منشیات کی تجارت


منصور مہدی
افریقی ملک زیمبیا کے دارلحکومت لوساکا کی 26سالہ کالج کی طالبہ انجیلا سین ساکا اور 29سالہ ٹیلر (کپڑے سینے والی) انجیلا کازاما جو رشتے میں فرسٹ کزن اور دوست تھیں۔ کازاما نے سکول تک تعلیم حاصل کی تھی مگر غربت کی وجہ سے مزید تعلیم نہ حاصل کی اور کپڑے سینے کا کام شروع کردیاجبکہ سین ساکا کالج میں زیر تعلیم تھی۔
زیمبیا جنوبی افریقہ کا تقریباً سوا کروڑ کی آبادی پر مشتمل ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے۔ جہاں شہروں میں68فیصد اور دیہی علاقوں میں 78فیصد سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزارتے ہیں۔ زیمبیا کی بالغ آبادی کاتقریباً 20فیصد ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہے ۔ غربت اور بیماری نے اس ملک کی بیشتر آبادی کو نفسیاتی مریض بنا ڈالا ہے۔ چنانچہ بیشتر افراد بیماری اور غربت سے فرار کی غرض سے نشے کی لت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جو نشہ کرنے کے لیے چوری چکاری اور چھوٹے موٹے جرائم بھی کرتے ہیں جبکہ نشے میں مبتلا خواتین جرائم کے علاوہ جسم فروشی سے نشہ پوری کرتی ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق زیمبیا میں 22فیصد سے زائد الوگ کسی نہ کسی قسم کا نشہ کرتے ہیں۔مگر یہاں پر لوکل منشیات ( نشہ کی مقامی جڑی بوٹیاں) کی پیداوار ملکی ضروریات کا صرف 30فیصد ہے چنانچہ منشیات کی طلب پورا کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے منشیات سمگل کر کے لائی جاتی ہیں۔جس وجہ سے یہاں پر اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ اس مقصد کے لیے زیمبیا میں بڑے سنڈیکیٹ کے علاوہ زیادہ تر انفرادی طور پر لوگ منشیات سمگل کرتے ہیں۔مردوں کے علاوہ خواتین بھی سمگلنگ کا دھندہ کرتی ہیں۔
انجیلا کازاما ایڈز میں مبتلا ہونے کے ساتھ نشہ بھی کرتی تھی۔ سین ساکا بھی اس کی صحبت میں نشہ کی عادی ہو گئی۔ ان کی صحبت میں زیادہ تر نشہ کرنے والے ہی بیٹھتے تھے۔ایک دن جب یہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک نشہ کی محفل میں بیٹھی تھی تو وہاں ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس نے بتایاکہ پاکستان میں منشیات بہت سستی ہیں اور وہاں کی انتظامیہ کی طرف سے زیادہ سختی بھی نہیں کی جاتی اور اگر تھوڑی سے ہوشیاری سے کام لیا جائے تو وہاں سے چند ڈالروں کے عوض خریدی گئی منشیات یہاں آکر سینکڑوں ڈالر کی ہوجاتی ہے۔
کازاما نے پہلے بھی پاکستان کے بارے میں سنا ہوا تھا چنانچہ اس نے سین ساکا کو اپنے ساتھ تیار کیا اور ایک روز دونوں کراچی ائرپورٹ پر اتر گئی۔چند دن کراچی میں رہنے کے بعد وہاں سے بذریعہ ٹرین لاہور آ گئیں۔لاہور ریلوے سٹیشن کے قرب و نواح میں واقع بیشتر ہوٹلوں میں افریقی ممالک کے باشندے ہی قیام کرتے ہیں ۔ چنانچہ کازاما اور سین ساکا بھی ۔۔۔۔۔ہوٹل میں ٹھہر گئی۔ وہ دونوں تقریبآ دو ہفتے تک لاہور رہی اور خوب دل کھول کر چرس اور ہیروئن پی۔
سین ساکا کا تو لاہور سے واپس جانے کو دل ہی نہیں کرتا تھا مگر کازاما کے ساتھ واپس جانا ہی تھا۔چنانچہ اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق لاہور چھوڑنے سے دو دن پہلے انھوں نے منشیات کا کام کرنے والے ایک بیوپاری سے رابطہ کیا اور آدھا کلو سے زائد ہیروئن خریدی۔ دونوں ہیروئن لیکر بذریعہ ٹرین ہی کراچی چلی گئی ۔ جہاں سے انھوں نے ساﺅتھ افریقہ اور وہاں سے نیروبی اور پھر اپنے ملک جانا تھا۔ جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر مقررہ وقت پر پہنچنے سے پہلے ان دونوں نے آدھ کلو ہیروئن کو برابر تقسیم کیا اورشاپر میں لپیٹ کر اپنے جسمانی پوشیدہ حصوں میں محفوظ کر لیا۔
جب یہ دونوں ائر پورٹ پہنچی تو ان کی بدقسمتی کے اسی دن ائر پورٹ پر ایکسر ے طرز کی نئی سکینگ مشین نے کام شروع کر دیا تھا چنانچہ جب وہ گزری تو ان کے جسموں میں چھپی ہیروئن پوشیدہ نہ رہ سکی اور پکڑی گئیں۔جو آجکل کراچی کی جیل میں قید مقدمے کا سامنا کر رہی ہیں۔
منشیات کا کاروبار اسلحے کی تجارت کے بعد دنیا کا سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں اس کی وسعت کا اندازہ ماریجوانا ڈیش سیڈ ڈاٹ این ایل نامی ویب سائٹ سے لگایا جا سکتا ہے جو چرس کے پودے کی صرف 10 بیج 62امریکی ڈالر میں فروخت کرتی ہے۔
چنانچہ اس لالچ میں آ کر کازاما اور سین ساکا ہی اس وقت پاکستان کی جیلوں میں اکیلی قید نہیں بلکہ بیسیوں غیر ملکی منشیات کی سمگلنگ کے مقدمات میں قید ہیں جن میں افریقی ممالک کے مرد اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان میں سے کچھ افراد تو اپنی مرضی سے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق پاکستان آتے ہیں جبکہ کچھ افراد کو وہاں کی ڈرگ مافیا مختلف حیلے بہانوں سے سمگلنگ میں ملوث کر لیتے ہیں۔
ابھی 31مئی2012کو پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے بھی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ پاکستان منشیات کاگیٹ وے ہے اور اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف کے2008 سے لے کر 2012کی رپورٹس کے مطابق 80 سے90 فیصد منشیات افغانستان سے ساری دنیا کو منتقل ہوتی ہے جبکہ یہ منشیات افغانستان سے پاکستان کے راستہ سے سمگل ہوتی ہے۔ یہ ریمارکس انہوں نے خواتین پروبیشن اینڈ پروکلیمیشن آفیسرکی جانب سے دائررٹ درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے درست کہا ہے کہ افغانستان کی تمام منشیات پاکستان کے راستے ہی بیرون ملک جاتی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق” پاکستان درحقیقت منشیات خصوصاً پوست، افیون اور بھنگ پیدا کرنے والے ممالک میں کوئی نمایاں حیثیت نہیں رکھتا تاہم ان کو ریفائن کرنے اور ان سے دیگر پراڈکٹ جیسے ہیروئن اور چرس بنانے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ 1993میں جب افغانستان میں افیون کی پیداوار685میٹرک ٹن سالانہ تھی تب پاکستان میں 140میٹرک ٹن تھی۔ افغانستان میں یہ تعداد بتدریج بڑھتی چلی گئی مگر پاکستان میں کم ہوتی چلی گئی۔ 1996میں افغانستان میں یہ تعداد2099میٹرک ٹن ہو گئی جب کہ پاکستان میں 75میٹرک ٹن ہوگئی۔ اسی طرح2000میں افغانستان میں3656میٹرک ٹن اور پاکستان میں صرف11ٹن رہ گئی۔ افغانستان میں 2005میں یہ تعداد4100میٹرک ٹن اور2006میں6100میٹرک ٹن ہوگئی۔2009میں6900میٹرک ٹن تک پیداوار پہنچ گئی”۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی رپورٹ کے مطابق” 1980 میں افغانستان میں پوری دنیا کی پیداوار کی 30 فیصد پوست کاشت ہوتی تھی اور اب یہ 3 گنا یعنی 90فیصد ہوجانے سے افغانستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ پوست کاشت کرنے والا ملک بن چکا ہے۔لیکن افغانستان کی کل پیداوار کا 80 فیصد ریفائن ہونے کیلئے پاکستان آ جاتا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لگی فیکڑیاں میں اس پوست سے افیون اور ہیروئن تیار کی جاتی ہے۔جس میںسے کچھ حصہ واپس افغانستان چلا جاتا ہے جبکہ باقی کی مقدار دوسرے ممالک کو سپلائی ہو جاتا ہے”۔
رپورٹ کے مطابق "اسی طرح افغانستان افیون کے بعد چرس سپلائی کرنے والے ممالک میں بھی مراکش پر سبقت لیتے ہوئے دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔افغانستان کے 34صوبوں میں سے17صوبوں میں 24700 سے لے کر 59300 ایکڑرقبے پر بھنگ( ہیمپ پلانٹ یا Marijuana، جس سے چرس بنتی ہے) کاشت ہوتی ہے جس سے سالانہ 1500 سے 3500 ٹن چرس حاصل ہوتی ہے اور اس کی آمدن 115 ملین ڈالر تک ہے جو افیون سے حاصل ہونے والی رقم کاصرف 10 سے15 فیصد ہے۔پودے سے چرس بنانے کا تقریباً80فیصدکام افغانستان میںاور20فیصد پاکستان میں ہوتا ہے جبکہ افغانستان کی تیار کردہ چرس کا 70فیصد حصہ پاکستان سے ہوتا ہواسمگل کیا جاتا ہے”۔
افغانستان میں منشیات کے کاروبار کی اقوام متحد ہ ایک یہ بھی وجہ بتاتی ہے کہ” اس کی فروخت سے عسکریت پسندوں کو بہت روپیہ پیسہ مل رہا ہے۔ اس غیر قانونی کاروبارسے سالانہ6 سے 8 بلین ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔ جس رقم سے وہ اسلحہ خرید کرافغان اور غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں”۔
معروف تجزیہ نگار ویلیم انگدل نے اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ” افغانستان پر امریکی قبضے کے جو اہداف تھے وہ تو پورے نہیں ہوئے البتہ امریکی فوجی افغانستان میں منشیات کی کمی کی بجائے اضافے کا سبب ضرور بنے ہیں۔ڈرگ مافیا اور امریکی انٹیلی جنس تنظیم سی آئی اے کے رابطوں کا انکشاف کئی بار ہوچکا ہے۔ مختلف تحقیقی اداروں اور مہم جو صحافیوں نے ایسے کئی شواہد پیش کئے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سی آئی اے منشیات کے کاروبار سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے توسیع پسندانہ اہداف کے لئے استعمال کرتی ہے۔سی آئی اے کے بعض سابقہ عہدیداروں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ منشیات کے ذریعے حاصل شدہ غیر قانونی بلیک منی یا کالے دھن کو سفید دھن میں بدلنے کے لئے سی آئی اے ایسے ایسے غیر انسانی حربے استعمال کرتی ہے کہ انسان سن اور پڑھ کر دنگ رہ جاتا ہے”۔
جبکہ عالمی اقتصادیات کے بعض ماہرین نے تویہاں تک لکھا ہے کہ” منشیات کے اس دھن کے ذریعے امریکہ کی دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کو بچایا جاتا ہے اور امریکہ کی اقتصادی شہ رگ وال اسٹریت کی زندگی کا دار و مدار بھی اسی سرمایے پر ہے۔افغانستان پر امریکی قبضے کے وقت بھی بعض عالمی تجزیہ کاروں نے یہ کہا تھا کہ مسئلہ القاعدہ یا اسامہ بن لادن نہیں بلکہ افغانستان سے برآمد ہونی والی ہیروئن ہے جس نے پوری دنیا کی معیشت کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے”۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 20 کروڑ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ منشیات کا استعمال سب سے زیادہ براعظم امریکا میں کیا جاتا ہے۔ ہیروئن کے استعمال میں تعداد کے حوالے سے ایشیا سرفہرست ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں منشیات کی سب سے زیادہ مانگ یورپ میں ہے۔ جہاں تقریباً 75فیصد لوگ ذہنی دباو¿ اور دیگر امراض سے وقتی سکون حاصل کرنے لیے منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں 2 ملین کے قریب لوگ صرف ہیروئن کے نشے کے عادی ہیں۔ پاکستان میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے ہونے والے سروے کے مطابق ملک میں بطورِ منشیات سب سے زیادہ استعمال بالترتیب بھنگ، حشیش، چرس، ہیروئن اور شراب کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ ہیروئن استعمال کرنے والے 77 فیصد اور حشیش اور چرس کے عادی 41 فیصد اس کا روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ شراب کا نشہ کرنے والے 76 فیصد ہفتے میں 2 سے 3 دن جبکہ 10 فیصد ہفتے میں 5دن استعمال کرتے ہیں۔

ہائی کورٹ کے سنیئر وکیل سید نوید عباس کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں 1993 میں قومی انسداد نارکوٹکس پالیسی بنائی تھی جس کے باعث کئی ادارے اور ڈرگ انفورسمنٹ اسٹرکچرز وجود میں آئے۔ تاہم ان اداروں کے مابین کوئی موثر میکنزم قائم نہ ہوسکا اور نہ ہی ان اداروں میں کوئی کوآرڈینیشن تھا، اس کمی کے نتیجے میں آنے والے وقت میں ڈرگ ٹریفکنگ میں اضافہ ہوا۔ جس کی وجہ سے منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج و معالجہ کی سہولت بہت کم اور محدود پیمانے پر دستیاب ہے۔انھوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے بھی انسداد منشیات پالیسی 2010بنائی تھی۔ جس کے تحت منشیات کے خاتمے کے وفاقی اور صوبائی اداروں کو نچلی سطح (ڈسٹرکٹ لیول) پر کام کرنا تھا تاکہ پاکستان میں منشیات کی آمد کے ذرائع سے نمٹا جاسکے مگر اس کے نتائج کا اندازہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس سے لگایا جا سکتا ہے۔
نوید عباس کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکہ میں منشیات کی بڑھتی ہوئی مقدار70کی ابتدائی دہائی کا منظر پیش کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 70کی دہائی سے قبل اگرچہ منشیات کے حوالے سے قوانین موجود تھے جیسے پاکستان میں ڈینجر ڈرگ ایکٹ اور ڈرگ ایکٹ وغیرہ لیکن چرس اور دیگر منشیات کی دنیا بھر میںدرآمد و برآمد پر کوئی پابندی نہیں تھی بلکہ دیگر اجناس کی مانند اس کے بھی اجازت نامے اور ڈیوٹی وغیرہ ادا کرنا پڑتی تھی۔ مگر جب یورپ اور خصوصاً امریکہ کی زیادہ تر نوجوان نسل نشہ کی عادی ہوئی تو مارچ 1974میں اس کی تجارت کو غیر قانونی قرار دے دیا اور اس حوالے سے قانون بنائے گئے جبکہ ستمبر1974کو فرانس نے بھی ایسے ہی قوانین متعارف کرائے اور بعد ازاں دنیا کے دیگر ممالک میں قانون بنتے چلے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ امتناع منشیات آرڈینینس1979میں پاکستان میں بنایا گیا۔ اب تو اس قانون کو بعض ترمیم کے بعد مزید سخت کر دیا ہے اور اس میں موت اور عمر قید تک کی سزائیں موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان جرائم میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے
منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ انسداد ڈرگ/نارکوٹیکس پالیسی کے تحت تمام نوجوان پاکستانیوں کو اس کے غلط استعمال و مضر اثرات کی تعلیم دے اور اسکولوں، کالجوں میں سوشل ٹریننگ، علاج کے پروگرامز متعارف کرائے۔ ڈرگ ٹریفیکنگ کو موثر طریقے سے روکے۔ جو لوگ منشیات کے عادی ہوچکے ہیں انہیں مجرم سمجھنے کے بجائے انہیں ان کی زندگی کی نارمل صلاحیت کی بحالی میں مدد کی جائے۔ منشیات کا کاروبار کرنے والے افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔ تمام لیبر یونین اور سیاسی جماعتوں کو منشیات کے خلاف موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔ منشیات کے استعمال کے خلاف مہم میں انٹرنیٹ، موبائل فونز، ریڈیو اور ٹیلی کا موثر استعمال لینا چاہئے۔ وزارت نارکوٹیکس کنٹرول کو وزارت مذہبی امور کے تعاون سے ایسے پروگرام تیار کروانا چاہئے جو منشیات کی لعنت اور اس کے مضر اثرات سے طلباء، اساتذہ، خاص کر مدرسہ کو معلومات فراہم کرسکے NGOs کی مدد سے بھی علاج برائے بحالی سینٹر کھولیں جائیں اور وفاقی و صوبائی سطح پر ، جیل آبادی کو ملحوظ رکھا جائے کیونکہ وہ لوگ جو جیل جاتے ہیں ان میں 40% منشیات کے عادی ہوتے ہیں۔ بحالی اور علاج کا کام جیل سے شروع کرنے کی بھی ضرورت ہے اور خواتین کے لئے بڑے شہروں میں عادی خواتین کی بحالی و علاج کے لئے سنٹر کھولے جائیں۔

ٹاریخ ۔۔۔ماضی اور حال
منشیات کے استعمال کی تاریخ بھی انسانی تاریخ کی طرح قدیم ہے۔اس کا استعمال انسان شاید ازل سے ہی کرتا آرہا ہے۔ دنیا کے تمام خطوں میںایسی قدرتی اور خودرو جڑی بوٹیاں موجود ہیں کہ جن کے استعمال سے نشہ ہوتا ہے ۔ معلوم تاریخ کے مطابق 8000قبل مسیح میں موجودہ تائیوان کے علاقے میں ہیمپ نامی بوٹی اس مقصد کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔بلکہ اس کی کاشت ہوتی تھی اور شاید ان پہلی فصلوں میں شمار ہوتی ہے کہ جسے انسان نے کاشت کرنا شروع کیا۔ 6000قبل مسیح میں چین میں Cannabis کے بیج نشہ کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ 4000قبل مسیح میں ہیمپ کا استعمال ترکمانستان اور چین میں بھی شروع ہو گیا جب کہ چینیوں نے اس پودے کے ریشے سے کپڑا بننے کا کام بھی شروع کیا۔ 2737قبل مسیح میںچینی اطباءنے Cannabis کا باقاعدہ ادویات میں استعمال شروع کیا۔ہندووں کی مذہبی کتابوں کے مطابق2000قبل مسیح میں ہی بھنگ ایک متبرک پودے کے طور پر جانا جاتا تھا۔اور ہندووں دیوتا اس کا استعمال کرتے تھے چنانچہ اس خطے ( پاک وہند)کے لوگ مذہبی طور پر اس کا استعمال کرتے تھے۔ 1500قبل مسیح میں چین میں Cannabisبطور خوراک بھی استعمال ہوتا رہا کہ جبکہ اس کے ریشے سے بننے والے کپڑے کی صنعت کو بھی فروغ ملا۔700قبل مسیح میں فارس کے زرتشت اس کا استعمال کرتے تھے اور اسے ایک اچھی چیز قرار دیتے تھے۔ 600قبل مسیح میں ہیمپ کا استعمال روس میں بھی تھا۔ 300سے700قبل مسیح کے درمیانی عرصے میں Cannabis کے پتے تبرک کے طور پر شاہی مندروں میں بناٹے جاتے تھے۔ 500قبل مسیح میں یورپ کے بیشتر ممالک میں Cannabis متعارف ہو چکی تھی۔ 200قبل مسیح میں یونان میں منشیات عام استعمال ہوتی تھی۔ 100قبل مسیح میں ہیمپ کے پودے سے چین میں کاغذ سازی شروع ہوئی۔ 100قبل مسیح میں سائبرین عبادت گاہوں میں حیش کا عام استعمال ہوتا تھا۔ دی نیچرل ہسٹری میں ذکر ہے کہ سن 23 کے دوران مارجوانا کو ایک مسحور کن پودے کے طور پر جانا جاتا تھا۔ سن47سے127تک Cannabis کو بطور منشیات یورپی علاقوں میں فروغ ملا۔ سن200تک چین کے اطباءنے مارجوانا سے بیشتر ادویات تیار کرنا شروع کر دیں۔سن 300میں مارجوانا سے بنی چینی ادویات یروشلم میں بچوں کی پیدائش کے موقع پر خواتین کو دی جاتی تھیں۔ 570میں فرانس کی ملکہ Arnegunde کو اس کی خواہش کے مطابق چین کے تیار کردہ مارجوانا کے کپڑے میں کفن دیا گیا۔سن 500سے600تک یہودیوں میں Cannabisکا عام استعمال رہا۔سن 850میں ہیمپ کے بیجوں کی آئس لینڈ میں کاشت شروع ہوئی۔ 900میں عربوں میںحیش کا استعمال دیکھا گیا۔900 سے1000تک تمام عرب میں حیش کا استعمال عام ہوگیا۔ جبکہ بڑے بڑے سکالر ز نے بھی استعمال شروع کر دیا۔1090-1124کے دوران مسلم علاقوں میں حیش کا استعمال شروع ہوا۔ 1155-1221میں عراق، شام، بحرین، مصر میں بھی حیشں عام استعمال ہوتی رہی۔ 1271-1295میں مارکوپولو نے اپنے سفر نامے میں عرب مسلم ممالک اور یورپ میں حیش کے استعمال کا ذکر کیا۔ 1300میں افریقی ممالک ایتھوپیا میں پائپ میں حیش پینے کا رواج تھا۔ 1526میں بابر نامے میں حیش کا افغانستان میں استعمال کا ذکر موجود ہے۔ 1532میں فرانس کے ماہرین طب نے مارجوانا کا طب میں استعمال شروع کیا۔ 1533میں برطانوی بادشاہ ہنری VIIIنے ان زمینداروں کو جرمانے کرنے کا حکم صادر کیا جوصنعتی استعماکے لیے ہیمپ کاشت نہیں کرتے تھے۔ 1549میں انگولا کے علاقے سے آنے والے غلاموں نے برازیل میں Cannabis کی کاشت شروع کی۔1563میں پرتگال میں مارجوانا کا بطور دوا استعمال شروع ہوا۔ 1600میں برطانیہ نے سرکاری طور پر روس سے ہیمپ کی درآمد شروع کی۔-1632 1606 کے درمیان برطانیہ اور فرانس نے اپنی نوآبادیات میں Cannabis، مارجوانا اور حیش کی کاشت شروع کی۔1621میں اس وقت کی جدید تحقیق نے ثابت کیا کہ مارجوانا، حیش اور Cannabis وغیرہ کو ڈپریشن کے لیے مفید قرار دیا۔ 1600سے1700کے درمیان برطانیہ اور فرانس نے اپنی نوآبادیات میں نہ صرف حیش، مارجوانا اور Cannabis کو کاشت کیا بلکہ وائن ، افیون اور حیش کا استعمال عام کر دیا چنانچہ اسی دور میں سنٹرل ایشیاءاور جنوبی ایشیاءمیں ان کی تجارت عروج پر پہنچ گئی۔1764میں لندن کی میڈیکل ڈسپنسریوں میں مارجوانا سے تیار کردہ دوائی ملنی شروع ہو گئی جو 1794میں ایڈن برگ کی ہسپتالوں میں استعمال شروع ہوگیا۔ 1800میں مارجوانا کی کاشت مسسس پی ، جارجیا، کیلیفورنیا، جنوبی کیرولینا، نیویارک میں حیش کو پینے کا عام استعمال تھا مگر یہاں کی بنی ہوئی حیش فرانسیسی حیش کے مقابلے میں دوسرے درجے کی سمجھی جاتی تھی۔ جبکہ فرانس اور امریکہ میں حیش کی طلب کو پورا کرنے کے لیے روس اور ترکمانستان کے علاقوں سے درآمد کی جاتی تھی۔ 1840میں امریکی میڈیکل سٹوروں پر اس کی فروخت شروع ہوئی۔ 1842 میں انگلش میڈیکل جرنل میں ایک آئرش سائنسدان کی حیش پر تحقیق شائع ہوئی جس میں اسے ایک مفید دوا قرار دی گئی۔ 1843میں فرانس میں حشیش کلب قائم ہوئے۔ 1893-1894کے درمیان بھارت سے سرکاری طور پر 70,000سے80,000کلو سالانہ برآمدات شروع ہوگئی۔ 1906میں امریکی محکمہ خوراک نے قانون بنایا جس کے مطابق منشیات کی پیکنگ پر اس کا نام لکھا جانا ضروری قرار دیا۔ بیسوی صدی کے آغاز میں مڈل ایسٹ میں حشیش پینے کا نہ صرف مڈل ایسٹ بلکہ بیشتر خطوں میں رواج ہوگیا۔1915-1927میں امریکہ نے Cannabis کوممنوع قرار دیا۔1919میں امریکہ نے اپنے آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے شراب اور مارجوانا کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کی۔ 1920میں یونان میں اس کے استعمال پر پابندی کا قانون منظور ہوا اور حیش پینے والوں پر کریک ڈاﺅن شروع کیا۔ 1924میں روس میں اس قسم کے پودوں اور جڑی بوٹیوں کی درجہ بندی کا قانون پاس ہوا۔ 1926میں لبنا ن نے حشیش کی تیاری اور استعمال کو ممنوع قرار دیا۔ 1928میں برطانیہ نے بھی حشیش کو تفریح کے طور پر استعمال پر پابندی لگا دی جبکہ بطور دوا استعمال رہا۔ 1930تک حشیش کی چین سے سرکاری طور پر 91,471کلو سالانہ تجارت ہو گئی۔ 1933میں امریکہ نے آئین میں21ویں ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم کے مطابق شراب پر پابندی ختم کردی تاہم امریکیوں میں نشے کی وبا پھیل چکی تھی۔ 1935میں چین نے اپنے تمام علاقوں سے Cannabis کی کاشت ختم کردی۔ 1942میں امریکی سی آئی اے نے مارجوانا کو جنگی قیدیوں اور دیگر قیدیوں کو دینی شروع کی جس کی زائد مقدار کے زیر اثر قیدی جھوٹ نہیں بولتے تھے چنانچہ سی آئی اے میں مارجوانا بطور "ٹروتھ سیرم ” استعمال ہوتا رہا۔ 1945تک بھارت حشیش کی برآمدت جاری رہی۔ 1951میں امریکہ میں نارکوٹکس کنٹرول ایکٹ بنا اور حشیش کو جرم قرار دیا۔ 1960میں چیک کے سائنسدانوں نے Cannabis کو ایک انٹی بائیوٹک اثرات رکھنے والی دوا قرار دیا۔ 1963میں ترکی میں ڈھائی ٹن سے زائد حشیش پکڑی گئی جو اس دور کی ایک بڑی مقدار تھی۔ 1965میں شمالی افغانستان میں حشیش کی کاشت ہوتی رہی۔ 1967میں سمیش کے نام سے کیلیفورنیا میں حشیش کا تیل فروخت ہونا شروع ہوا۔ 1970-1972میں شمالی امریکہ اور افغانستان حشیش اور Cannabis کی کاشت کرنے والے بڑے ملک بن گئے۔ 1973میں نیپال میں حشیش کی دکانیں بند کر دی گئی۔ 70کی دہائی سے تقریبا تمام ممالک میں منشیات کے خلاف کاروائی شروع ہوئی جو ابھی اکیسویں صدی میں بھی جاری ہے مگر اس کے باوجود ان پر جتنی پابندیاں عائد کی جاہی ہیں ان کا کاروبار بھی ویسع ہوتا جا رہا ہے اور اس کی بنیادی ایک وجہ تو یہ ہے اسے انسان شروع سے استعمال کر رہا ہے اور کرتا رہے گا اور دنیا کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ پابندیوں کی وجہ سے اس کی قیمت بھی بڑھتی جا رہی ہے چنانچہ منشیات کا کاروبار اسلحے کے بعد دوسرا برا منافع بخش کاروبار ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s