ایجادات کا عالمی دن


منصور مہدی
آج سائنسی ایجادات اور تخلیقات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی میں مزید نئی ایسی چیزوں کی ایجاد کرنا ہے کہ جس سے بنی نوع انسان کو فاہدہ پہنچے ۔یہ دن پہلی بار21اپریل 2002میں میں منایا گیا۔ جبکہ 2005سے ایجادات و تخلیقات کا ہفتہ بھی منایا جاتا ہے۔
اللہ تعالی نے علم کی بنا پر ہی انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے اور اسی علم کی بنا پر انسان نے دنیا میںبہت زیادہ ترقی اور عروج حاصل کیا ہے۔ انسان نے اپنے علم کی بدولت دنیا کو حیرت کدے میں بدل دیا ہے اور ایسی ایسی چیزیں ایجاد کی ہیں کہ عام آدمی کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔ پرانے زمانے کی انسان اور آج کے انسان کی زندگی میں ایک واضع فرق آ چکا ہے ۔ اگرچہ علم کے غلط استعمال کی وجہ سے انسانوں کو نقصان بھی بہت پہنچا ہے۔لیکن اس نے فاہدہ بھی بہت پہنچایا ہے۔ انسان کی طب، زراعت، مواصلات میں نئی ایجادات نے نہ صرف بیشتر بیماریوں کا علاج دریافت کیا بلکہ خوراک و زراعت میں ایک نئی جہت متعارف کروائی اور مواصلات کی ترقی نے ایک بہت بڑی دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں بدل دیا۔
پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں اس دن کے منانے کی اہمیت اس لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ مسلمانوں نے اللہ کے دیے ہوئے علم سے اب فاہدہ اٹھانا چھوڑ دیا ہے جبکہ 7ویں صدی سے 17صدی تک مسلمانوں نے اس علم کی بدولت بے بہا اشیاءایجاد کیں مگر اب اس علم کا استعمال اغیار کر رہے ہیں۔ اگرچہ علم کا تعلق کسی مذہب یا قبیلے سے نہیں لیکن مسلمان ہونے کی ناطے علم کی افادیت اور بڑھ جاتی ہے۔
گذشتہ برس نیویارک کے نیویارک ہال آف سائنس اینڈ کوئینز میں منعقدہ ایک نئی نمائش میں 1001 ایجادات رکھی گئیں جو 7ویں سے 17ویں صدی عیسوی کے درمیان ایک ہزار سال پر محیط اسلام کے ‘سنہرے دور میں ایجاد ہوئیں۔یہ نمائش ایک علمی تنظیم ‘فاونڈیشن برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور تہذیب’ نے منعقد کی تھی ۔اب یہ نمائش 2012 کے آخر میں واشنگٹن کے نیشنل جیوگرافک میوزیم میں ہو گی ۔ ‘فاونڈیشن برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور تہذیب’کا کہنا ہے کہ اس نمائش کا مقصداغیار کو یہ احساس دلانا ہے کہ مشرق ومغرب کے درمیان موجود آج کے اختلافات کو پس پشت ڈال سکتے ہیں کیونکہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو عظیم ترین ایجادات آج بھی ہمارے استعمال میں ہیں وہ دنیا بھر کے سائنسدانوں کی مشترکہ محنت سے وجود میں آئی تھیں۔جبکہ نمائش میں رکھی گئی اشیاءشائقین کو نہ صرف یہ بتاتی ہیں کہ سائنسی ایجادات کس طرح کام کرتی ہیں بلکہ مسلمانوں کے بارے میں ان دقیانوسی تصورات کو بھی چیلنج کرتی ہیں جو اپنی قابلِ نفرت کارروائیوں کا تعلق اسلام کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
پاکستان میں بھی ذہانت کی کمی نہیں ہے لہذا اس دن اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ علم کی بدولت ہمیں ابھی پاکستان کو مزید عروج پر پہنچانا ہیں اور بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنا ہے۔ جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم کو حاصل کرنے کے لیے مزید تعلیمی ادارے قائم کرنے ہیں جن میںمیرٹ پر آنے والے ہر شہری کی پہنچ کو یقینی بنانا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s