گردے کا عالمی دن


منصور مہدی

آج 8مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کل گردے (کڈنی) کا عالمی دن منایا گیا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 50 کروڑ افراد گردے کے ا مراض میں مبتلا ہیں جن میں سالانہ 8 فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین طب کے مطابق گردوں کے بیشتر امراض کی بنیادی وجہ بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں اضافہ ہے۔عالمی اداہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد بلڈ پریشر اور25 کروڑ سے زائد شوگر کے مرض کا شکار ہیں۔
دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے اس مرض کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہی دینے کے لیے انٹر نیشنل سوسائٹی آف نیفرالوجی اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف کڈنی فاﺅندیشن نے اس دن کی ابتدا 2006میں کی۔اس تنظیم میں دنیا کے 126ممالک کے 9000ہزار سے زائد طبی ماہرین شامل ہیں۔
محکمہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابقپاکستان میںدو کروڑکے قریب افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایسے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 15 سے 20زائد کا اضافہ ہو رہا ہے۔کیونکہ ملک میں اوسط20 لاکھ کی آبادی کیلئے گردوں کا صرف ایک ڈاکٹر ہے جس کے باعث اکثر افراد اس مرض کی تشخیص سے محروم رہتے ہیں اورعلاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔گردے کا مرض عام طور پر30 سے40 برس کی عمر میں ہوتا ہے تاہم طبی رپورٹوں کے مطابق اب یہ مرض بچوں میں بھی ہونا شروع ہوگیا ہے۔ خواتین میں دوران زچگی خون کی کمی کے باعث بھی گردے فیل ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مختلف درد کی ادویات بھی گردوں کے مرض کا سبب بنتی ہیں۔
رواں برس گردوں کے عالمی دن کا موضوع تھا کہ ‘زندگی کی حفاظت کے لیے گردہ عطیہ کریں’۔ گردوں میں خاموشی سے بڑھنے والے اس مرض میں گردے خون سے زہریلے اور فاضل مواد کو خارج کرنے کی صلاحیت بتدریج کھو دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مرض ایسے شخص کو بھی ہو سکتا ہے کہ جس کے خاندان میں کسی کو یہ بیماری رہی ہو۔اس مرض کی تشخیص نہ ہونے کی صورت میں گردے بتدریج کمزور ہو جاتے ہیں اور بالآخر ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ڈائی لیسس یا گردوں کی پیوند کاری کی ضرورت پیش آ تی ہے۔اس بیماری کے باعث دل اور شریانوں کی بیماری کے خطرے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے طبی معائنہ اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس بیماری کی پیچیدگیوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔ جن میں مثلاًخون میں شکر کی مقدار کو معمول کی سطح پر رکھنا، بلڈ پریشر چیک کروانا، سگریٹ نوشی ترک کرنا ، جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ اور وزن میں کمی شامل ہیں۔بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر رکھنے میں کم نمک والی خوراک مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں گردوں کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس خاموش وبا پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔ ان امراض کے علاج کے اخراجات سرکاری اداروں پر بوجھ اور بہت سے والدین کی استطاعت سے باہر ہیں۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ طویل المدتی علاج کے بجائے جلد تشخیص اور بچاو کی حکمت عملی اختیا ر کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں گردے کی پیوندکاری شامل ہے۔
اس مقصد کے لیے دنیا کے اکثر ممالک میں قانون کے مطابق عطیہ کی صورت میں حاصل کردہ گردے کی مریض کے جسم میں پیوند کاری کی اجازت ہے لیکن سرعام بیچنا ممنوع ہے۔ لیکن پاکستان میں قانون موجود ہونے کے باوجود گردوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ گذشتہ چند سال قبل تک گردے بیچنے کا کاروبارایک منظم صورت اختیار کرچکا تھا لیکن 2009میںپاکستان کی قومی اسمبلی سے ”انسانی اعضا کی فروخت اور غیر قانونی پیوند کا ری“ سے متعلق قانون متفقہ طور پر پاس ہوا جس کے تحت انسانی اعضا کی فروخت اور غیر قانونی پیوند کا ر ی کرنے والوں کو 10 سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا دی جاسکے گی اور اس غیر قانونی دھندے میں ملوث ڈاکٹروں کے لائسنس بھی منسوخ ہوں گے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s