چڑیوں کی حفاظت کا دن


منصور مہدی
آج 20مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں چڑیوں کی حفاظت کا دوسراعالمی دن منایا جارہا ہے اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر میں گھروں کی خوبصورتی کا باعث بننے والی چڑیوں کی تیزی سے ختم ہوتی نسل کو بچانے کےلئے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔چڑیوں کی حفاظت کے عالمی دن کے موقع پر سماجی تنظیموں ،جانوروں کے حقوق کے سرگرم تنظیموں،مختلف کلبز ،یونیورسٹیز ،اسکولوں اور کالجوں میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائے گاجس میں خوبصورت پرندے چڑیوں کی بقا کےلئے آگاہی فراہم کی جائے گی۔
بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی،فصلوں پر زہریلی ادویات کے چھڑکاﺅاور کچے گھروں کی جگہ پکے مکانات کی تعمیر سے چڑیوں کے گھونسلے بھی ختم ہو گئے جب کہ ادویات کے چھڑکاﺅ اور شہری علاقوں میں موبائل فون ٹاورز سے نکلنے والی مہلک شعاعوں سے بھی چڑیوں کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
چڑیا، ایشیاء، یورپ اور افریقہ کے علاوہ دنیا کے سارے براعظموں میں پائی جاتی ہیں۔ جس کا تعلق پاسر ڈومیسٹیکس ( domesticus Passer) خاندان اور جماعت Aves سے ہے۔ برصغیر میں چڑیا ایک عام پرندہ ہے، جسے گھریلو چڑیا بھی کہتے ہیں۔عام طور پر یہ چڑیا، چھوٹی جسامت کی ہوتی ہے۔ ان کا رنگ گندمی-بھورا ہوتاہے۔ اس کی دم چھوٹی اور چوڑی ہوتی ہے۔ اس کی چونچ کافی مضبوط ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ دانے چگنے والے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑوں کوبھی کھاتے ہیں۔ ان کو گھریلو چڑیا اس لیے کہتے ہیں کہ یہ گھروں میں اپنا بسیرا کرتے ہیں۔
چڑیا اتنا عام پرندہ ہے کہ اس پر بچوں کی دلچسپ کہانیاں، نظم گیت وغیرہ بھی موجود ہیں۔ اور کئی فلموں میں بھی اس پر گیت سننے کو ملتے ہیں۔چھوٹے بچوں کی جماعتوں کی درسی کتب میں، “ننھی منی چڑیا“ نام سے متعدد اسباق بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
گھریلو چڑیاں عام طور پر ہجرت نہیں کیا کرتیں بلکہ یہ انسانی آبادیوں کے قریب ہی خود کو محدو رکھتی ہیں۔ بعض اوقات یہ آوارہ گردی یا خانہ بدوشی (nomadic) حالت میں دور تک نکل سکتی ہیں لیکن یہ مقامی نقل مکانی ہوتی ہے جس کا سبب خوراک کی تلاش ہوتا ہے اور اسے دیگر پرندوں کی دور دراز ہجرت میں شمار نہیں کیا جاتا۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت پرندوں کی 786 سے زائد نسلیں پائی جاتی ہیں، جن میں سے37 سے زائد نسلوں کو اپنی زندگی بچانے کے لالے پڑ چکے ہیں۔ پاکستان میں اس حوالے سے دیہاتوں کی نسبت شہروں کی صورت حال اس لئے بھی زیادہ خطرناک ہے، بہت سے ایسے پرندے جو صبح شام ہمیں اپنے گھروں میں نظر آتے تھے آج چند ایک باغات تک ہی محدود ہو کررہ گئے ہیں۔ انہی میں گھریلو چڑیاں بھی ہیں جن کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی فضائی آلودگی اور زہریلی ادویات کے استعمال کی وجہ سے ہے۔
چڑیوں کی نسل معدوم ہونے کے سماجی اسباب بھی ہیں مثلاً خوش خوراک حضرات کا پرندوں کے علاوہ چڑیا اورچڑے تناول فرمانے کا شوق ہے۔ اس مقصد کیلئے شکاری حضرات زندہ چڑیاں پکڑ کر شوقین افراد کو فروخت بھی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ شہروں میں چڑیوں کی نسل میں کمی کی ایک بڑی وجہ درختوں کا کم ہونا بھی شامل ہے۔جدید دور میں وسائل نے جہاں انسانوں کو سہولیات بخشی ہیں وہیں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے قدرتی ماحول کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s