بیرون ملک تعلیم


منصور مہدی

بیرون ملک تعلیمی کالجوں میں داخلہ کرانے اور وظائف دلوانے کا جھانسہ دیکر بعض فراڈیوں نے متعدد طالب علموں کو لوٹنا شروع کر دیا ۔ ایک ایسے ہی ادارے جیکب اینڈ ایسوسی ایٹس نے حکومت ہالینڈ سے منظور شدہ 240وطائف کا اعلان کر کے ہزاروںطالب علموں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کر دیا اور صرف 7یوم میں لاکھوں روپے اکٹھے کر کے ادارے کے سرکردہ افراد دفتر کو تالے لگا کر روپوش ہو گئے جبکہ حکومت ہالینڈ نے اس ادارے سے لا علمی کا اظہار کر دیا ۔ایف آئی اے نے متعدد متاثرین کی طرف سے درخواستیں ملنے کے بعد ملزموں کے خلاف کاروائی شروع کر دی۔ دراصل نہ صرف لاہور بلکہ پورے ملک میں ایسے اداروں کا جال پھیل چکا ہے جو طالب علموں کو دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً امریکہ ،کینیڈا ، جرمنی ، آئر لینڈ ، سکاٹ لینڈ ، آسٹریلیا ، آسٹریا ، ملائشیا ، یونان ، چین ، یوکرائن ، روس اور دیگر یورپی اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں قائم کالجوں ،سکولوں اور دیگر فنی اور غیر فنی اداروں میں داخلے دلوانے کی سہولت فراہم کر نے کا کام کرتے ہیں ۔ان میں سے متعدد ادارے وظائف دلوانے اور تعلیمی ویزہ دلوانے کا بھی کام کرتے ہیں ۔ن اداروں کے مالکان خود کو ان غیر ملکی اداروں کا نمائندہ ظاہر کر کے مختلف کورسز جیسے اے لیول ،بی اے آنرز ، اکاﺅنٹنگ ، بزنس ایڈمنسٹریشن ، قانون کی ڈگری ،ماسٹر ڈگری ،ڈاکٹریٹ ،انگلش زبان کے کورسز ، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبہ جات میں داخلے کے ساتھ وہاں کا ویزہ دلوانے کی گارنٹی بھی دیتے ہیں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مستقبل کی تلاش میں سرکرداں نو آموز طالب علموں کو اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں اور مشاورت کے نام پر ان سے ہزاروں روپے وصول کر کے مختلف نوعیت کے فارموں اور کاغذوں پر دستخط کروا لیتے ہیں اور جب ویزہ نہیں لگتا اور داخلہ نہیں ملتا تو یہ رقم طالب علموں کو واپس کرنے کی بجائے مشورہ فیس کہہ کر ہضم کر جاتے ہیں ۔ایسے ہی ایک شخص نے جیکب اینڈ ایسوسی ایٹس کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جسکا صدر دفتر فلیٹ نمبر108/1اولڈ کلفٹن کراچی میں کھولا اور فیصل آبادسرکلر روڈ کے علاوہ دیگر شہروں میں سب آفس قائم کیے اور ایک اشتہار کے ذریعے ہالینڈ میں حکومت کی طرف سے مختلف شعبوں جیسے سوشل سٹڈی ، رورل ڈویلپمنٹ اینڈ فزیکل پلاننگ ، ایڈوانس سٹڈی آف سائیل اینڈ ریسورسز ، ماسٹر آف ایڈ منسٹریشن سائینس ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ انوئرمنٹل پلاننگ اور نرسنگ اینڈ مڈ وائفری کورسز میں 240پاکستانیوں کیلئے وظائف کا اعلان کیا اور مزید اعلان سہولتوں اور پر کشش مراعات کا ذکر کیا اور پہلے آئے پہلے پائے کی بنیاد پر 7روز میں رابطہ کرنے کو کہا جس پر ملک بھر سے ہزاروں طالب علموں نے دفتر مذکور اور اس کی برانچوں سے رابطہ کیا ۔چنانچہ اس ادارے نے صرف سات دن میں ہزاروں طالب علموں کو ہالینڈ کے مختلف کالجوں اور اداروں کے داخلے فارم ، پراسپیکٹس اور دیگر فارم فروخت کیے اور مشاورت کے نام پر 30ہزار روپے سے لیکر60ہزار روپے تک وصول کیے۔جب یہ وظائف لینے کے خواہشمند طلبا ان کے فراہم کیے گئے کاغذات کے ساتھ ہالینڈ کے سفارت خانے ویزا کی درخواست جمع کروانے گئے تو وہاں پر انھیں یہ معلوم ہوا کہ حکومت ہالینڈ یا اسکی طرف سے کسی ادارے نے پاکستانیوں کیلئے کسی بھی قسم کے وطائف کا کوئی اعلان نہیں کیا اور جیکب اینڈ ایسوسی ایٹس کی طرف سے کیے گئے اعلان سے لاعلمی ظاہر کی ۔اس طرح روشن مستقبل کی امیدیں رکھنے والے طالب علم جب اس ادارے کے دفتر گئے تو انھوں نے دیکھا کہ دفتر کو تالے لگے ہوئے ہیں اور تمام لوگ روپوش ہو چکے ہیں ۔جس پر متعدد طالب علموں نے ایف آئی اے میں ان لوگوں کے خلاف درخواستیں دیں جس پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کر دی مگر ابھی تک کوئی بھی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔
تھانہ ایف آئی اے کے انچارج انسپکٹر گل صنوبر نے بتایا کہ جیکب اینڈ ایسوسی ایٹس نے بڑے منظم انداز میں صرف 7یوم میں سیکڑوں طالب علموں کو لاکھوں روپے سے محروم کر دیا جبکہ دوران انکوائری حکومت ہالینڈ نے اس ادارے سے لا علمی کا اظہار کر دیا ۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت لاہور میں ایسے بیسیوں ادارے قائم ہو چکے ہیں جو طلبا کو بیرون ملک تعلیمی کالجوں اور سکولوں میں داخلے کرواتے ہیں اور مشاورت کے نام پر لاکھوں روپے وصول کر کے ہضم کر لیتے ہیں جبکہ یہ افراد لوگوں کو ویزے دلوانے کا بھی کام کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ ایسے اداروں کے خلاف انکوائریاں شروع کر دی ہیں اور جلد ہی ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی اور جن اداروں کے خلاف باضابطہ درخواستیں مل چکی ہیں انھیں جلد ہی گرفت میں لے لیا جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ دراصل یہ لوگ انسانی سمگلر ہیں جنہوں نے انسانی سمگلنگ کیلئے اب یہ راستہ اختیار کر لیا ہے۔
شاہد حسن کھوکھر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اصل میں یہ لوگ انٹر نیٹ سے مختلف ممالک میں قائم کالجوں کی تفصیل اور داخلے کا طریقہ کار معلوم کر تے ہیں اور نیٹ کی مدد سے ان ممالک کی ویزا پالیسی معلوم کر تے ہیں اور پھر خود ماہر تعلیم اور ماہر ویزہ جات بن کر لوگوں کو ٹھگتے ہیں ۔یہ ادارے کسی بھی سرکاری محکمے سے منظور شدہ نہیں ہوتے البتہ کچھ ادارے بطور فرم کے رجسٹر ہوتے ہیں اور کچھ کمپنی کے طور پر اپنی رجسٹریشن کرواتے ہیں جبکہ چند ایک ادرے اپنے نام کا ٹریڈ مارک اور کاپی رائیٹ لیکر خود کو حکومت پاکستان کا منظور شدہ لکھ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ایسے اداروں کو بند کیا جانا ضروری ہے اور اس بارے میں قانون سازی کی بھی ضرورت ہے تاکہ سرکاری محکموں کا چیک قائم ہو سکے ۔
اسلام پورہ لاہور کے رہائشی محمد کلیم احمد نے بتایا کہ میرے دو بیٹے جنہوں نے حال ہی میں ایف ایس سی اور بی اے کا امتھان پاس کیا تھا انھوں نے مجھے بتایا کہ حکومت ہالینڈ نے پاکستانی طالب علموں کیلئے وطائف کا اعلان کیا ہے اور جس ادارے کی معرفت یہ طالب علموں کا انتخاب کریں گے ان کی فیس 30ہزار روپے ہیں چنانچہ میں نے دونوں بیٹوں کے مستقبل کیخاطر60ہزار روپے انھیں دے دیئے مگر جب میرے بیٹے اسلام آباد سے آئے اور بتایا کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے تو بہت مایوسی ہوئی ۔انھوں نے کہا حکومت کو ایسے اداروں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے تاکہ مزید عوام ان کے ہاتھوں لٹنے سے بچ جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s