کووّں کی حفاظت کا دن


منصور مہدی
آج کووّں کی حفاظت کا عالمی دن گلوبل گرین کمیونٹی کے زیر اہتمام منایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد نہ صرف شہروں سے کووّں کے خاتمے کو بچانا بلکہ دیگر پرندوں کی حفاظت کرنا ہے۔ کووّںکا اصل مسکن ایشیا ہے.لیکن اب یہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان،سری لنکا،نیپال،مالدیپ،جنوب مشرقی تھائی لینڈ،جنوبی ایران،بھارت اور بنگلہ دیش میں پایا جاتا ہے۔یہ انسانی آبادیوں کے نزدیک رہتے ہیں۔کووّں کا ایکا مشہور ہے اور یہ خطرے کی صورت میں کائیں کائیں کر کے آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور اپنے دوسرے ساتھی بھی بلا لیتا ہے جو کہ حفاظت کےلیے ادھر ادھر چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام دیگر پرندوں میں کوے کا آئی کیو سب سے زیادہ ہوتا ہے اس لیے اسے سب سے چالاک پرندہ مانا جاتا ہے۔ لیکن کوے میں ایک اور سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ کوا قناعت پسند اور ہر حال میں راضی رہنے والا پرندہ ہے۔کوے کو ایک انسان دوست پرندہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ شہری آبادی میں پھیلنے والے کوڑے کرکٹ اور دیگر گلی سڑی اشیاءکو بھی کھا جاتا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آتی ہے۔ لیکن اب شہروں میں اس کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک عالمی جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوا اور دیگر عام پرندوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ ان پرندوں کو رہنے کے لیے درکار ماحول کی تباہی ہے۔برڈ لائف انٹرنیشنل کے جائزے میں پتہ چلا ہے کہ یورپ میں پائے جانے والے عام پرندوں میں سے پینتالیس فیصد کی تعداد میں کمی ہوئی جبکہ آسٹریلیا میں کچھ اقسام میں یہ کمی اسّی فیصد تک دیکھی گئی ہے۔ جبکہ انٹرنیشنل یونین فارکنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے مطابق پاکستان میں 103 اقسام کے جانوروں کو خطرات کا سامنا ہے۔ جانوروں میں 23دودھ پلانے والے جانور، 25پرندوں کی اقسام ، 10رینگنے والے جانوروں کی جبکہ مچھلیوں کی 30اقسام کے علاوہ کیڑے مکوڑوں کی 15اقسام شامل ہیں۔جبکہ پاکستان میں موسم سرما میں دیگر خطوں سے آنے والے پرندوں کی تعداد میں پچاس فیصد سے زائد کمی آئی ہے جس کی ایک وجہ ان پرندوں کا بڑے پیمانے پر ہونے والا غیرقانونی شکار ہے اور پاکستان میں پانی کی کمی ہے۔پاکستان میں آنے والے یہ پرندے ہر سال چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل فاصلہ طے کر کے پہنچتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی صدیوں سے جاری ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانی کے ذخیروں، جھیلوں اور دریاﺅں میں صنعتی اور بلدیاتی فضلے کا اخراج، درختوں کی کٹائی، خشک سالی اور جھیلوں میں پانی کی کمی کے علاوہ ان پرندوں کے بسیروں کے اطراف صنعتی اور شہری تعمیرات بھی ایسے عوامل ہیں جو پرندوں کی تعداد میں کمی کا سبب بنے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s