عالمی سوچ کا دن


منصور مہدی

ہر سال22فروری کو دنیا بھر کی لاکھوں گرل گائیدز اور سکاﺅٹ ورلڈ تھنکنگ ڈے ( عالمی سوچ کا دن) مناتے ہیں۔ اس سال یہ دن ” ہم اپنے سیارے کو بچا سکتے ہیں "کے پیغام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ جواقوام متحدہ کی جانب سے میلینیم ڈویلپمنٹ کے اہداف میں بھی شامل ہے۔ جس کا مقصد اپنی زمین کو آلودگی سے بچانا ہے تاکہ بنی نوح انسان یہاں پر فطرت کے متعین کردہ ماحول میں ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔
گرل گائیڈز اور گرل سکاﺅٹ کی جانب سے زمین کو بچانے کی کوششیں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خواتین ہی وہ بنیادی کردار ہے جو اپنے گھروں کے ماحول کو صاف اور خوشگوار بنانے کے لیے زیادہ کوشاں رہتی ہیں چنانچہ زمین بھی جو انسانوں کا مسکن ہے کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے خواتین کی طرف سے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے ۔ کہ زمین پربسنے والے تمام جانداروں کے لیے فطری ماحول کو برقرار رکھا جائے ۔
1926میں امریکہ میں منعقد ہونے والی چوتھی عالمی گرل گائیڈز کانفرنس میں سوچ کا عالمی دن منانے کا فیصلہ ہوا۔ جبکہ تاریخ کا انتخاب بوائے سکاﺅٹ موومنٹ کے بانی لارڈ بیڈن پاﺅل اور پہلی ورلڈ چیف گائیڈ لیڈی بیڈن پاﺅل کے یوم پیدائش یعنی 22فروری کو رکھا گیا۔
گرل سکاﺅٹ کی عالمی تنظیم کی چیئرپرسن انا ماریہ کا کہنا ہے کہ اس سال ” ہم اپنے سیارے کو بچا سکتے ہیں "کا پیغام اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ چند سالوں سے ماحولیات اور اس سے متعلق مسائل دنیا میں ایک اہم موضوع بن گئے ہیں۔اب دنیا کا ہر شہری ان عوامل کے بارے میں جاننا چاہتا ہے کہ جن سے ماحولیات کو خطرات کا سامنا ہے۔ تمام دنیا کے لوگ توقع کرتے ہیں کہ ان کی حکومتیں اوزون کی تہہ کی بربادی جو کلورو فلورو کاربن گیسوں کی وجہ سے ہو رہی ہے، ماحول کی درجہ بدرجہ گرمی جو کہ گرین ہاوس سے خارج شدہ گرمی سے ظہور پذیر ہو رہی ہے، طویل مدت والے کیڑے مار دواوں کے فصلوں پر زہریلے اثرات اور بایوڈائیورسٹی یعنی مختلف اقسام کے زندہ اجسام کی تباہی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
معروف مفکر ایرن گوورسن کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کا ایک نیا رجحان فروغ پا رہا ہے لیکن سب سے پہلے اس حوالے سے ماضی کی مسلمان حکومتوں نے جو اقدامات کیے تھے انھیں دوبارہ رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "توحید ” یعنی تخلیق کی وحدانیت جو ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات میں تمام اشیاء ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں، اور چونکہ وہ سب خدا کی ذات کی نشانیاں ہیں اس لئے سبھی یکساں اہمیت اور قدر وقیمت رکھتی ہیں اور اس قابل ہیں کہ ان کی حفاظت کی جائے۔ اسی طرح "میزان” یعنی توازن قائم رکھا جا سکے گا۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابتدائی دور کے مسلمانوں کی باتوں اور افعال سے بھی ایسی مثالوں کا پتہ چلتا ہے کہ ہمیں قدرتی وسائل کے استعمال میں احتیاط اور کفایت سے کام لینا اور اپنے جانوروں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ یہ باتیں بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
ماہر سماجیات سیگرڈ نوکل لکھتے ہیں کہ ماضی میں مسلم ممالک میں ایسے قوانین اور ضوابط نافذ رہے ہیں جنہیں فطرت اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے مناسب سمجھا جاتا تھا۔ اب انہی ضوابط کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کرنی چاہیے ۔ان قوانین کے تحت چشموں اور ندی نالوں کے ارد گرد حفاظتی علاقے قائم کیے گئے تھے ۔ ان علاقوں میں کوئی بستی آباد کرنے وغیرہ کی اجازت نہیں تھی تاکہ پانی کو آلودہ ہونے سے بچایا جائے۔ تاہم اب مسلمانوں میں ایسی دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔
گرل گائیڈز کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ بنی نوع انسان بہت بڑی تعداد میں خطرناک کچرا کوڑا پیدا کرتے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ دانستہ اور نادانستہ طور پر صنعت اور عوام پیدا کرتے ہیں۔ ہر سال اس خطرناک کچرے کوڑے کی وجہ سے عوام لاتعداد بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خطرناک کیمیائی عناصر اور کیڑے مار دواوں کا استعمال نہ صرف انسانوں کے لئے متعدد بیماریوں کا سبب بنتی ہیں بلکہ جانوروں اور فصلوں کو بھی بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔ سب سے بڑی اور خطرناک پرابلم یا مسئلہ صنعتی اداروں اور فیکٹریوں کا خطرناک فضلہ دریاوں اور پانی کے نالوں میں ڈالنا ہے جس سے پینے کا پانی صحت کے لئے بے حد مضر ہو جاتا ہے اور عوام کی بہت بڑی تعداد خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر فوت ہو جاتے ہیں۔
گرل گائیڈز تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سال سوچ کے عالمی دن پر تمام دنیا کی خواتین کو یہ پیغام ہے کہ وہ اپنے گھروں کے ماحول کو صاف رکھ کرکے مردوں کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ سیارے کو آنے والی نسلوں کے لیے صاف رکھنے کے لیے اس جدوجہد میں عملی حصہ لیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s