پانی پانی پانی


منصور مہدی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 93 ویںاجلاس منعقدہ 22 دسمبر1992 کوایک قرار داد پر فیصلہ کرتے ہوئے ہر سال دنیا بھر میں 22 مارچ کو (ورلڈڈے فار واٹر) کے طور پر منانے کا فیصلہ ہوا اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے ماحولیات و ترقی کی تصدیق وتائید کے بعد 1993 میں پہلی بار 22 مارچ کو پانی کا دن منایا گیا اور فیصلہ ہوا ۔کہ ہر سالدنیا بھر میں پانی کی اہمیت اسکی ضرورت پانی کے وسائل کی ترقی اور اس کو ذخیرہ کرنےکی ضرورت کے بارے میں بذریعہ تحریری لٹریچر ،دستاویزی فلموں، گول میز کانفرنسوں، اورسمینارز منعقد کر کے لوگوں کو شعورو آگاہیدی جائے اسمقصد کے لئے یو این سی ای ڈی(یونائیٹڈ نیشن ان انوائرمنٹ اینڈ ڈویلمپنٹ ) کا اجلاس برے یل میں تین جون 1992 سے14 جون 1992 کو منعقد ہوا تھا جس میں 178 ممالک کے نمائیندوں نے شرکت کی تھی چنانچہ یو این سی ای ڈینے اپنی دستاویز کے باب 18 میں ایجنڈا نمبر 21 شامل کیا جس میں پانی سے متعلق ایک مکمل اور جامع پروگرام دیا گیا یہ پروگرام نہ صرف بین الاقوامی بلکہ ملکی اور علاقائی سطح پر محیط ہے یو این سی ای ڈی کے اس پروگرام پر علمدر آمد اور نگرانی کے لئے سی ایس ڈی کے نام سے ایک کمیشن بنایا گیا اس سال 22 مارچ2004 کو اقوام متحدہ ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر پانی اور آفات کے حوالے سے خصوصی پروگرام شروع کر رہی ہے تاکہ پانی سے آنے والی آفات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے اوراسے ذخیرے میںمحفوظ کر کے تباہی کے بجائے تعمیری ترقی کی طرف بڑھا جا سکے اس مقصد کے لئے انٹرنیشنل ہائیڈرو لو جیکل پروگرام ( آئی ایچ پی ) بنایا گیا جو گلو بل ہائیڈرجیکل اور بائیو کمیکل کے باہمی عمل اور اس سے ہونے والے نقصانات ، زمین پر پائے جانے والے پانی کے قدرتی وسائل ان سے ہونے والے نقصانات اور انھیں محفوظ رکھنے کے لئے ذخیرے بنانے اور زیر زمین پانی کے ذخائر کا محفوظ استعمال جیسے آٹھ نکات پر مشتمل ہے۔پانی نہ صرف انسان بلکہ جانور ، پودے ،پھل پھول، فصلیں، اور زمینوں کے لئے انتہائی ضروری ہے اس کے بغیر انسان چنددن میں ہی موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے اور پانی کے بغیر زندگی بنجر اور بے آبادہو جاتی ہے جانور اور پودے اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے پانی زندگی کا ایک نا گریز حصہ ہے کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کاپانی سے بہت گہرا تعلق ہے بارش، طوفانوں ، چشموں، ندی نالوں، اور دریاﺅں کے پانی کو محفوظ کر کے اور اسے اپنی ضرورتوں کے مطابق استعمال کر کے اس سے فصلیں اگا کر اور بجلی بنا کر ملک کی ترقی کو دو چند کیا جا سکتاہے جبکہ یہی بے قابو پانی دنیا میں نہ صرف انسانی جانوں بلکہ اربوں ڈالر کا مالی نقصان پہچانے کا سبب بن رہاہے دنیا کا ہر ملک پانی کو محفوظ بنانے اور اس کے مناسب استعمال کے لئے سر گرم عمل ہے ہر ملک میں کئی محکمے اسی مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں پاکستان میں1964 میں پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسوس،، قائم کی گئی ہے جس آئی ڈی ایف سی آر سی ( ایریکیشن ، ڈرینج اینڈ فلڈکنٹرول ریسرچ کونسل) کے نام سے اپنے کام کا آغاز کیا یہ محکمہ وزارت قدرتی وسائل کے ما تحت بنایاگیاتھا جو1970 ءمیں وزارت سائنس و ٹیکنا لو جی کو دے دیا گیا جس کا نیا نام پی سی آر ڈبلیوآر ( پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسوس ) رکھا گیا یہ ایک وفاقی سطح کا قومی ادارہ ہے جو ملک میں مو جود تمام آبی وسائل کو محفوظ کرنے اور اسے ترقی دینے سے متعلق پروگرام تشکیل دیتا ہے اس ادارے کا سربراہ چیئر مین ہوتا ہے جسے وزارت کی طرف سے تین سال کے لئے لگایا جاتا ہے بارش گلشیئرز ، دریا ، چشمے، ڈیم، پہاڑی، ندی نالے، اور زیر زمین پانی پاکستان کے پانی کے وسائل ہیں ہر سال دسمبر ، جنوری اورجولائی سے ستمبر تک بارشوں کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری رہتا ہے ہر سال شمالی اور وسطی علاقوں میں750 ملی مٹیربارشیں ہوتی ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں 100 ملی میٹر بارشیں ہوتی ہیں سردیوں میں یورپ سے آنےوالے بادل اور ٹھنڈی ہوائیں جو ترکی ، اور افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں بارش کا سبب بنتے ہیں جبکہ گرمیوں میں خلیج بنگال کا مون سون بھارت سے گزر کر پاکستان میں بارشوں کا باعث بنتا ہے 1990 ءسے1999 ءتک دس سالوں میں راولپنڈی میں 1326 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ بہاولپور میں 183 ملی میٹر ، ڈیرہ اسماعیل خان میں 310 ملی میٹر ، حیدرآباد میں147 ملی میٹر ، جیکب آباد میں 130 ملی میٹر ، کراچی میں155 ملی میٹر، لاہور میں 724 ملی میٹر ، ملتان میں 247 ملی میٹر ، پشاور میں 528 ملی میٹر ، کوئٹہ میں276 ملی میٹر ، اور ژوب میں 346 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی پاکستان کا شمالی حصہ سارا سال بارش سے ڈھکا رہتا ہے اس علاقے کے گلیشئر دنیا کے بڑے گلیشئروں میں شمار ہوتے ہیں قدرت کی طرف سے عطا کیے گئے انہی گلیشئروں کی بدولت ہمارے دریا بہتے رہتے ہیں پاکستان میں پانی کو محفوظ کرنےکی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے پاکستان بننے سے پہلے اس علاقے میں صرف تین چھوٹے ڈیم تھے جس میں بلوچستان کا1890 میں تعمیر کردہ خوشدل کان ڈیم اور 1945 میں بنائی گئی سپن کاریز شامل ہیں جبکہ پنجاب میں میانوالی کے قریب 1913 کا تعمیر کردہ نامل ڈیم تھا پاکستان بننے کے بعد 1955 میںڈیموںکی تعمیر کا آغاز وارسک ڈیم کی تعمیر سے شروع ہوا اور جب بھارت نے پاکستان کے سب سے بڑے نہری نظام کو پانی کی سپلائی روک دی تو منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم تعمیر کیے گئے پاکستان میں زیر زمین بھی پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں پنجاب کے 79 فیصد رقبہ کے نیچے صاف اور تازہ پانی ہے جو پینے اورفصلوں کے لئے استمعال ہو سکتاہے جبکہ دیگر علاقوں میںنمکین اور کھارا پانی ہے پنجاب میں متعدد جگہوں پر پہاڑی نمک کے قدرتی سلسلوں کی وجہ سے وہاں زیر زمین گزرنے والا پانی نمکین ہو جاتا ہے یہ پینے اور پھلوں کے استمعال میں نہیں آتا سندھ کے تقریبا 28 فیصد رقبے کے نیچے صاف اور تازہ پانی موجود ہے جو نہ صرف پینے اور فصلوں کے کام آتا ہے بعض جگہوں پر زیر زمین پانی انتہائی بلند سطح پر ہے کہ جس کی وجہ سے زمینیں سیم اور تھور کا شکار ہو رہی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر زیر زمین پانی اتنا گہرا ہے کہ وہاں سے اس کو نکالنا بہت مشکل ہے کچھ ایسی صورت حال صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھی ہے پانی سے متعلق پروگراموں پر حکومت پاکستان نے 1955-60 تک0.97 بلین روپے خرچ کیے جبکہ 1960-65 تک 4.6 بلین روپے 1965-70 تک4.51 بلین روپے 1970-75 تک 12.81 بلین روپے 1975-80 تک 15.77 بلین روپے 1980-85 تک 22.02 بلین روپے 1985-90 تک28.4 بلین روپے 1990-95 تک55.6 بلین روپے خرچ آچکے ہیں1995-2001 تک 26.02 بلین روپے خرچ آچکے ہیں پاکستان کے بڑے بیراجوں میں چشمہ گدو جناح کوٹری، سکھراور تونسہ شامل ہیں جبکہ پانی سے متعلق پاکستان میں رائج الوقت قوانین شامل ہیں کینال انیڈ ڈرینج ایکٹ 1873 ،انڈس ریور سسٹم اتھارٹی آرڈیننس1992 ، ٹییر نیوریل واٹر انیڈ میری ٹائم زونز ایکٹ1976 ،ویسٹ پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ1958، ویسٹ پاکستان واٹر اینڈپاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ترمیم شدہ) ایکٹ1964 ، ویسٹ پاکستان واٹراینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ترمیم شدہ) ایکٹ1967 ، ویسٹ پاکستان واٹر اینڈپاور ڈویلپمنٹ بورڈرولز1965-66 ءکراچی واٹر مینجمنٹ بورڈ آرڈیننس 1981 ، کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ 1991 ، کراچی بورڈاینڈ سوریج بورڈایکٹ 1996 ،کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1994 ، سندھ ایرکیشن ایکٹ 1879 ، سندھ ایریکشین (ترمیمی ایکٹ) 1976 سندھ ایریکشین (ترمیمی) آرڈیننس1984 سندھ ایریکیشن (ترمیمی) آرڈیننس1999 سندھ کینال واٹر فلیٹ ریٹ رولز 1972 سندھ ایریکیشن واٹر یوزر ایسوی ایشن (ترمیمی) آرڈیننس1984ئ، ویسٹ پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ترمیمی) ایکٹ1967 ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s