ہیمو فیلیا کا عالمی دن


منصور مہدی
آج ہیمو فیلیا کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں17ہزار افراد اس مہلک مرض میں مبتلا ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمو فیلیا خون کی ایک جینیاتی بیماری ہے۔ میڈیکل اصطلاح میں ہیمو فیلیا کی بیماری تین اقسام کی ہوتی ہے جنہیں ہمیو فیلیا اے ، ہمو فیلیا بی اور ہمو فیلیا سی کہا جاتا ہے۔بنیادی طور پر اس بیماری سے متاثرہ افراد میں ایسے پروٹین کی کمی ہوتی ہے جو کہ خون جمانے کے عمل میں کلیدی کردار اداکرتے ہیں جس کی وجہ سے مرض میں مبتلا افراد کو معمولی چوٹ یا زخم لگ جانے کی صورت میں خون بہنے لگتا ہے اور وہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہیموفیلیا دراصل ایکس لنکڈ بیماری ہے یعنی اس کی جین بچے ماں سے حاصل کرتے ہیں اور یہ بیماری صرف لڑکوں میں منتقل ہوتی ہے۔ ہیمو فیلیا کا عالمی دن ہر سال 17اپریل کو ورلڈ فیڈریشن آف ہمیوفیلیا اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام منایا جاتا ہے۔ عالمی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق یہیموفیلیا اے ہر پانچ ہزار میں سے ایک فرد جبکہ ہیموفلیلیا بی ہر پچاس ہزار میں سے ایک فرد کو ہوسکتا ہے۔ جبکہ کالی نسل (افریقی) کی نسبت گوری نسل میں یہ بیماری زیادہ پائی گئی ہے۔ ایک لاکھ افریقیوں میں 11افراد اور ایک لاکھ امریکیوں میں 13.2افراد کو یہ بیماری لاحق ہے جبکہ ہیموفیلیا سی صرف یہودی نسل میں پائی جاتی ہے۔
پاکستان کے بیشتر حصوں میں ہیمو فیلیا کی تشخیص کے لیے نامکمل سہولیات اور تربیت یافتہ افراد کی کمی کے باعث اس بیماری کی صحیح تشخیص نہیں ہوپاتی، جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کا درست علاج ممکن نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں متاثرہ بچوں کا علاج پلازمہ ایف ایف پی جو کہ خون کا ایک جزو ہے، سے کیا جاتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے محفوظ خون جو کہ ہیپا ٹائٹس بی، سی ، ایڈز،اور ملیریا جیسی مہلک اور منتقل ہونے والی بیماریوں سے پاک ہو، کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہیمو فیلیا سے متاثرہ افراد میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ دیگر ممالک میں ہمو فیلیا کے مریض کو فیکٹرز کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں جوکہ محفوظ ہیں، ان انجیکشن کے ذریعے دیگر جراثیم یاانفیکشن منتقل ہونے کے امکانات 90فیصد سے بھی کم ہو جاتے ہیں۔لیکن علاج مہت مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب مریض علاج سے محروم رہتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیمو فیلیا کے مرضکے بارے میںعدم آگاہی کی وجہ سے یہ طبی مسئلہ ایک معاشرتی مسئلہ بن جاتا ہے اور درست تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے تمام بیماریوں کو ہیمو فیلیا کہہ دیا جاتا ہے اور خاندانوںمیں نا چاقیاں اور بعض حالات میں طلاق تک دے دی جاتی ہے۔ چنانچہ سرکاری سطح پر اس مسئلے کا سنجیدہ حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی بیماریوں کے لیے نیشنل رجسٹری قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے جبکہ مرض کی درست تشخیص کے لیے سرکاری سطح پر مشینریز اور تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے ۔خون کی بیماریوں کے لیے تما م صوبوں میں یونیورسٹیز کی سطح پر ڈپلومہ اور ڈگری پروگرامز تربیت دیے جائیں ،پورے ملک میں یکساں محفوظ خون جو کہ ہیپا ٹائٹس بی ، سی، ایڈز، سفلس اور ملیریا جیسی مہلک بیماریوں سے پاک ہو’کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s