بارودی سرنگوں کاعالمی دن


منصور مہدی
 آج 4اپریل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بارودی سرنگوں کے بارے میں شعور وآگہی کاعالمی دن منایاجا رہا ہے ۔ اس موقع پر مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے واک، تصویری اور دستاویزی فلموں کی نمائش، علمی مباحثے اور پریس کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں جنگ زدہ ممالک میں بچھائی گئی لاکھوں بارودی سرنگوں سے انسانی زندگیوں کودرپیش خطرات اوران سے بچنے کیلئے مختلف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے عالمی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی۔
اقوام متحدہ نے دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز ہتھیار پر پابندی اور اس کی ہلاکتوں سے عوام شعور بیدار کرنے کی غرض سے 2006کو اس حوالے سے پہلا عالمی دن منایا گیا۔بارودی سرنگیں ایک ایساہتھیار ہے کہ جو نہ صرف جنگ دوران ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے بلکہ جنگ ختم ہونے کے بعد زمانہ امن میں بھی ہلاکت خیزی پھیلاتا ہے۔اس ہتھیار کے شکار صرف مخالف افواج ہی نہیں معصوم شہری بھی ہوتے ہیں۔ جس سے دنیا کے 72ممالک متاثر ہیں۔ گذشتہ برس 4,191 افراد جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے ہلاک ہوئے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر ماہ اس سے 35سے 40افراد اس سے ہلاک یا زخمی ہو رہے ہیں جن میں 80فیصد عام شہری ہوتے ہیں۔اس ہتھیار کی ہلاکت انگیزی کی وجہ سے 1999 اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اس کے خاتمے کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوا جس میں 157ممالک شامل ہوئے۔ تاہم ابھی 37ممالک نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں سے 40فیصدنے بارودی سرنگوں کے خاتمے کیلئے ملکی سطح پر قانون سازی بھی کی ہے۔ ایشیاءمیں نیپال ایسا ملک ہے جو بارودی سرنگوں سے پاک ملک قراردیا جا چکا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز مائن ایکشن سروس کی رپورٹ کے مطابق 2013 تک افغانستان کو بھی بارودی سرنگوں سے پاک کردیا جائے گا ۔تاہم ابھی افغانستان، کمبوڈیا، کروشیا ، عراق اور سری لنکا میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام جاری ہے اور ان ممالک سے اب تک 388000بارودی سرنگیں ضائع کی جا چکی ہیں۔ جبکہ اس صفائی کے دوران 27000بارودی سرنگیں صاف کرنے والی گاڑیاں تباہ ہوئی۔
پاکستان اور بھارت سمیت بعض دیگر ممالک میں اب بھی غیر ریاستی عناصر بارودی سرنگوں کا استعمال کرتے ہیں اور اب بھی 12ممالک جن میں چین ،کیوبا، بھارت، ایران، میانمار، شمالی کوریا، پاکستان، روس، سنگاپور، جنوبی کوریا، ویتنام اور امریکہ شامل ہیں میں سرکاری سطح پر سرنگوں کی پیداوار جاری ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s