صارفین کا عالمی دن


منصور مہدی

آج15مارچ کو پاکستان سمیت تمام دنیا میں صارفین کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔اس موقع پر صارفین کی مختلف تنظیموںکی جانب سے سیمینار اور واک کا انعقاد کیا گیا ہے۔اس سال یہ دن ” ہماری دولت ہمارے حقوق "کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔
صارفین کے حقوق کے حوالے سے پہلی بار آواز سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے 1963 میں امریکی کانگریس میں اٹھائی تھی۔ جبکہ 15 مارچ1983 سے عالمی یوم صارفین منانے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ صارف کے حقوق دراصل آٹھ چیزوں کا مجموعہ ہیں، جس میں اطمینان، حفاظت، انتخاب، معلومات، صحت مند ماحول اور شکایت کی صورت میں شنوائی اور ازالے کا حق شامل ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے حالات مخدوش ہیں یہاں صارف اپنے حقوق سے عمومی طور پر ناآشنا ہے۔ روزانہ خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کرنے والے کروڑوں صارفین کا قدم قدم پر استحصال ہوتا ہے لیکن لاعلمی کی وجہ سے وہ خاموش رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مالیاتی شعبے میں بینک کے ساتھ کھاتہ کھولتے ہوئے صارف جانے انجانے میں کتنی ہی چیزوں کے لئے حامی بھر لیتا ہے۔ ملک میں صارفین کے تحفظ کے لیے کنٹریکٹ ایکٹ، سیلز اینڈ گڈز ایکٹ سمیت دیگر قوانین توموجود ہیں لیکن بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظران میں ایک طرف ترمیم کی اشد ضرورت ہے تو دوسری جانب عملدرآمد کی۔
صارفین کے عالمی دن کے موقع پر صارفین تنظیموں کی جانبسے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت صارفین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے ۔اورغیر معیاری اشیاءکی فروخت کو نہ قابل معافی جرم قرار دیا جائے ۔ کنزیومرز رائٹس ایسا گلوبل ایشو ہے جس کی دنیا بھر میں اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے لیکن پاکستان میں اس ایشو کو نہ اہمیت دی گئی اور نہ ہی بہتر انداز میں اجاگر کیا گیا تاہم اب ملک کے بیشتر شہروں میں اگرچہ صارف عدالتیں قائم کی جا چکی ہے مگر لوگوں کو اس بارے میں آگاہی نہیں ہے اور پھر تعداد میں یہ عدالتیں بہت ہی محدود ہیں کہ جہاں پر ہر صارف کا پہنچنا دشوار ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ صارف کے حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے جانے کے اقدامات کیے جائے اورصارفین میں ان کے حقوق سے متعلق آگہی اور شعور پیداکیا جائے۔پرائس کنٹرول کی ذمہ داریاں مختلف محکموں کے پاس ہونے کے باعث بہتر نتائج بھی سامنے نہیں آرہے۔
صارف تنظیموں کا کہنا ہے کہ تمام صارف اپنے حقوق کے لئے متحد ہوجائیں،مہنگی اشیاءکی خریداری ترک کردیں،غیر معیاری اشیاءکی شکایات متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ضرور درج کرائیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ کمزور حکومتی اقدامات کے باعث مہنگائی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے جبکہ غیر معیاری اشیاءکی کھلے عام فروخت جاری ہے۔کمپنیوں کی جانب سے مصنوعات کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کردیا جاتا ہے اور حکومتی ادارے ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s