انتہائی سرگرمی سے حصہ لیتے رہے ہیں۔

کرشنا کماری کوہلی نے سماجی شعبے میں تعلیم بالخصوص خواتین کی تعلیم، خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف، خواتین اور بچوں کی صحت، کم عمری میں شادی کی روک تھام جیسے مسائل پر توجہ دی اور اس حوالے سے تھرپارکر پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ کرشنا کماری نے خواتین کو کام والے مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کرنے سے روکنے، جبری مشقت کے خاتمے اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے کے متعلق قانون سازی کے متعلق سفارشات تیار کرکے ان پر عمل درآمد کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کیں اور اس حوالے سے سماجی تنظیم آشا سے بھی منسلک رہیں اور حیدرآباد میں آشا کی لیگل سینٹر کی انچارج بھی مقرر ہوئیں۔
2013 میں کرشنا کوہلی نے اپنی سماجی تنظیم دامن قائم کی، جس کے تحت وہ اب بھی خواتین اور بچوں کی صحت وتعلیم کے حوالے سے بہت سرگرم ہیں۔
کرشنا کماری کوہلی کا کہنا ہے کہ خواتین کی تعلیم وصحت اور ان کے حقوق کے لیے سرگرم ہونے کی وجہ سے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی، صوبائی وزیر سردار احمد شاہ اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات ان سے رابطے میں رہے ہیں۔ سینیٹ کے الیکشن کا انتخابی شیڈول جاری ہونے سے قبل پیپلزپارٹی کے کچھ لوگوں نے انہیں بتایا کہ انہیں پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ کی جنرل نشست کا ٹکٹ دیا جارہا ہے، جس کے بعد ان کی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ایم این اے فریال تالپور سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ پیپلزپارٹی آپ کو سندھ سے سینیٹ کا ٹکٹ دے رہی ہے، جس پر میری خوشی کی انتہا نہیں رہی۔

کرشناکوہلی کہتی ہیں کہ سینیٹر منتخب ہونے کے بعد بھی ان کی پوری توجہ خواتین کی تعلیم و صحت، کم عمر میں شادی کے رواج کے خاتمے پر مرکوز ہو گی اور کوشش ہوگی کہ ان مسائل سے متعلق جتنے قانون موجود ہیں ان پر عمل ہو۔ وہ کہتی ہیں ”جہاں قانون میں بہتری کی گنجائش ہے وہاں پارٹی قیادت کے مشورے سے ترامیم تجاویز کروں گی۔“

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s