مویشیوں کی سمگلنگ


صرف جانور ہی نہیںگوشت ، اوجڑی اور پائے تک بیرون ملک سمگل کئے جا رہے ہیں

منصور مہدی

خلیجی ممالک میں گوشت کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں مویشی سمگل ہو کر جانے لگے۔ یہ جانور نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ افغانستان اور ایران میںبھی سمگل کیے جاتے ہیںصوبہ خیبر پختونخوا کے مویشیوں کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ جس بیل کی قیمت پشاورمیں دس ہزار روپے ہے وہی بیل افغانستان میں بیس ہزار روپے اور خلیجی ممالک میں40سے50ہزار روپے میں فروخت ہوتاہے۔ جبکہ بلوچستان میں مو یشیوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریباً پندرہ بڑے ٹرکوں میں اونٹ، بیل، گائے، بھیڑاور بکریاں لاد کر کوئٹہ سے ایران اور افغانستان بھیجی جاتی ہیں۔ تاجروں کے بقو ل ایران زندہ پہنچ جانے والی ہربھیڑ اور بکری پر دو ہزارجب کہ اونٹ پر 20 ہزار روپے تک منافع ملتا ہے۔قیمت کا یہی فرق مویشیوں کے اس غیر قانونی دھندے کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔اس سے نہ صرف مجموعی طور پر پورے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے لیکن سب سے زیادہ متاثر ہونے والاصوبہ بلوچستان ہے کیونکہ بلوچستان میں بارشوں کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی صوبہ میں جانوروں کی کمی ہے ۔

اس حوالے سے بلوچستان اسمبلی نےبھی ہمسایہ ممالک کو سمگلنگ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سمگلنگ سے بلوچستان میں جانوروں کی قلت اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ وفاقی وزیر برائے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ میر اسرار اللہ زہری نے بھی پاکستان سے مال مویشیوں کی حالیہ جاری سمگلنگ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے وزارت کے حکام کو سخت تنبیہہ کی ہے مگر اس کے باوجود بھی سمگلنگ جاری ہے۔کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلع کی حد تک اس غیر قانونی دھندے پر قابو پانے کے لئے دفعہ ایک سو چوالیس بھی نافذ کی تاہم اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔رحیم کاکڑ کا کہنا ہے ’اسلام آباد میں وزارتِ تجارت کے حکام کثرت سے راہداریاں جاری کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس غیر قانونی دھندے پر قابو پانے کی ہر کوشش بے سود رہی۔ اور اب پولیس دیگر ادارے ، یہاں تک کہ صوبائی حکومت بھی بے بس نظر آتی ہے۔‘ دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مویشیوں کی سمگلنگ کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا اور موجودہ مویشیوں کی افزائش کے اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند سالوں میں ملک بھر میں گوشت کی قلت میں خطرناک اضافہ ہوسکتا ہے۔

لاہور میں گوشت کے ایک بیوپاری کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر دودھ دینے والے مویشیوں کی پشاور کے راستے سمگلنگ ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے روزنامہ ایکسپریس میں شائع ہونے والی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور سے پشاور موٹروے پر اور جی ٹی روڈ کے ذریعے رات کے وقت مویشیوں سے بھرے سینکڑوں ٹرک لے جائے جا تے ہیں اور پشاور سے افغانستان مویشی اسمگل کر دیئے جاتے ہیں اس کاروبار میں بااثر لوگ ملوث ہیں جن کے وزارت لائیوسٹاک سے بھی رابطے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آجکل وزارت لائیوسٹاک نے مویشیوں کی نقل و حمل پر پرمٹ جاری کرنے کی پابندی ختم کر رکھی ہے جس سے مویشیوں کی غیر قانونی تجارت میںاضافہ ہو گیا ہے۔

سمگل ہونے والے ان جانوروں میں سب سے زیادہ بھینسیں شامل ہیں۔ جبکہ دوسری بڑی تعداد گائے اور بکروں کی ہے۔ مویشیوں کو افغانستان سمگل کرنے کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے کراچی سے جو مویشی بھی دودھ دینے سے فارغ ہوتے ہیں ان کو بیوپاری حضرات خرید کر ٹرکوں میں بھر کر پشاور کے ذریعے افغانستان سمگل کر دیتے ہیں کیونکہ افغانستان میں بڑے گوشت کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ اس سے ملک کیجانوروں کی دولت میں کمی آرہی ہے۔ حکومت پاکستان نے اس بارے میں کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ کوئی پالیسی نہیں بنائی جب بھی کوئی فیصلہ کیا گیا تو سیاسی اور کاروباری مفادات کو ہمیشہ مد نظر رکھا گیا۔

مہمندایجنسی کے گوشت کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ مہمندایجنسی کے مختلف بازاروں میں گوشت کی شدید قلت کے باعث عوام گوشت سے محروم ہو چکے ہیں۔ افغانستان کو مویشیوں کی سمگلنگ کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہونے سے قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے۔مہمند ایجنسی کے مختلف بازاروں میاں منڈی،ہیڈ کوارٹر بازار غلنئی وغیرہ میں گوشت کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ۔ جبکہ جہاں گوشت دستیاب بھی ہے وہاں قیمتوں میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گوشت کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ افغانستان کو مویشیوں کی سمگلنگ ہے۔بڑے پیمانے پر مال مویشی افغانستان سمگل کئے جا رہے ہیں۔قصائیوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جانوروں کی عدم دستیابی سے ہمیں ذبح کرنے کیلئے جانور نہیں مل رہے اور جو بھی علاقے میں دستیاب ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ہماری قوت خرید سے باہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب نہ صرف جانور سمگل کیے جا رہے بلکہ گوشت اور اوجڑی اور پائے تک بھی بیرون ملک سمگل کئے جا رہے ہیں ۔

ترقی پذیر ممالک میں جہاں لوگ کا انحصار زیادہ تر زراعت پر ہے، وہاں مویشی بحیثیت مجموعی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اور ملکی اقتصادیات میں بھی ان کا کافی حصہ ہوتا ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بھی ساڑھے تین کروڑ سے زائد افراد مویشیوں کے کاروبار سے منسلک ہےں۔ ان میں مویشی پاک کسان سے لیکر دودھ پیچنے والے اور گوشت کے کاروبار سے منسلک افراد اوران کی تجارت کرنے والے افراد شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی اب مویشیوں کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ مویشی نہ صرف روزگار قائم کرنے اور باربرداری جیسی صرویات کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ انسانی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے گوشت دودھ انڈے وغیرہ کے حصول کا ذریعہ بھی ہیں۔ علاوہ ازیں ان سے ہمیں دیگر ضروری اشیاءمثلا اون اور کھالیں وغیرہ جو زر مبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ بھی حاصل ہوتی ہیں۔

اگر گزشتہ 30 سال کے اعداد اور شمار پر نظر ڈالی جائی تو پاکستان میں جانوروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ لیکن کیونکہ انسانوں کی شرح پیدائش جانوروں سے زیادہ رہی ہے۔ اس لئے انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور گوشت حاصل کرنے کے لئے جانور بھی تبدریج زیادہ تعداد میں ذبح کیے جاتے ہیں اور ان کی افزائش پر کم دھیان دیا گیا ہے۔ جس وجہ سے گوشت اور دودھ کی پیداوار کل ملکی آبادی کی طلب سے کم ہو رہی ہے اور قیمتیں زیادہ ہو رہی ہے۔ افزائش حیوانات ،جانوروں کی خوراک ، ان کی دیکھ بھال اور مارکینگ کے شعبوں میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مویشیوں سے حاصل ہونے والی غذاﺅں مثلا گوشت دوھ گھی وغیرہ ہماری صحت کے ضامن ہیں اس لیے ان کی افزائش سائنسی اصولوں پر کرنے کے لے خصوصی توجہ درکار ہے۔ مویشیوں کی دیکھ بھال میں ہم اس وقت تک پوری طرح عہدہ بر آ نہیں ہو سکتے جب تک ان سے حاصل ہونے والی اشیاء کی اہمیت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں ہمیں بنیادی معلومات میسر نہ ہوں۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور لائیو سٹاک اس کا ایک اہم حصہ ہے۔ جس سے پاکستان زرمبادلہ کماتا ہے۔ پاکستان میں دودھ دینے والے جانوروں میں دنبے ، بکری، اونٹ، گائیں، بھینسیں اور دوسرے جانور شامل ہیں ،پاکستان میں بکنے والا گوشت مہنگائی کے لحاظ سے مہنگا ہوتا جارہا ہے جو کبھی۰۸ یا۰۹روپے کلو ملا کرتا تھا آج کل دو اڑھائی سو میں فروخت ہوتا ہے۔ پاکستان میں لائیو سٹاک کی برآمدات 2000 میں شروع کی گئی جب جانوروں کو جہاز میں ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک نہ صرف بیرون ممالک مویشی برآمد کیے جاتے ہیں بلکہ بیشتر تعداد سمگل کی جاتی ہے۔

وزارت خوراک و زراعت کے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق2009-10 میں ملک بھر میں سات لاکھ اونٹ، تین لاکھ گھوڑے اور تین لاکھ خچر تھے اور ان کی تعداد2010-11میں بھی وہی ہے۔اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں مال مویشی پالنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور بھینس، بکریوں، بھیڑوں کی تعداد میں بھی رواں سال میں گزشتہ سال کی نسبت اضافہ دیکھا گیا ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بھینسوں کی تعداد دو کروڑ تریسٹھ لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ چوراسی لاکھ ہوگئی ہے اور بکریوں کی تعداد پانچ کروڑ چھپن لاکھ سے بڑھ کر چھ کروڑ انیس لاکھ جبکہ بھیڑوں کی تعداد دو کروڑ انچاس لاکھ کے مقابلے میں دو کروڑ پچپن لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ مال مویشیوں کے شعبے کو پاکستان کی معیشت میں خاصی اہمیت حاصل ہے اور مجموعی پیداوار یعنی ’جی ڈی پی‘ میں گیارہ فیصد حصہ اس شعبے کا ہے۔ اقتصادی جائزے میں فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ساڑھے پندرہ کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں تین سے ساڑھے تین کروڑ دیہی افراد کا ذریعہ معاش مال مویشی پالنا ہے۔حکومت کے مطابق کئی دہائیوں سے نظر انداز کیئے جانے کے باوجود بھی پاکستان دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور دودھ کی پیداوار سے ہونے والی آمدن کپاس اور گندم کی پیداوار سے ہونے والی آمدن سے زیادہ ہے۔پاکستان میں تیس جون کو ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال میں دودھ کی سالانہ پیداوار31 ارب29 کروڑ46 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی جبکہ ایک ارب17 کروڑ44 لاکھ ٹن گائے کا گوشت،78 کروڑ21 لاکھ ٹن بکری کا گوشت اور46 کروڑ 25لاکھ ٹن مرغی کے گوشت کی پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ چمڑے کی صنعت کو تباہی سے بچانے کے لئے مویشیوں کی برآمد پر فوری پابندی لگائی جائے اور سمگلنگ کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین گلزار فیروزکا کہنا ہے کہ گذشتہ سیلاب میںپہلے ہی10 لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہو گئے ہیں ایسے میں مویشیوں کی ایکسپورٹ پر فوری پابندی نہ لگائی گئی اور بلوچستان کے راستے سے سمگلنگ کوروکنے کے لئے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں ملک میں نہ صرف دودھ اور گوشت کی قلت پیدا ہو جائے گی بلکہ لیدر انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہو گی۔

صوبہ پنجاب کے وزیر زراعت ملک احمد علی اولکھہ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے دیہی علاقوں میںمویشی پال حضرات کی سہولت کیلئے خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد جانوروں کی افزائش میںاضافہ کر کے صوبے کو دودھ اور گوشت کی پیداوار میں خود کفیل بنانا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت لائیوسٹاک فارمنگ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انھوں نے کہا بجٹ کا 60 فیصد دیہی علاقوں کی ترقی پر خرچ کیا جارہا ہے۔ جبکہ زرعی سیکٹر کی ترقی کے لئے مجموعی طور پر 3.2 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ 35 ملین دیہی افراد لائیوسٹاک سے منسلک ہیں جبکہ 40 فیصد کسان اپنی آمدن لائیوسٹاک سے حاصل کرتے ہیں لائیوسٹاک سیکٹر کا قومی جی ڈی پی میں حصہ 11 فیصد ہے لہذا حکومت لائیو سٹاک کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور مویشی پال حضرات کی سہولت کیلئے 73 موبائل ڈسپنسریاں قائم ہیں جن میں 10 ڈسپنسریاں چولستان میں مصروف عمل ہیں ان موبائل ڈسپنسریوں کے ذریعے مویشی پال حضرات کو انکے گھروں کے نزدیک جانوروں کے علاج معالجہ اور ویکسین کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں ۔

انھوں نے بتایا کہ گوشت کی پیداوار اور برآمدات میں پنجاب بھرپور طریقے سے حصہ لے رہا ہے۔ 2007-8 کے مالی سال میں47.67ملین ڈالر کا گوشت برآمد کیا گیا جس کا بیشتر حصہ پنجاب سے گیا ،2008-9میں 74.04ملین ڈالر اور2009-10میں 60.4ملین ڈالر کا گوشت اور13.5ملین ڈالر کے زندہ جانور برآمد ہوئے۔ جبکہ ملائشیا نے سالانہ 60ہزار ٹن گوشت کا بھی آرڈر دیا ہے جس میں سے بیشتر حصہ برآمد کیا جا چکا ہے۔انھوں نے بتایا کہ حکومت نے بھوریوالا میں ریسرچ سنٹر اور ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کیا ہے جس پر415ملین لاگت آئی۔ اس سنٹر کو بنانے کا مقصد دودھ، زراعت اور قدرتی وسائل کو استعمال میں لانا اور پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، ان اقدامات سے دودھ اور زراعت کی پیداوار میں نمایاں فرق آئے گا۔انھوں نے کہا کسی بھی زرعی ملک کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں وہاں کی عوام کا بہت بڑا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔ ہماری عوام نے بھی بہت محنت کی ہے خصوصاً ہمارے کسان حضرات نے گائے، بھینسوں ، بکریوں کی تعداد کو بڑھا کر ملک کو بہت فائدہ دیا ہے، اس سے ہمارے ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوا ہے

دوسری وفاقی حکومت بھی جانوروں اور گوشت کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے مزید منصوبے شروع کر رہی ہے۔اس سلسلے میں پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے ملک میں دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیلئے چینی نسل کی بھیڑیں پالنے کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبہ سے جہاں ملک کے دور دراز علاقوں میں غذائی مصنوعات کی تیاری میں بہتری آئے گی وہاں لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہو گا۔منصوبے کے پرنسپل انویسٹی گیٹنگ آفیسر ڈاکٹر محمد رفیق کا کہنا ہےکہ 58.3 ملین آبادی کو ان بھیڑوں کی وجہ سے بھرپور فائدہ ہو گا خاص طور پر بے زمین ہاریوں کو فعال بنا کر اس عمل سے ملکی معیشت کے دھارے میں شامل کیا جا سکے گا۔ ان بھیڑوں کی افزائش سے ایک اندازے کے مطابق 366 ہزار ٹن گوشت حاصل ہو سکے گا جبکہ ان کی کھالوں، بالوں اور دیگر اعضاء سے ملک کی دیگر صنعتوں کو بھی فائدہ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں بھیڑوں کی 37 اقسام کی پرورش کی جا رہی ہے ان میں سے زیادہ تر بھیڑیں صرف گوشت کیلئے پالی جاتی ہیں جبکہ دودھ کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی آبادی کا ایک بڑا حصہ ان بھیڑوں کی وجہ سے صحت مند خوراک حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ چینی نسل کی بھیڑیں دنیا کے کئی ایک ممالک میں کامیابی سے دودھ اور گوشت کی ضروریات کو پورا کر رہی ہیں۔

…………………………………………………………………………………………………………..

پنجاب کی معروف ساہیوال گائے اپنی نسلی خصوصیات کی وجہ سے دنیا بھر میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ پیداواری لحاظ سے گرم ممالک میں پائی جانے والی گائے کی نسلوں میں یہ اعلیٰ ترین ہے۔ موسمی سختیاں برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں چیچڑیوں اور دوسری بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہے ان خصوصیات کی بنا ء پر بیرونی دنیا میں اہم مقام رکھتی ہے۔ گزشتہ صدی کے شروع میں حکومت برطانیہ نے جب نہر لوئر باری کا آغاز کیا تو ساتھ ہی ساہیوال نسل کی ترقی کے لیے کچھ پرائیویٹ فارم بنائے۔جن میں 1915ء میں ضلع ملتان میں جہانگیر آباد، 1917ء میں جہانیاں،اور 1920ء میں ضلع ساہیوال (منٹگمری) میں فارم بنائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی منٹگمری کیٹل بریڈنگ سکیم شروع کرد ی گئی جس کے لئے ساہیوال نسل کے سانڈوں کاتحصیل دیپالپور میں فارم بنایا گیا۔ مزید نسل کشی کے لیے لاہور میں ملٹری ڈیری فارمز پر ایک ساہیوال نسل کا فارم کھولا گیا۔ بعد میں ان فارموں پر گورنمنٹ نے خصوصی توجہ دی اور مزید نسلی ترقی کے لیے فارم بنائے جن میں 1962ء میں بہادر نگر ، 1973ء راجن پور، 1980ء میں کلورکوٹ شامل ہیں۔

پچھلی دو دہائیوں سے ساہیوال گائے کی تعداد کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے ایک سروے کے مطابق اصلی ساہیوال نسل کی گائیوں کی تعداد 1987ء میں صرف دس ہزار رہ گئی تھی۔ اس کمی کی بڑی وجہ کراس بریڈنگ تھی۔ حکومت پنجاب کے سرکاری فارموں پر موجود دوہزار ساہیوال گائیں کسی بھی نسلی بہتری کے جائزہ کے لیے بہت کم ہیں حکومت کے پاس چونکہ فنڈز کی کمی کے باعث گورنمنٹ سیکٹر میں مزید فارم بنانا ممکن نہیں تھالہٰذا محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر کوساتھ ملایا جائے۔1999ء میں محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ نے مال شماری کرائی جس کی بناءپر ساہیوال گائے کی تعداد جھنگ ، فیصل آباد، مظفر گڑھ، ساہیوال، اوکاڑہ ، خانیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اضلاع میں بالترتیت زیادہ پائی گئی۔ ان اضلاع میں گائیوں کی تعداد کے پیش نظر محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب نے ساہیوال نسل کی گائے کے تحفظ کے لیے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ شروع کیا۔ جس کا آغازمالی سال 2004-2003 ء میں ہوا۔ جبکہ 2009-2008 میں مزید 15اضلاع چنیوٹ ، بہاولنگر، قصور، لیہ ، بہاولپور، رحیم یار خان، سرگودھا،بھکر، ملتان، پاکپتن ، شیخوپورہ، وہاڑی، لودھراں ، ننکانہ صاحب اور حافظ آباد شامل کیے گئے ہیں کہ جہاں پر اس نسل کا محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s