ڈکیتی اور چوری کی وارداتیں


منصور مہدی

لاہور میں ڈکیتی اور چوری کی روزانہ درجنوں وارداتیں معمول بن گئیں،جرائم کی شرح میں مسلسل اضافے نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں ڈکیتی اور راہزنی کی روزانہ40 اور چوری کی30 وارداتیں ہو رہی ہیں جبکہ درجنوں وارداتوں کے مقدمات درج بھی نہیں کئے جاتے۔ ہر ہفتے 15شہری قتل ہو رہے ہیںاور اتنے ہی لوگ مختلف حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دو سے تین شہریوں کو تاوان کے لیے اغواءکر لیا جاتا ہے۔

پنجاب پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال پنجاب بھر میںمختلف نوعیت کی3لاکھ86ہزار437 وارداتیں ہوئی جبکہ2009میں3لاکھ 83 ہزار379 اور 2008 میں3لاکھ74ہزار400 ، 2007 میں3لاکھ44ہزار400 جبکہ رواں سال کے صرف چار ماہ کے دوران 1لاکھ33ہزار429واقعات ہو چکے ہیں۔

ان اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ صوبائی سطح پر جرائم کی مجموعی شرح میں صوبائی حکمرانوں کے دعووں کے باوجود اضافہ ہوا ہے۔ ۔ سنگین نوعیت سے لے کر معمول کے جرائم میںہونے والا اضافہ حکومتوں کی ناقص کارکردگی پر دلالت کرتا ہے اس طرحگڈ گورننس کے حصول میں شہباز شریف کی پنجاب حکومت پرویز الٰہی کے دور سے بھی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے بلاشبہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ خواتین کی عصمت دری، راہ چلتے افراد سے گاڑیاں، موبائل ٹیلیفون اور نقدی چھین لینا، دن دہاڑے کم سن بچوں کا اغوا برائے تاوان، تاوان نہ ملنے کی صورت میں ان کا وحشیانہ قتل، اندھے قتل کی وارداتیں، منشیات کی سرعام فروخت، بہتر روزگار کی فراہمی کی آڑ میں انسانی سمگلنگ اور ان سے زندگی بھر کی پونجی ہتھیانے کے واقعات، دن دہاڑے چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں، پارکوں سے گاڑیوں کی چوری اور متعدد دوسرے جرائم میں اس قدر اضافہ ہوچکا ہے کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

لاہور کے ایک شہری احسن محمود جن سے ایک مرتبہ گلشن راوی میںاپنا موبائل فون اور نقدی چھینی جا چکی ہے اور دوسری مرتبہ جیل روڈ پر اپنی کار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کا کہنا ہے کہ لاہور میں تیزی سے بڑھتے ہوئی جرائم سے شہریوں میں نہ صرف جان و مال کے عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے بلکہ حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو کر رہ گیا ہے۔عدم تحفظ اور لاقانونیت میںاضافے کے باعث ملک میں سرمایہ کاری میں نہ صرف زبردست کمی آئی ہے جس نے قومی معیشت پر سخت ناخوشگوار اثرات مرتب کرنے کے علاوہ عام آدمی کی مشکلات و مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔ لوگوں کاسکون برباد ہو گیا ہے اور بیروزگاری، فاقہ کشی اور گرانی سے تنگ آئے ہوئے افراد بیوی بچوں سمیت خودکشیاں کر رہے ہیں۔

انھوں نے حکومت پاکستان کی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ دکھاتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دورِ حکومت کے مقابلے میں آج ملک میں جرائم کی مجموعی شرح میں زبردست اضافہ ہو ا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2008 میں جرائم کے رجسٹرڈواقعات 5لاکھ80ہزار 659 جبکہ 2009 میں 6 لاکھ 3ہزار 626 تھے۔ اس کے مقابلے میں 2006میں جرائم کے 5لاکھ 27ہزار 139 اور 2007 میں 5لاکھ 26ہزار 916واقعات کا اندراج ہوا۔ ان اعدادو شمار کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں جرائم کی روک تھام میں ناکام ہوچکی ہیں۔ حکمرانوں کے تمام تر دعوو¿ں کے باوجود جرائم میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

صوبہ سرحد میں البتہ صورتحال نسبتاً بہتر رہی وہاں جرائم کی شرح اس حد تک بڑھنے نہیں دی گئی جتنی باقی صوبوں کی سطح پر بڑھتی رہی۔ اے این پی کی حکومت کے دوران خواتین کی عصمت دری کے واقعات میں زبردست کمی دیکھی گئی۔ بلوچستان میں بھی ریپ کے واقعات میں کمی آئی۔ سندھ میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ سندھ کے حوالے سے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2007میں 60774 اور 2008 میں 77747 ، 2009میں90562اور2010میں1لاکھ278جرائم کے مقدمات درج ہوئے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سنیئر وکیل شاہد حسن کھوکھر کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں جرائم میں اضافہ کی ایک اہم اوربنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ امن و امان کے ذمہ داراور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام نہیں دے رہے۔ پولیس بیگناہ ملزموں پر چھترول کرنے میں مصروف ہے۔ نسلی، ذاتی، گروہی اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، بعض وزراءاور بعض سرکاری محکموںکے اعلیٰ حکام اورسیاستدان اپنے اپنے علاقے میں اپنے من پسند پولیس افسران اور اہلکاروں کی تعیناتی کروا لیتے ہیں اور اس طرح سفارش اور اقربا پروری کی بنیاد پر تعینات ہونے والے پولیس آفیسرز اور اہلکاراپنے آپ کو صرف دفاتر میں بیٹھے رہنے اور اپنے محسنوں کے اشاروں پر پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی تک محدودکرلیتے ہیں۔ وہ محکمہ کے اعلیٰ حکام کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں امن و امان کی عمومی صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی نسبت شہبازشریف کادور امن و سلامتی کے حوالے سے بدتر دور ہے۔ وہ جرائم کے پس پردہ اسباب و علل کاازالہ نہیں کرپائے۔ محض زبانی کلامی وعدوں اور یقین دہانیوں سے اصلاح احوال ممکن نہیں۔ ان اسباب میں بعض اعلیٰ افسران کے علاوہ بعض سیاسی جماعتوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا جو منظم جرائم پیشہ گروہوں اور جرائم پیشہ افراد کو اپنی سیاسی قوت و مقبولیت بڑھانے کے لئے استعما ل کرتے ہیں۔ بالخصوص انتخابات کے موقع پر عوام پر دباو ڈالا جاتا ہے کہ وہ ان کے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دیں پھر یہی افراد اور گروہ تھانوں میں اپنی مرضی کے افسر اور اہلکار تعینات کرالیتے ہیں۔ صورتحال اس حد تک نازک اور تشویشناک ہوچکی ہے کہ جرائم پیشہ افراد اورگروہوں نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اس کا ثبوت تجزیاتی رپورٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں اور عوامی مشکلات و مسائل کا احساس و ادراک کرتے ہوئے وزارت ِ داخلہ اور وزارت ِ قانون کے اعلیٰ حکام سرجوڑ کر بیٹھیں اور سنگین نوعیت کے جرائم میں ہونے والے اضافے کے اسباب و وجوہ کاپتہ چلانے کے بعد ان کے ازالے کی فکر کریں اور اس کے لئے مثبت اورنتیجہ خیز اقدامات اٹھانے میں تاخیر نہ کی جائے۔ اس لئے کہ ان جرائم پیشہ گروہوں اور مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد نے عوام اوربالخصوص سفید پوش افراد کا جینا دوبھر کردیاہے۔ عوام میں پولیس اہلکاروں اور افسروں کی اکثریت کے خلاف شکایات کا ایک طومار جنم لے چکا ہے۔ ماتحت عدالتوں میں مقدمات بروقت نمٹائے نہ جانے کی وجوہات میں یہ بات بھی سرفہرست ہے کہ اکثر پولیس اہلکار اور افسر مقدمات کی پیروی اورعدالتوں تک مقدمات پہنچانے میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ملزمان کے خلاف گواہی دینے والوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ مقدمات کے اندراج سے لے کر مقدمات کی پیروی تک عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے اور ماتحت عدالتوں کی کرپشن بھی متاثرین کے لئے مشکلات کو جنم دیتی ہے۔ جب تک اس ساری صورتحال کا ازالہ نہیں کیاجاتا اوراس کے لئے وضع کردہ لائحہ عمل کی موثر مانیٹرنگ کااہتمام نہیں کیا جاتا اصلاح احوال ممکن نہیں اوریہ صورتحال حکومت کی بدنامی اور ناقص کارکردگی کاباعث بنے گی۔

پنجاب پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ریاست کی پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی اور باغیانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے صف اول کا کام انجام دیتے ہیں اور حالیہ دنوں میں یہ تحقیق بھی سامنے آئی ہے کہ پولیس اور سراغ رسانی کے دیگر محکمے فوج کی نسبت زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تنظیمی ڈھانچوں میں پولیس ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس پر بھرپور توجہ نہیں دی گئی، اسے پوری طرح مسلح نہیں کیا گیا، سیاسی عمل دخل میں الجھایا گیا ہے۔ چند ایک کارروائیوں میں اس نے جانبازی کا ثبوت بھی فراہم کیا مگر ایسی مثالیں نہایت قلیل ہیں اور اس کی بڑی وجہ حکومت کی نا اہلی رہی ہے کہ جس نے ابھی تک اس محکمے پر کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور نہ ہی قانونی عمل داری کو بہتر بنانے کے لیے کوئی جدید منصوبہ بندی کی۔ 1947 سے لے کر کئی بحرانوں کا سامنا کرنے کے باوجود نہ تو فوجی آمروں نے اور نہ ہی جمہوری حکومت نے اس شعبے کو ترقی کے قابل سمجھا۔ اس طرح پولیس کی غیر تسلی بخش کارروائیاں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ درحقیقت پولیس کا پنجاب میں مذہبی عسکریت پسندوں کو آہنی ہاتھ ڈالنا اور 1990 کی دہائی میں کراچی میں سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگر سیاسی حمایت اور مطلوبہ ذرائع میسر ہوں تو ان میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ مطلوبہ نتائج مہیاکرسکتے ہیں۔ اس طرح اگر حکومت بہتر پالیسیاں ترتیب دے اور پولیس بھی اپنی کارکردگی کو ٹھیک کرے تو حکومتی عملداری مضبوط ہوسکتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی حکمرانوں نے شہریوں کے تحفظ کی بجائے انہیں محکوم رکھنے کے لیے 1861 کا پولیس ایکٹ نافذ کیا جو کہ پاکستان میں نافذالعمل رہا ہے۔ اس قانون نے امراء کو جواب دہی سے مبرّا کر دیا اور پولیس کو ظالم بنا دیاایک نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ قانون جدید اور جمہوری تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تھا۔ پاکستان میں 2002 تک یہ قانون نافذ رہا اور بالآخر پولیس میں اصلاحات کا نیا قانون متعارف ہوا لیکن اس میں بھی بار بار تبدیلیوں سے اس کی اصل روح کو مجروح کر دیا کیا۔ تاہم پولیس کو مناسب آپریشنل خود مختاری دی گئی جو کہ کافی عرصے سے حل طلب مسئلہ بن چکی تھی۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کی ذمہ داریاں مثلاً تحقیقات ، سراغ رسانی، دیکھ بھال اور گارڈ ڈیوٹی کو پولیس کے مختلف محکموں میںتقسیم کر دیا گیا تاکہ ان کی کارکردگی میں اضافہ ہو۔ رفتہ رفتہ ان معاملات میں بیورو کریسی اور سیاسی عمل دخل سامنے آیا جس کے تحت پہلی بار 2004 میں پولیس ایکٹ میں خود ساختہ تبدیلیاں کیں اور آزاد سیفٹی کمیشن سے ترقی اور تبدیلیوں کی سفارشات جیسے معاملات واپس لے کر دوبارہ سیاسی اشخاص کو منتقل کر دیئے جس سے پولیس کے لیے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کی خاطر دوبارہ سیاسی عمائدین کو خوش کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔

”تھانہ’، ایک بدنام زمانہ لفظ بن چکا ہے جہاں پولیس کی کال کوٹھڑیاں ہیں جن میں اعتراف جرم کرانے کے لیے انسانیت سوز سزائیں دی جاتی ہیں۔ بد عنوانیاں عام ہیں اور معاشرے کا طاقت ور اور اثر ورسوخ یافتہ طبقہ قانون سے بالا تر خیال کیا جاتا ہے۔ روزانہ کے اخبارات پولیس کی کہانیوں اور جعلی مقابلوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ معصوم لوگوں کی گرفتاریاں، تلاشی ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ اس قسم کے رویوں نے نہ صرف پولیس کے تشخص کو نقصان پہنچایا بلکہ بے گناہوں کو جھوٹے جرائم میں ملوث کر کے انھیں مجرم بھی بنیا اور جرائم کو مزید بڑھایا ہے۔

مددگار رےسرچ اینڈ ڈیٹا بیس سینٹر نے پولیس کے ظلم و تشدد پر مبنی اےک تحقیقی رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق گذشتہ دس سالوں میںجنوری 2000 تا جون 2009 کے دوران پاکستان بھر سے پولیس تشدد کے کل 10421 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار کے سالانہ جائزے کے مطابق 2000 میں 231 ، 2001 میں555 ، 2002 میں996، 2003 میں 838، 2004 میں1260، 2005 میں1356، 2006 میں1662، 2007 میں1723، 2008 میں1105 اور 2009 جنوری تا جون تشدد کے کل695 واقعات رونما ہوئے جن میں سے 1457 خواتین، 7885 مرد، 423 لڑکیاں اور656 متاثرہ معصوم لڑکے شامل ہیںجو پولیس کے وحشیانہ تشدد کانشانہ بنے۔صوبائی لحاظ سے صوبہ بلوچستان میں) 189 واقعات (، صوبہ سرحد مےں ( 711)، صوبہ پنجاب میں ( 6250) ا ور صوبہ سندھ میں(3271) واقعات رونما ہوئے۔پولیس تشدد کی خاص خاص وجوہات میں سب سے بڑی وجہ رشوت طلب کرنا ہے جبکہ پولیس کاروائی کے دوران بہانہ بنا کر مارنا پیٹنا، جعلی پولیس مقابلوں مےں ہلاک ےا زخمی کرنا، چیکنگ کا بہانا بنا کر مارنا اورمختلف نوعیت کے من گھڑت مقدمات مےں پھنسانے کی کوشش کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ اور اس کے نیتجے میں جرائم میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s