آبادی کا عالمی دن


منصور مہدی

آبادی کا عالمی دن

آج آبادی کا عالمی دن ہے۔ یہ دن ہر سال 11جولائی کو 1989سے منایا جا رہاس ہے۔ اس سال کا موضوع صحت سے متعلق سہولتوں کا سب لوگوں تک پہنچانا ہے۔آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ جہاں دیگر مسائل پیدا ہو رہے ہیں وہاں سب سے اہم مسئلہ لوگوں کی اکثریت کا صحت کی سہولتوں سے محروم ہونا ہے۔ اس سال یہ دن اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے دنیا کی آبادی 7ارب ہو چکی ہے ۔عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی آبادی اس تیزی سے بڑھ رہی کہ جس تیزی سے وسائل مہیا نہیں ہو رہے۔ 1950میں 2.5ارب آبادی والی دنیا صرف چھ دہائیوں میں ہی 7ارب کا ہندسہ کراس کر گئی ۔اقوام متحدہ کے ادارے اقوام متحدہ کے ادارے یواین پاپولیشن فنڈ کے ماہرین کا کہنا کہ اس دن کے منانے کا مقصد آبادی پر کنٹرول نہیں بلکہ لوگوں میں یہ آگہی پیدا کرنا ہے کہ اگروسائل کی عدم موجودگی میں اسی تیزی کے ساتھ دنیا کی آبادی بڑھتی گئی تو آنے والی نسلوں کا کیا بنے گا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے بے شمار مسائل آبادی میں اضافے سے جڑے ہوئے ہیں ان میں سے ایک بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک کی فراہمی ہے۔علاج، رہائش، تعلیم اور دیگر بنیادی اشیاءجو بنی نوع انسان کے لیے ضروری ہیں۔ اگرچہ کچھ ممالک نے ذرائع ابلاغ اور میڈیکل سائنس میں ترقی اور تعلیم کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کے مسلے پر قابو تو پا لیا گیا مگر کئی عشروں کے بعد اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ممالک میں آبادی میں کمی آرہی ہے اور بوڑھے افراد کی آبادی دوسرے طبقوں کے مقابلے میں زیادہ ہو رہی ہے۔ مگر دوسری طرف دنیا بھر کی نصف آبادی ا یسے لوگوں کی ہے جو 25سال سے کم عمر ہیں۔غریب ممالک میں آبادی پر کنٹرول آسان نہیں۔ جبکہ انہی ممالک میں خواتین کے لئے صحت کی سہولتیں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا میں 31کروڑ مائیں بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی میں زچگی جیسے عمل سے سے گزرتی ہیں۔جبکہ 20کروڑ سے زائد مائیں اوسطً 4سے 6بار اس عمل سے گزر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ ترقی پذیر ممالک میں غیر مستحکم سیاسی نظاموں کی بنا پر آبادی سے متعلق معاملات کو ترجیح نہیں دی جاتی اور کچھ ممالک میں آبادی پر کنٹرول کے لئے پالیسی سازی میں روایتی اور مذہبی نظریات آڑے آتے ہیں۔ ایسے میں تعلیم اور طبی سہولتوں میں سرمایہ کاری ہی بہترین حل ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کا شکار ملک ہے۔ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی20کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ وسائل میں اسی شرح سے اضافہ نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا کہ نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ سماجی اور مذہبی جماعتوں کو بھی عوم میں یہ شعور پیدا کرنا چاہیے کہ بچے دو ہی اچھے۔

 

 

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s