بے گھر بچوں کا عالمی دن


منصور مہدی
 آج پاکستان سمیت دنیا بھر بے گھر بچوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس کا آغاز پہلی بار 2011میں کنسورشیم فار سٹریٹ چلڈرن نامی تنظیم نے لندن میں کیا۔ اس تنظیم میں دنیا کے 32ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ اس دن کے منانے کا مقصد ان بے گھر بچوں کو بھی دیگر بچوں جیسی آسائشیں مہیا کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 100ملین سے زائد بچے آوارگی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان میں بیشتر بچے والدین کے فوت ہونے کے بعد بے سہارا ہو کر گھروں سے نکل پڑتے ہیں جبکہ غربت کے مارے خاندانوں کے بچے ایک وقت کی روٹی نہ ملنے کے سبب روٹی روزی کے چکر میں گھروں کو خیرباد کہہ دیتے ہیں جبکہ بیشتر بچے بری سوسائٹی کی وجہ سے گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 1.5ملین سے بے گھر بچے موجود ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ سٹریٹ چلڈرن کراچی میں ہیں۔ سندھ کی موجودہ حکومت ایسے بچوں کی بحالی کے لیے متعدد پراجیکٹ پر کام کر رہی ہیں۔ سندھ حکومت کے مطابق سٹریٹ چلڈرن کی بحالی کیلئے کراچی میں ایک ماڈل پروجیکٹ زیر تعمیر ہے جس میں ایسے بچے اور بچیوں کو تعلیم و تربیت سمیت دیگر تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ یہ پروجیکٹ 2013 تک مکمل کام شروع کردے گا۔ اس پر 314 ملین روپے خرچ ہونگے۔جبکہ آمدہ بجٹ میں بھی سندھ حکومت دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کے پروجیکٹ تعمیر کرنے کے لیے فنڈ مختص کر رہی ہے۔ کراچی میں یہ پروجیکٹ کورنگی نمبر 5 میں تعمیر کیا جارہا ہے۔اس وقت اس میں 300 بچے جن میں 200 لڑکے اور 100 لڑکیاں شامل موجود ہیں۔اس کے علاوہ ایک ایسا پراجیکٹ جیکب آباد، ایک کراچی میں شانتی نگر اور جھرک ٹھٹھہ میں تعمیر کیے گئے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s