آب گاہوں کا عالمی دن


منصور مہدی

آج 2فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں آب گاہوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ وزارت ماحولیات کے پاکستان ویٹ لینڈز پروگرام کے تحت اس حوالے سے مختلف انواع کے پروگرام ترتیب دئے گئے ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد لوگوں میں آب گاہوں سے متعلق معلومات، ان کو لاحق خطرات اور ان کی حفاظت کے مختلف طریقوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان ویٹ لینڈ پروگرام کے مطابق پاکستان میں پائی جانے والی آب گاہیں مختلف خطرات کی وجہ سے انحطاط کا شکار ہیں۔آب گاہوں اور ان سے ملحقہ علاقوں کا دوسرے مقاصد کے لیے استعمال ، دریاوں پر بند باندھے جانے اور پانی کے بہاو میں تبدیلی، نامیاتی اور غیر نامیاتی کثافت، ان علاقوں میں درختوں کی کٹائی سے ان کے ختم یا کم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
آب گاہوں کا عالمی دن (World Wetlands Day) ہر سال دنیا بھر میں ریمسر کنونشن (Ramsar Convention) کے تحت منایا جاتا ہے۔ 2فروری1971کو ایران کے شہر ریمسر میں منعقد ہونے والے عالمی کنونشن جس میں 95ممالک نے شرکت کی تھی میں دنیا بھر میں انحطاط پزیر ہونے والی آب گاہوں کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
پاکستان کی آب گاہیں پودوں کی وسیع اقسام، ریڑھ کی ہڈی، بغیر ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کی پرورش کرتی ہیں۔ یہاں پائے جانے والے جانوروں کی بہت سی قسمیں انحطاط کا شکار ہیں جن میں ممالیہ کی پانچ نسلیں، پرندوں کی نو نسلیں، رینگنے والے جانوروں کی چھ نسلیں اور مچھلیوں کی چھ قسمیں شامل ہیں۔ان میں قابل ذکر انڈس ڈالفن، پنجاب اڑیال، دلدلی مگر مچھ اور سبز اور زیتونی کچھوے شامل ہیں۔بہت سی اقسام کے ہجرت کرنیو الے پرندے بشمول سفید سر والی بطخ، سائبیریا کی مرغابی، سارس، بگلا، گریٹر فلمینگو اور پیلیکن پاکستان کی آب گاہوں کو سردیوں میں اپنے مسکن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
دلدل کے علاقے چاہے قدرتی ہوں یا مصنوعی، مستقل ہوں یا غیر مستقل جن میں پانی چاہے ساکن، رواں، تازہ یا نمکین ہو بشمول سمندری پانی کے وہ علاقے جن کی گہرائی چھ میٹر سے نہ بڑھے آب گاہیں کہلاتے ہیں۔ جھیلیں، نہریں، بند اور تالاب جو دریائے سندھ کے نہری نظام کی وجہ سے وجود میں آئے مصنوعی آب گاہوں کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ قدرتی آب گاہیں بیشک مستقل ہوں یا غیر مستقل، کائی زدہ علاقوں، دریاوں، ندیوں، جھیلوں، دلدلوں، کھاڑیوں کیچڑ زدہ علاقوں اور لہروں کے درمیانی علاقوں کی صورت میں پائے جاتے ہیں۔پاکستان میں مختلف اقسام کے ماحولیاتی خطوں میں پائی جانے والی آب گاہیں بنجر، نیم بنجرپہاڑی اور ساحلی علاقوں میں موجود ہیں۔
پاکستان میں 225قابل ذکر قدرتی اور مصنوعی آب گاہیں ہیں جو ملک کے کل رقبے کے دس فیصد پر مشتمل ہیں۔ان میں سے 112بڑی آب گاہیں ہیں جن میں آزاد کشمیر کی 10،بلوچستان کی 22، خیبر پختونخواہ کی 20، شمالی علاقہ جات کی 12،پنجاب کی 17،سندھ کی 30اور وفاقی دارلحکومت کی ایک آب گاہ شامل ہے۔جبکہ ریمسر کنونشن کے تحت صرف 19آب گاہیں محفوظ کی گئی ہیں ۔ جن میں بلوچستان کی آسٹولا آئی لینڈ، جیوانی کوسٹل آب گاہ،میانی ہور، اوڑمارا ٹرٹل بیچ، پنجاب کی چشمہ بیراج، تونسہ بیراج،اوچھالی کمپلکس، سندھ کی دیہہ آکرو II-، دریگ لیک، حالیجی لیک، حب ڈیم، انڈس ڈیلٹا،انڈس ڈولفن ریسروو، جوبھو لوگن، کنجہار لیک، نوری لاگون،رن آف کچھ، خیبر پختونخواہ کی ٹانڈہ ڈیم اور تھانیدار والا آب گاہ شامل ہیں۔
آب گاہیں کرئہ ارض کے قدرتی ماحولیاتی نظام کا ایک اہم پیداواری عنصر ہیں۔ آب گاہوں کی اقتصادی اہمیت کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میںموجود مچھلیوں کی بیس ہزار سے زائد اقسام میں سے تقریباًچالیس انہی آب گاہوں میں پائی جاتی ہیں۔ چاول، جو دنیا بھر کی لگ بھگ نصف آبادی کی خوراک کا ایک اہم ترین حصہ ہے، آب گاہوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔طبعیاتی، حیاتیاتی اور کیمیائی عناصر مثلاً زمین، پانی، نباتات، جنگلات و آبی حیات کا باہمی اشتراکِ عمل آب گاہ کو متعدد اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔سیلاب سے ہونے والی تباہی کے خطرات میں کمی، ساحلوں کے استحکام، ہوا کے دباو کو قابو میں رکھنا، موسم کو معتدل بنانا اور بارش کے برسنے میں معاون ثابت ہونا، پانی کے زمینی رساو سے زیرِ زمین پانی کو ری چارج کرنا اور اس کی سطح کو نیچے گرنے سے بچانا، پینے کے لیے زمین سے کھینچے جانے والے پانی کو معدنی عناصر سے بھرپور بنانا جیسی یہ بیش بہا خدمات آب گاہیں خاموش رہ کر سرانجام دیتی ہیں۔
ماحولیاتی نظاموں کی اقتصادی قدر کے تعین سے متعلق کی جانے والی بعض تحقیق سے اشارے ملے ہیں کہ کرئہ ارض کا ماحولیاتی نظام سالانہ 33 کھرب امریکی ڈالر مالیت کے مساوی خدمات فراہم کرتا ہے، جس میں آب گاہوں اور ان کے ماحولیاتی نظام کی خدمات کا کل حصہ4.5 کھرب امریکی ڈالر مالیت کا بنتا ہے۔ آب گاہوں کی معاشی خدمات اور تحفظِ ماحول میں ان کے کردار کے سبب اس وقت دنیا بھر میں بڑی تعداد میں سائنسدان اور ماہرینِ معیشت آب گاہوں کے ماحولیاتی نظام کی انسانوں کے لیے پیش کردہ خدمات پر تحقیق میں مصروف ہیں۔
آب گاہوں کے لیے پانی کی اہمیت بنیادی ہے، لیکن قلتِ آب کی درپیش صورتِ حال میں آب گاہوں کے پائیدار استعمال اور ان کے ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی کا فقدان بھی نظر آتاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آب گاہوں کے لیے تازہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے اور ان کے تحفظ کے لیے پائیدار استعمال کی پالیسی وضع کی جائے اور اس کا عملی نفاذ بھی ممکن بنایاجائے۔ نیز ملک میں پانی کی تقسیم کے ضمن میں دیگر تمام شعبوں کی طرح آب گاہوں کو بھی ایک شراکت دار تسلیم کیا جائے اور ان کی بقاکے لیے ماہرین کے تجزیے پر مبنی ایک ایسی کم ز کم مقدار کا بھی تعین کیا جائے جو ان کی بقا کے لیے درکار آبی ضرورت کو پورا کرتی ہو۔ اس مقصد کے لیے پہلے سے موجود قوانین میں ترامیم اور نئی قانون سازی جیسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s