سرطان کا عالمی دن


منصور مہدی

آج 4فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرطان کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تحت چارٹر آف پیرس کے مطابق دنیا بھر کے تمام رکن ممالک میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کی ابتدا یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول نامی ادارے نے 1933میں جینوا سے شروع کی۔ اس یونین میں 120ممالک کی سرطان کے خلاف کام کرنے والی460سے زائد تنظیمیں شامل تھیں جبکہ اب اس یونین میں 170سے زائد ممالک کی 2ہزار کے قریب تنظیمیں ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد سرطان کے پھیلا ﺅکے حوالے سے لوگوں کومعلومات اور احتیاطی تدابیر سے متعلق شعور اور آگاہی دینا ہے۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت، وفاقی وزارت صحت‘ صوبائی محکمہ صحت‘ کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور سرطان سے متعلقہ دیگر غیر سرکاری ادارے نے ملک کے مختلف شہروں میں خصوصی واکس‘ سیمینارز اور کانفرنسوں کا اہتمام کیا ہے۔ جس میں طبی ماہرین عوام کو کینسر کی مختلف اقسام‘وجوہات‘علامات‘ علاج معالجہ اور حفاظتی تدابیر سے متعلق آگاہ کریں گے۔
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق پاکستا ن میں ہر پانچ منٹ میں ایک، گھنٹے میں بارہ جبکہ چوبیس گھنٹوں میں288 افراد کینسر میں مبتلا ہو رہے ہیں۔پاکستان میں سالانہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میںہر سال 85ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیںجن میں40 ہزار خواتین بریسٹ کینسر اور 8ہزار بچے بھی کینسر کے مرض سے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔جبکہ دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ 20لاکھ سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے تقریباً 80 لاکھ مریض بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ کینسر کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں 70فیصد اموات کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ اسی تناسب سے پوری دنیا میں ہونے والی اموات میں کینسر سے ہونے والی اموات 23فیصد ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرطان کی بیماری جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اگراسی تیزی سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہا تو2015تک کینسر دنیا کی مہلک ترین بیماری بن جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹ کی تمام بیماریاں کینسرکاباعث بن سکتی ہیں جبکہ ماحولیاتی آلودگی، 10سے زائدبار ایکسرے یا الٹراساونڈ کروانے والے افراد کے جسم میں کینسرکے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔کینسر میں اضافے کے محرکات میں غیرمعیاری غذا کا استعمال، آلودگی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں کی آپس میں شادیوں کی روایت بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق کینسر کی ایک بڑی وجہ تمباکو نوشی بھی ہے جس سے منہ ،گلے ، پھیپھڑے ،خوراک کی نالی ،جگر ،معدے اور مثانے کا کینسر ہوتا ہے۔جبکہ بہتر خوراک اور رہن سہن ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے خواتین بھی کینسر میں مبتلا ہو رہی ہیں۔
منہ اور گلے کے سرطان کے حوالے سے ایک رپورٹ میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 98 فیصد آبادی منہ کے کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا ہوتی ہے۔ تقریباً 50 فیصد بچے دانتوں میں کیڑا لگنے کا شکار ہوتے ہیں۔ منہ کے سرطان کی ابتدائی علامات میں منہ کے اندر کی جلد کی رنگت کا تبدیل ہونا،کسی قسم کی گٹھلی کا بننا اور چبانے اور نگلنے میں تکلیف کا ہونا شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم بچوں کو ٹافیوں اور چھالیہ کے نام پر زہر فراہم کرکے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے بچوں کی صحت کو بھی خطرے سے دو چار کررہے ہیںکیونکہ یہ اشیاءنہ صرف بچوں کے منہ اور گلے کی تکلیف کا باعث ہیں بلکہ کینسر کے خطرات کی طرف پہلا قدم بھی ہے لہٰذا اپنے بچوں کو گھروں میں پکا ہوا کھانا کھلائیں اور حتیٰ الامکان باہر کی بنی ہوئی مضر اشیاءبالخصوص میٹھی چھالیہ اور غیر معیاری گولیاں ، ٹافیاں نہ کھانے دیں۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق کینسر کا مرض پاکستان میں بھی ایک خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے اور اس کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔لہذا عوام کو چاہئے کہ اس کی ابتدائی علامات میںعلاج کرائیں تاکہ مرض پر جلد سے جلد قابو پا یا جاسکے جبکہ حکومت بھی سرکاری لیول پر اس کے خاتمے کے لئے بھرپور کردار ادا کرے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص اور علاج سے کینسر سے بچا جا سکتا ہے۔ سرطان کے نباتاتی علاج کے سلسلے میں سینکڑوں جڑی بوٹیاں زیر تحقیق ہیں اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں۔ روزانہ ورزش اور بہتر غذا کے استعمال سے دنیا میں کینسر سے متعلقہ چالیس فیصد بیماریوں سے بچا و ممکن ہے۔ تمباکو نوشی سے پرہیز’ وقفے وقفے سے طبی معائنہ اور متوازن غذا کے علاوہ تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کینسرسے بچا ومیں اہم ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s