ماں بولی زبان


منصور مہدی

دنیابھر میں بولی جانے والی تقریباً 7000 زبانوںمیں سے 6000 زبانیں ختم ہونے کے قریب ہیں جبکہ گزشتہ تین صدیوں کے دوران دنیا کے مختلف حصوں خصوصاً امریکہ اور آسٹریلیامیںبے شمار زبانیں صحفہ ہستی سے مٹ چکی ہیں دنیا سے زبانوں کے ختم ہونے والے سلسلے کو روکنے کے لئے اقوام متحدہ کے یونیکسو کی جنرل کانفرنس کے 30 ویں اجلاس منعقدہ 1999 ءمیںمختلف خطوں میں مادری زبان کی حفاظت ترقی اور ترویج اور روایتی اور ثقافتی اقدار کو بچانے کے لئے ہر سال ملک میں انٹرنیشنل مدر لینگویج ڈے منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔جسکے 21 فروری کا دن چنا گیا کوئی بھی مادری زبان کسی شخص کی بچپن کی زبان ہوتی ہے جس کے ذریعے دنیا کا ہر بچہ اپنی زندگی کا پہلا لفظ بولتا ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اسی زبان کو اپنے والدین عزیز اقارب ، معاشرے، اپنی روایات وثقافت ، اخلاقی اقدار ،اور اپنے دین ومذہب کو سمجھتا ہے اصل میں مادری زبان کسی بھی شخص کی زندگی کا اہم حصہ ، پہچان اور شناخت ہوتی ہے یہی مادری زبان عملی زندگی میں آگے اور آگے بھڑھنے کے لئے زہن میں سوچ وبچار اور غور وفکر کے لئے کینوس کا کام دیتی ہے جس پر لکھ کر بلاآخر انسان چاند اور مریخ سے آگے بھڑھنے کی سوچ رہا ہے۔
7000 کے قریب زبانوں میں سے بیشتر ایسی ہیں جو بولی تو جاتی ہیں مگر تحریر میں نہیں آتیں ہر زبان اپنے مطالب اور گرائمر رکھتی ہے اور ہر زبان کی ادائیگی اور لہجہ بھی اور ہے یہ زبانیں زیادہ تر قوموں اور خطوں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں مگر کچھ ایسی زبانیں ہیں جو ایک سے زیادہ قوموں اور خطوں میں بولی جاتی ہیں جیسے انگریزی آجکل دنیا کے تمام خطوں میں موجود ہے۔انٹرنیشنل مدرلینگویج ڈے کی پہلی تقریب یونیکسو کے دفتر پیرس (فرانس) میں21 فروری 2000 ءکو منائی گئی جبکہ آج دنیا کے 188 ممالک میں اس دن کی مناسبت سے تقریبات ہو رہی ہیں جبکہ پاکستان میں پنجاب کے شہر دیپالپور میں بھی 17 فروری سے 22 فروری 2004 ءتک پنجاب لوک بولی میلہ کے نام سے تقریبات جاری ہیں جس میں گونگا سائیں اور ظہور سائیں جیسے پنجاب کی ثقافت کے علمبردار لوک فنکار بھی حصہ لے رہے ہیں ان تقریبات میں پنجابی زبان کی اہمیت اور اس کے ساتھ رکھے جانے والے ناروا سلوک پر سمینار ہونگے دنیا میں سب سے زیادہ تقریبات بنگلہ دیش میںمنائی جاتی ہیں یہ دن بنگلہ دیش میں قومی دنوں جیسی اہمیت کا حامل ہے 1952 میں پاکستان یانی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں اردو زبان کو قومی زبان کادرجہ دیا گیا تو اکثریتی آبادی کے حامل مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان کو قومی زبان قرار دینے کی عوامی تحریک چلی یہ تحریک زوردار اور پر اثر تھی چنانچہ21 فروری 1952 ءمیں بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میںیونیورسٹی اور کالجوں کے طلباءنے ایک ریلی نکالی جس میں پولیس کی فائرنگ سے پانچ طلباءہلاک ہو گئے جن میں عبدالبرکت ،رفیق الدین، شفیع الرحمن اور عبداسلام شامل تھے چنانچہ1952 کے بعد ہر سال مادری زبان بنگالی کو اس کا اصل مقام دلوانے کے لئے تقریبات ہونا شروع ہو گئیں جو بنگلہ دیش کے معرض وجود میںآنے کے بعد زور پکڑ گئیں اور اس طرح 21 فروری قومی دن کا درجہ اختیار کر گیا 1999 ءمیں بنگلہ دیش نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیکسو میںایک قرار داد پیش کی گئی جس کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر 6000 ہزار کے قریب مادری زبانوں کوبڑی زبانوں کے سامنے اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں پیش آنیوالی مشکالات کے حل کے لئے بین الاقوامی سطح پر مناسب اقدامات کرنا ہے چنانچہ اس قرارداد کی حمایت پاکستان بلکہ سعودی عرب ،مصر ، انڈونیشیا ، ملائیشیا ، ایران ، اومان ، آئیوریکوسٹ ، بھارت ، لیتھونیا ،سری لنکا ، روس ،فلپائن ، نیوگنی ، اور دیگر ممالک نے کی جس پر یونیکسو نے بنگلہ دیش کی طرف سے دی گئی تجویز اور 21 فروری کو انٹرنیشنل مدر لینگویج ڈے قرار دے دیا

Advertisements

ماں بولی زبان” پر ایک خیال

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s