بک ڈے


منصور مہدی

23 اپریل شہرہ آفاق ادیب ولیم شیکسپیئر کا یوم پیدائش اور یوم وفات ہے، اسی مناسبت سے آج کے دن کو بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔آج کا دن کتاب کے ساتھ ساتھ کاپی رائٹ ایکٹ پر عملدرآمد کیلئے بھی منایا جاتا ہے، یہ ایکٹ بھی ہمارے ملک میں موجود دوسرے بے شمار قوانین کی طرح موجود تو ہے تاہم اس پر عملدرآمد کیلئے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کتب بینی علم کا منبع ہی نہیں جدید اطلاعات تک رسائی اور مثبت تفریح کا بھی سب سے اہم ذریعہ ہے لیکن اب انسان کی تنہائی کی ساتھی کتاب آج خود تنہائی کا شکار نظرآتی ہے۔ لوگوں میں مطالعے کے شوق کی کمی نے اس کی اہمیت کم کر دیاہے۔
پاکستان میں اب صرف 27 فیصد لوگ کتب بینی کے شوقین ہیں ۔ تاہم دانشور لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یلغار کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی اور مطالعے میں کمی کی بڑی وجہ کتاب کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مطالعے کا شوق تو ہے مگر کتاب اب عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہے۔
اس دن کی ابتدا 1616 میں سپین کے شمال مشرق میں واقع علاقہ کیٹولینیا سے شروع ہوئی ۔جہاں ہر سال 23 اپریل کو سپین اور یورپ کے مختلف علاقوں کے لوگ اکٹھے ہوتے ۔یہ تقریبات دو دن تک جاری رہتی ۔ اس دوران جگہ جگہ مشہور ناول ڈان کیہوٹی کے حصے، شیکسپئر کے ڈرامے اور دوسرے مصنفوں کی کتابوں کے حصے پڑھے جاتے ۔ پھر یہ تقریب سپین کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلتی گئی اور آہستہ آہستہ یہ روایت ورلڈ بک ڈے کی شکل اختیار کر گئی۔ 1995میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونسکو کی جنرل کونسل کا فرانس میں اجلاس ہوا تو اس نے 23 اپریل کو ‘ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹس ڈے‘ قرار دے دیا اور اب یہ دن کتابوں اور جملہ حقوق کی حفاظت کے عالمی دن کے طور پر دنیا بھر میں منایا جانے لگا ہے۔اس حوالے سےہر سال کسی ایک شہر کو کتابوں کا عالمی دارالحکومت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس سال کا دارالحکومت آرمینیا کا شہر Yerevan ہے۔
پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت سے کتابوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام ہوتا ہے۔ کتابوں کی نمائشیں، سمینار، سمپوزیم کے ذریعے کتب بینی کے شوق کو پروان چڑھانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
کتابیں اور کتب خانے دو لازم و ملزوم ہیں جو کسی بھی معاشرے کی تربیت اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی موجودگی اور عدم موجودگی کسی بھی قوم کے تہذیبی رجحانات اور ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان میں لائبریریاں نہ تو کبھی کسی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہیں اور نہ ہی عوامی حلقے ان کی اہمیت کا اندازہ کرپائے۔ 18 کروڑ سے زائد کی آبادی کے اس ملک میں عالمی معیار کی کسی لائبریری کی موجودگی تو کجا ، مقامی افراد کی طلب پوراکرنے کی صلاحیت کا حامل کوئی کتب خانہ بھی دستیاب نہیں۔
پاکستان کے اندر آج اگر دوچار اچھی لائبریریاں نظر آتی ہیں تو یہ بھی انگریزوں سے ورثے میں ملی ہیں کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی لائبریریوں کے معاملے میں اسی مقام پر کھڑے ہیں جس مقام پر ہم 14اگست 1947 کے دن کھڑے تھے ہم نے اس معاملے کو سنجیدگی سے کبھی لیا ہی نہیں ہم نے لائبریریوں کو سائنسی خطوط پر چلانے کی کوئی کوشش نہیں کی جس تعداد میں ہم کو ملک بھر میں لائبریریوں کا جال بچھانا چاہئے تھا وہ ہم نے نہیں بچھایا جس تعداد میں ہم نے تربیت یافتہ لائبریرینز پیداکرنے تھے وہ ہم نے پیدا نہیں کئے۔
اگر لاہور کو دیکھا جائے تو یہاں پر چند ایک ہی معروف کتب خانے ہیں جو انگریز دور کے بنے ہوئے ہیں۔ ان میں دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری ہے جو1908میں لاہور کے ایک شہری سردار دیال سنگھ مجیٹھیا کی وصیت پر اس کے لواحقین نے بنائی، پنجاب یونیورسٹی لائبریری کا قیام1873میں عمل میں آیا۔ یہ کتابوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری ہے جہاں پر 4لاکھ سے زائد کتب موجود ہیں۔ پنجاب پبلک لائبریری 1884میں بنی ، اس کا شمار بھی بڑی لائبریریوں میں ہوتا ہے، یہاں پر3لاکھ50ہزار کے قریب کتب ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لائبریری جس کا قیام1872میں عمل میں آیا۔ایوننگ لائبریری ( ایف سی کالج لائبریری) کا قیام بھی پاکستان بننے سے پہلے1943میں عمل میں آیا ، یہاں پر ایک لاکھ سے زائد کتابیں موجود ہیں، قائد اعظم لائبریری جو جناح باغ ( لارنس گارڈن) میںواقع ہے کا قیام1984میں آیا یہاں پر 1لاکھ سے زائد کتب موجود ہیں۔ جبکہ ایک لائبریری ماڈل ٹاﺅن لائبریری ہے جو1986میں بنائی گئی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s